’بچ تو گئے مگر گھر نہیں لوٹے‘

بھارتی ریاست اترکھنڈ کی تباہی میں طوفانی بارشوں اور سیلاب میں وہ لوگ خوش قسمت رہے جنھیں وہاں سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا، تاہم ’بچائے گئے‘ بعض افراد ابھی تک اپنے گھروں تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔
ان لوگوں کے لواحقین اس صورتِ حال پر مایوس اور برہم ہیں لیکن حکومت اس تمام معاملے سے ہاتھ جھاڑ کر الگ ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
حکومت نے اب تک 5350 ایسے افراد کی فہرست دی ہے جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل پایا۔ اب اس آفت کے دوران لاپتا ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے بنائے گئے خصوصی ’مِسنگ سیل‘ کو بند کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ کہاں گئے جو تباہی کے بعد مبینہ طور پر بچائے لیے گئے تھے لیکن گھروں کو لوٹ نہیں سکے۔
امیٹھی کے سریندر دوبے گذشتہ تین ہفتوں سے اپنے ماں باپ کی تصاویر لیے دہرادون میں سرکاری دفتروں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گئے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں: میرے ماں باپ، بدری پرساد دوبے اور ویودھن دوبے کیدار سیر کے لیے گئے تھے۔ 16 جون کو ان سے آخری بار بات ہوئی تھی۔ اس دن انھوں نے بتایا تھا کہ بہت بارش ہو رہی ہے، کہ پھر یہ سانحہ ہو گیا۔ ہم نے ان کی رپورٹ لکھا دی تھی اور تلاش خبر کر رہے تھے کہ 22 جون کو ہمیں رودرپرياگ سے فون آیا۔ کسی سرکاری افسر نے کہا کہ آپ کے ماں باپ کو بچا کر وہاں سے نکال لیا گیا ہے اور ان کو بس میں بٹھا دیا گیا ہے۔ لیکن وہ اب تک لوٹ کر نہیں آئے ہیں۔ بتائیے انہیں کہاں ڈال دیا گیا ہے۔‘
امیٹھی کے سریندر دوبے بھی تین ہفتوں سے اترکھنڈ سیلاب میں لاپتا ہونے والے اپنے والدین کی تلاش میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی بات کے ثبوت میں وہ سرکاری دستاویزات بھی دکھاتے ہیں۔ اتراکھنڈ سرکار کی فہرست میں ان کو ’ریسكيوڈ‘ یعنی بچایا ہوا بتایا گیا ہے اور اتر پردیش میں ضلع دفتر میں بچائے ہوئے لوگوں کی فہرست میں بھی 30 اور 31 نمبر پر ان کا نام لکھا ہوا ہے۔
امیٹھی کے ہی ابھیشیک کے مطابق ان کے ماں باپ 41 افراد کے ساتھ آئے تھے۔ ان میں سے صرف ایک شخص زندہ گھر لوٹا ہے۔
ابھیشیک کہتے ہیں: ’زندہ لوٹنے ہوئے شخص نے بتایا کہ فوج کے جوانوں نے ہیلی کاپٹر سے ان سے پہلے نکالا کیونکہ ان کی حالت انتہائی خراب تھی اور باقی لوگ ٹھیک تھے اس لیے انہیں بعد میں نکالنے کی بات کی گئی لیکن ان ٹھیک ٹھاک بتائے جا رہے لوگوں میں کوئی بھی گھر نہیں لوٹا ہے۔‘
ابھیشیک سوال کرتے ہیں: ’اب حکومت ہی بتائے کہ جو 22 جون تک زندہ تھے وہ کیسے مر گئے، کس طرح لاپتا ہو گئے۔ اس کے بعد تو کوئی آفت نہیں آئی ہے۔‘
ہمیں معاوضہ نہیں چاہیے۔ حکومت بتائے کہ وہ کیوں ڈھونڈ نہیں پا رہی ہے۔ کیا اس کے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہیں؟‘
ادے پور میں موہن لال سكھاڑيا یونیورسٹی میں پروفیسر ڈاکٹر ونیت سونی کے ماں باپ گیتا سوركار اور ڈاکٹر پيارےلال سوركار اپنے پڑوسی اہلیہ کے ساتھ کیدار آئے تھے۔
ونیت سونی نے ادے پور سے فون پر بتایا: ’حادثے کے بعد میں جليگراٹ ایئر پورٹ پر اپنے ماں باپ کی تصاویر کے ساتھ ان کے انتظار میں کھڑا تھا۔ وہاں ہیلی کاپٹر لوگوں کو لے کر آ رہے تھے۔ انھی میں سے ایک ہیلی کاپٹر سے لائے گئے گونڈا کے دیوكيندن شکلا نے میری ماں اور پاپا کو فوری طور پر پہچان لیا اور کہا کہ ہم لوگ پانچ دن تک جگل چٹٹی میں ساتھ تھے۔ میری طبیعت خراب تھی اس لیے ہمیں ہیلی کاپٹر سے لایا گیا جبکہ بتا گیا کہ ان کو سڑک کے راستے سے نکال رہے ہیں۔‘
ونیت بتاتے ہیں کہ ان کی ماں کو 21 جون کو جگل چٹٹی سے فوج کے جوانوں نے نکالا اور سون پرياگ میں گاڑی میں بٹھا دیا کیونکہ یہ صحت مند تھے۔ ایک ٹیلی ویژن چینل کے 21 جون کے ویڈیو میں بھی ان کی ماں دکھ رہی ہیں۔
بقول ونیت جب ان کی ماں کے گھر نہیں آئیں تو وہ گپت كاشي اور فاٹا تک گئے اور ان کی ان دونوں جوانوں سے بھی ملاقات ہوئی جو ویڈیو میں ان کی ماں کو پکڑ کر لاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کے نام مانویدر سنگھ اور سریندر سنگھ ہیں۔ انھوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی ماں ٹھیک حالت میں تھیں اور انہیں گاڑی میں بٹھا دیا گیا تھا۔ وہاں کے ریکارڈ میں ان کی ماں ہی نہیں آنٹی وملا دیوی کا نام بھی ’ریسكيوڈ‘ لوگوں میں ہے۔
ونیت کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس کوئی درست اعداد و شمار نہیں ہیں اور اتراکھنڈ سرکار کے افسر اور وزیر اس طرح سے بات کرتے ہیں جیسے میں ان سے سالوں پہلے کی بات پوچھ رہا ہوں۔
ڈاکٹر ونیت سونی کا دعویٰ ہے کہ ’جتنے لوگ آفت میں نہیں مرے گا اس سے زیادہ اتراکھنڈ سرکار کی بدانتظامی اور لاپروائی سے ہلاک ہوئے ہوں گے۔ اس بات کی تحقیقات کروائی جانی چاہئے کہ فوج نے تو متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکال کر اپنا کام کر دیا لیکن اس کے بعد مقامی انتظامیہ نے اس قدر لاپروائی کا مظاہرہ کیوں کیا؟‘
دراصل فوج کی امدادی مہم میں پہلے زخمی اور بیمار لوگوں کو پھر عورتوں اور بچوں کو نکالا گیا ۔ اس کے باعث جس سے بہت سے لوگ اپنے خاندانوں سے کٹ کر رہ گئے تھے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور چیف سکریٹری سبھاش کمار یہی کہتے رہے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو نکال دیا اور پھر وہ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ سیلاب، بارش اور بھاری اکثریت کی تباہی کے درمیان زندگی اور موت سے جدوجہد کرنے والے لوگ، خاص طور پر خواتین اور بزرگوں کی ذہنی حالت کیا ایسی رہی ہوگی کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جانا چاہیے تھا؟
سرکاری مشینری کے پاس اب ایک ہی جواب ہے کہ فہرست بنائی جا رہی ہے، تصدیق کی جا رہی ہے اور لاپتا افراد کا سراغ لگانے کا کام ابھی جاری رکھا جائے گا۔ لیکن اس سے لواحقین کی تسلی ہو سکتی ہے؟







