ججوں اور جیلروں کو ماؤ نوازوں کی دھمکی

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کے ماؤ نواز باغیوں نے ریاست چھتیس گڑھ کی عدالتوں کے ججوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ صرف پولیس کی گواہی کو بنیاد بناتے ہوئے سزا سنانے سے گریز کریں ورنہ عوامی عدالتوں میں سزا بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔
ماؤ نواز تنظیم کا کہنا ہے کہ ججوں کے اس طرزِ عمل کی وجہ سے ملزمان کو اپنی صفائی دینے کا موقع نہیں مل پاتا۔.
تنظیم نے جیل کے حکام کے لیے بھی اسی طرح کی وارننگ جاری کی ہے۔
بی بی سی ہندی کے سلمان راوی کے مطابق تنظیم کی زونل کمیٹی کے ترجمان گڈسا اسیڈي نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بغیر گواہی، فرضی یا پولیس گواہان کی بنیاد پر طویل سزائیں سنانے والے عوام مخالف ججوں کو ہم خبردار کرتے ہیں کہ وہ عوامی عدالتوں میں سزا بھگتنے کو تیار رہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’جیل میں قیدیوں پر ظلم کرنے والے بدعنوان جیل حکام کو بھی ہم آگاہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے رویے کو بہتر بنائیں ورنہ عوامی عدالت میں سنگین سزائیں بھگتیں گے۔‘
تنظیم نے 29 مارچ کو چھتیس گڑھ کے علاقے دڈكاري میں ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہڑتال کے دوران جلسے، جلوس منعقد ہوں گے اور دھرنا دیا جائے گا۔
ماؤ نواز باغیوں کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے،’بڑے سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والی مرکزی اور ریاستی حکومت کی طرف سے بڑے ڈیموں، فیکٹریوں اور کان کنی کے منصوبوں کے لیے عوام کی زمین اور جنگل پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان کے مطابق، ’اس سے ہونے والے نقل مکانی کے خلاف جاری عوامی جدوجہد اور ترقی پسند عوامی تحریکوں کے دوران زبردستی گرفتار کر کے اور فرضی مقدموں میں پھنسا کر لوگوں کو جیلوں میں بند کرنے کا سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘
باغیوں کا کہنا ہے کہ چھتیس گڑھ کی پانچ مرکزی جیلوں میں ہزاروں ایسے لوگ بند ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ قبائلی ہی ہیں۔
ماؤ نواز باغیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عوام کو ’زبردستی جیلوں میں سڑانے کی سازش‘ کے تحت ہی جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے اور ساتھ ہی ’ایسكارٹ‘ نہ ہونے کا بہانہ کر کے انتظامیہ ان لوگوں کو عدالتوں کے سامنے پیش بھی نہیں کرتی ہے۔
خیال رہے کہ ریاست چھتیس گڑھ بھارت میں ماؤ نوازوں کی سرگرمیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے اور یہاں ماؤ نوازوں کے حملوں اور پولیس سے ان کے تصادم میں سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔







