بارش سے نالہ لئی کی سطح خطرناک حد تک بلند

پاکستان کے جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں پیر کی صبح شدید بارش ہوئی ہے جس سے نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔
اس کے علاوہ تیز آندھی سے بہت سے درخت جڑ سے اکھڑ گئے ہیں۔
ریڈیو پاکستان نے محکمۂ موسمیات کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 190 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
سرکاری ریڈیو نے امدادی کارکنوں کے حوالے سے بتایا کہ راولپنڈی کے نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔
امدادی کارکنوں کا کہنا تھا کہ نالہ لئی کے قرب و جوار میں رہنے والے مکینوں کو سیلاب کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں۔
<link type="page"><caption> پاکستان بھر میں بارشوں اور سیلاب کی پیش گوئی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130812_weather_warning_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 23.46 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر پانی کی سطح 15.94 فٹ پر پہنچ گئی ہے۔
پاکستان کی سرکاری ٹی وی کے مطابق نالہ لئی میں طغیانی سے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔
راول ڈیم سے اضافی پانی کے اخراج کے کے لیے سپل ویز کھول دیے گئے ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ ٹریفک بھی جام ہو گیا۔جڑواں شہروں میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اٹھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پیر کو ملک بھر میں منگل سے بارشوں اور سیلاب کی پیش گوئی کی تھی۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں ملا کنڈ، ہزارہ، مردان، پشاور، راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب، سبی اور نصیر آباد کے تمام اضلاع میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔
ادارے کے مطابق تمام صوبائی اور دیگر اداروں کو نشیبی علاقوں، دریاؤں، ندی نالوں کی گذر گاہوں اور قریبی علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں تھیں۔
این ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں اور آبی گذر گاہوں میں رہائش پذیر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی تھی۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان لطیف الرحمان نے پیر کو بتایا تھا کہ انھوں نے تمام متعلقہ علاقوں میں انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی وارننگ جاری کر دی ہے اور ضلعی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
پشاور میں بڈھنی نالے، ناصر باغ شاہ عالم اور بخشو پل کے قریب آبادی کو خبردار کر دیا گیا ہے تاکہ پانی کا بہاؤ بڑھ جانے پر وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکیں۔
یاد رہے دو ہفتے پہلے بارشوں سے پشاور کے بڈھنی نالے میں طغیانی آنے سے نشاط مل میں ایک سو سے زیادہ مکانات سیلابی ریلے سے تباہ ہو گئے تھے اور صوبے کے مخِتلف علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







