اتراکھنڈ: لاپتہ افراد کے ورثاء کو معاوضہ

سیلاب میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور عزیز اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں
،تصویر کا کیپشنسیلاب میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور عزیز اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ سیلاب کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والے 5700 افراد کو اب مردہ مان کے ان کے ورثاء کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

اس سے پہلے حکام اتراکھنڈ میں شدید بارشوں اور سیلاب میں 600 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔

اترا کھنڈ میں بی بی سی کی نامہ نگار یوگتیا لیمائے کا کہنا ہے کہ 5748 افراد کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہو سکا اس لیے اب انھیں ہلاک تصور کیا جائے گا اور حکومت ورثا ءکو معاوضہ ادا کرے گی۔

ریاست کے وزیراعلیٰ وجے بہوگنا کا کہنا ہے کہ حکومت لاپتہ افراد کے ورثاء کو سند جاری کرے گی تاکہ وہ فوری پر معاوضہ حاصل کر سکیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مردہ تصور کیے جانے والے ہر فرد کے اہلخانہ کو پانچ لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

اترا کھنڈ میں ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اہم زیارت گاہیں ہیں
،تصویر کا کیپشناترا کھنڈ میں ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اہم زیارت گاہیں ہیں

حکام کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی اصل تعداد کے بارے میں شاید ہی کبھی معلوم ہو سکے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں تباہی سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ جلد ہی لگا لیا جائے گا اور اس کی بنیاد پر ریاستی بھارتی حکومت کو رپورٹ بھیجی جائے گی۔

اس سے پہلے حکومت کے آفات سے نمٹنے والے محکمے نے 580 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی اور بقول پولیس 150 نامعلوم لاشوں کو اجتماعی طور پر نذر آتش کیا جا چکا ہے۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گگوتري، يمنوتري اور بدری ناتھ کے لیے سفری سہولیات ستمبر کے آخر میں بحال کر دی جائیں گی۔