بھارت: دھماکے میں سات پولیس اہلکار ہلاک

بھارت کی کئی ریاستوں میں ماؤنواز باغی جنھیں نکسلی بھی کہتے ہیں وہ حکومت سے برسرپیکار ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبھارت کی کئی ریاستوں میں ماؤنواز باغی جنھیں نکسلی بھی کہتے ہیں وہ حکومت سے برسرپیکار ہیں

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے گڑھ چرولي ضلع میں مشتبہ ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے بچھائی گئی ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں کم سے کم سات پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہیں۔

یہ واقعہ اتوار کی صبح پیش آیا۔ زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ناگپور کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کی کئی ریاستوں میں ماؤ نواز باغی جنھیں نکسلی بھی کہتے ہیں وہ حکومت سے برسرپیکار ہیں۔

ماؤ نواز باغیوں کے خلاف مہم کے لیے پولیس کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آر کے وج نے بتایا: ’ہمارے پاس گڑھ چرولی سے جو اطلاعات آئی ہیں ان کے مطابق چمورسي علاقے میں پولیس کی ایک ٹیم نکسلیوں کے خلاف مہم کے بعد واپس لوٹ رہی تھی کہ اچانک ایک بارودی سرنگ دھماکہ ہوا۔‘

وسطی ریاست چھتیس گڑھ کی سرحد سے ملحق مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلعے کو ماؤنواز باغیوں کے زیر اثر علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ چھتیس گڑھ کے كانكیر اور راج ناندگاؤں اضلاع سے متصل ہے۔

وج نے بتایا کہ ’اس واقعہ میں سات پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہیں۔‘

اس واقعہ کے بعد علاقے میں تلاش کی مہم کو تیز کر دیا گیا ہے۔

دو سال قبل مارچ سنہ 2012 میں اسی علاقے میں ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے کے نتیجے میں بھارت کے نیم فوجی دستے سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 15 اہلکار ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوگئے تھے۔

بھارت میں انتخابات کے دوران پڑوسی ریاست چھتیس گڑھ میں شتبہ ماؤ نواز باغیوں کے دو حملوں میں مجموعی طور پر 12 افراد مارے گئے جن میں زیادہ تر پولیس اہلکار شامل تھے۔