سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 139، نو لاکھ متاثر

لاہور کے مضافات میں ایک خاندان کسی محفوظ مقام پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے
،تصویر کا کیپشنقدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق بارشوں سے 931,074 افراد متاثر ہوئے ہیں

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک 139 افراد ہلاک جبکہ متاثرین کی تعداد نو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

این ڈین ایم اے کی ویب سائٹ پر جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 47، خیبر پختونخوا میں 24، سندھ میں 34، بلوچستان میں 18 ، قبائلی علاقہ جات میں 12 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اب تک 4 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب میں سب زیادہ نقصان صوبہ پنجاب میں ہے جبکہ نقصان کے لحاظ سے صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔

این ڈین ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 804 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں 748 افراد پنجاب سے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق بارشوں سے 931,074 افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں پانچ لاکھ سے زائد متاثرین کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

این ڈین ایم اے کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے اب تک 3826 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دیہات صوبہ سندھ میں ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق صوبہ سندھ کے 2,130 ، صوبہ پنجاب کے 1,339، صوبہ بلوچستان کے 342 اور صوبہ خیبر پختونخوا کے 15 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے 13,262 مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 22,072 مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔

بارشوں اور سیلاب سے کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوئیں ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق صوبہ پنجاب میں 340,954 ایکڑ، صوبہ سندھ میں 87,388 ایکڑ، بلوچستان میں 63,969 اور صوبہ خیبر پختونخوا میں 4,279 ایکڑ اراضی پر فصلیں تباہ ہو گئیں ہیں۔

حالیہ بارشوں سے مویشیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور اس سلسلے میں زیادہ نقصان صوبہ بلوچستان میں ہوا جہاں این ڈی ایم اے کے مطابق 4,555 مویشی ہلاک ہوئے۔

بارشوں اور سیلاب سے متاثر افراد کی مدد کے لیے ملک کے مخلتف حصوں میں 243 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں 155 کیمپ صوبہ پنجاب، 84 کیمپ صوبہ سندھ اور 4 کیمپ صوبہ بلوچستان میں قائم کیے گئے ہیں۔

پنجاب کے وزیرِاعلیٰ میاں شہباز شریف نے بدھ کو صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا جہاں انھوں نے سیلاب کی صورتِحال اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔

یاد رہے کہ ملک میں 2010 میں آنے والے سیلاب کے دوران ساڑھے آٹھ سو ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا اور درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ دو کروڑ سے زیادہ افراد کو غذائی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔