ڈھاکہ میں جھڑپیں، ’دس محصور پاکستانی ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہGetty
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک پناہ گزین کیمپ میں رہنے والے بہاری افراد اور مقامی لوگوں کے درمیان سنیچر کو جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس تصادم میں ہلاک ہونے والوں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور وہ تمام بہاری ہیں۔
واضح رہے کہ سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد وہیں رہ جانے والے بہاری افراد پر پاکستان کے حامی ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق جمعہ کو مذہبی تہوار کے دوران پٹاخے چلانے سے یہ جھگڑا شروع ہوا۔
خبر رساں ایجنسی ایف پی کے مطابق میر پور کے پولیس کمشنر کمال حسین نے بتایا کہ اس علاقے میں کئی دنوں سے کشیدگی تھی، لیکن ہفتہ کی صبح جھڑپیں ہونے لگیں۔
بہاری برادری کے ایک رہنما محمد شاہجہاں نے اے ایف پی کو بتایا ’تقریباً 500 بنگالی لوگ آئے جن کے ہاتھوں میں چھرے، تیز دھار ہتھیار اور ڈنڈے تھے۔ انہوں نے چار پانچ مکانوں کو باہر سے بند کر دیا اور اس کے بعد ان میں آگ لگا دی۔‘
بنگلہ دیش میں لگ بھگ 3 لاکھ بہاری موجود ہیں اور کوئی شہریت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں غریب الوطن یا ’محسور پاکستانی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بنگلہ دیش اور پاکستان کی طرف سے ان لوگوں کو حقوق شہریت نہیں دیے گئے۔



