اترا کھنڈ: تباہ کن سیلاب کے ایک سال بعد

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں گذشتہ سال آج ہی کے دن آنے والے تباہ کن سیلاب نے ہزاروں جانیں لے لی تھیں جبکہ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے تھے۔

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں گذشتہ سال آج ہی کے دن آنے والے تباہ کن سیلاب نے ہزاروں جانیں لے لی تھیں جبکہ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے تھے۔ ایک سال پورا ہونے پر مانسی تھپلیال نےاس علاقے کا دورہ کیا جہاں ہندو مذہب کا مقدس مندر کیدارناتھ ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں گذشتہ سال آج ہی کے دن آنے والے تباہ کن سیلاب نے ہزاروں جانیں لے لی تھیں جبکہ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے تھے۔ ایک سال پورا ہونے پر مانسی تھپلیال نےاس علاقے کا دورہ کیا جہاں ہندو مذہب کا مقدس مندر کیدارناتھ ہے۔
16 جون 2013 کا دن اتراکھنڈ کے لیے تباہی کا ایسا منظر لے کر آیا، جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشن16 جون 2013 کا دن اتراکھنڈ کے لیے تباہی کا ایسا منظر لے کر آیا، جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔
بادل پھٹنے سے منداکنی اور اسی گنگا کے بندھ ٹوٹ گئے۔ جو اس سیلاب کی زد میں آیا وہ اسی میں گم ہو گیا۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ایک سال بعد بھی 500 سے 700 افراد روزانہ درشن کے لیے وہاں جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبادل پھٹنے سے منداکنی اور اسی گنگا کے بندھ ٹوٹ گئے۔ جو اس سیلاب کی زد میں آیا وہ اسی میں گم ہو گیا۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ایک سال بعد بھی 500 سے 700 افراد روزانہ درشن کے لیے وہاں جاتے ہیں۔
یہاں پھیلی ہوئی خامشی میں جہاں گذشتہ سال کا کرب ہے وہیں دوبارہ زندگی کی رمق کی نمو بھی نظر آتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہاں پھیلی ہوئی خامشی میں جہاں گذشتہ سال کا کرب ہے وہیں دوبارہ زندگی کی رمق کی نمو بھی نظر آتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق ابھی تک پانچ ہزار افراد لا پتہ ہیں۔
،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق ابھی تک پانچ ہزار افراد لا پتہ ہیں۔
ایک عقیدت مند خاتون ایک پتھر کے سامنے دیکھی جا سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس پتھر کی وجہ سے سیلاب کے پانی نے راستہ بدلا تھا اور کیدارناتھ مندر بچ گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنایک عقیدت مند خاتون ایک پتھر کے سامنے دیکھی جا سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس پتھر کی وجہ سے سیلاب کے پانی نے راستہ بدلا تھا اور کیدارناتھ مندر بچ گیا تھا۔
صدیوں سے یہاں ہندو عقیدت مند آتے رہے ہیں اور ان کے عقیدے کے مطابق یہاں ان کے بھگوان وشنو اور شیو رہا کرتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنصدیوں سے یہاں ہندو عقیدت مند آتے رہے ہیں اور ان کے عقیدے کے مطابق یہاں ان کے بھگوان وشنو اور شیو رہا کرتے تھے۔
تباہی کے دوران کیدار ناتھ کی تمام پختہ دکانیں بہہ گئیں تھیں۔ اب عارضی طور پر کچھ دکاندار وہاں چارپائیوں پر سامان رکھے نظر آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتباہی کے دوران کیدار ناتھ کی تمام پختہ دکانیں بہہ گئیں تھیں۔ اب عارضی طور پر کچھ دکاندار وہاں چارپائیوں پر سامان رکھے نظر آتے ہیں۔
نو سالہ انیتا اس چائے خانے کو چلانے میں اپنی ماں کی مدد کرتی ہے۔ سیلاب سے قبل ان کا گیسٹ ہاؤس ہوا کرتا تھا جو اب نہیں رہا۔ اس کے والد کا دماغی توازن اس قابل نہیں کہ وہ کوئی کام کرسکیں۔
،تصویر کا کیپشننو سالہ انیتا اس چائے خانے کو چلانے میں اپنی ماں کی مدد کرتی ہے۔ سیلاب سے قبل ان کا گیسٹ ہاؤس ہوا کرتا تھا جو اب نہیں رہا۔ اس کے والد کا دماغی توازن اس قابل نہیں کہ وہ کوئی کام کرسکیں۔
عقیدت مندوں کی تعداد میں زبردست کمی آئی ہے تاہم لوگ پھر سے ادھر کا رخ کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنعقیدت مندوں کی تعداد میں زبردست کمی آئی ہے تاہم لوگ پھر سے ادھر کا رخ کر رہے ہیں۔
راستے دشوار گذار ہیں کیونکہ گذشتہ سال کے سیلاب میں سڑکیں بہہ گئیں تھیں۔
،تصویر کا کیپشنراستے دشوار گذار ہیں کیونکہ گذشتہ سال کے سیلاب میں سڑکیں بہہ گئیں تھیں۔
راستوں کو پھر سے تیار کرنے کا کام جاری ہے، لیکن اس کی رفتار کافی سست بتائی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنراستوں کو پھر سے تیار کرنے کا کام جاری ہے، لیکن اس کی رفتار کافی سست بتائی جا رہی ہے۔
وہاں آنے والے زائرین کے لیے منتظمہ کمیٹی نے عارضی رہائشی انتظامات کیے ہیں تاہم تعداد پہلے کے مقابلے نہ کے برابر ہے۔
،تصویر کا کیپشنوہاں آنے والے زائرین کے لیے منتظمہ کمیٹی نے عارضی رہائشی انتظامات کیے ہیں تاہم تعداد پہلے کے مقابلے نہ کے برابر ہے۔