دیويانی كھوبراگڑے کے خلاف الزامات مسترد

دیوانی کھوبراگڑے کو حراست میں لیے جانے اور ان کی برہنہ تلاشی کے بعد بھارت اور امریکہ میں سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندیوانی کھوبراگڑے کو حراست میں لیے جانے اور ان کی برہنہ تلاشی کے بعد بھارت اور امریکہ میں سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی

نیو یارک کی ایک عدالت نے بھارتی سفارت کار دیويانی كھوبراگڑے کے خلاف لگے دھوکہ دہی کے الزامات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ جس وقت فردِ جرم عائد ہوئی انہیں سفارتی استثنٰی حاصل تھا۔

دیويانی کو ویزا دھوکہ دہی اور نیو یارک میں اپنی گھریلو ملازمین کو کم تنخواہ دینے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

مین ہیٹن کی ایک عدالت نے کہا کہ جس وقت دیويانی كھوبراگڑے پر ویزا میں دھوکہ دہی اور اپنی گھریلو ملازم کی تنخواہ کے حوالےسے غلط بيانی کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کیا گیا اس وقت انہیں سفارتی استثنٰی حاصل تھا۔

اس فیصلے پر دیويانی کے والد نے بے حد خوشی کا اظہار کیا ہے اور بی بی سی سے بات چیت میں کہا ’یہ ہماری زندگی کا سب سے پر سکون لمحہ ہے۔ میں پہلے سے ہی بول رہا تھا کہ یہ پورا معاملہ جھوٹا ہے۔‘

امریکہ میں دیويانی کے وکیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا، ’ہم اس بات سے خوش ہیں کہ عدالت نے ہمارے قانونی تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے اس معاملے میں استغاثہ کی دلیلوں کو مسترد کر دیا ہے۔‘

انہوں نے کہا، ’ڈاکٹر كھوبراگڑے خوش ہیں کہ قانون پر عمل ہوا ہے اور وہ اپنے ملک کی خدمت کرتے رہنا چاہتی ہیں۔‘

تو کیا اس کا مطلب ہوا کہ دیويانی كھوبراگڑے اپنے ذاتی دورے پر دوبارہ امریکہ واپس لوٹ سکتی ہیں؟

واشنگٹن میں بی بی سی برجیش اپادھیائے سے بات کرتے دیويانی کے وکیل ڈین ارشیك نے کہا، ’ان کے لیے میرا مشورہ ہوگا کہ وہ آنے والے مہینوں میں دہلی کا ہی لطف اٹھائیں۔‘

دیويانی کے وکیل کے مطابق تکنیکی طور پر یہ معاملہ ختم نہیں ہوا ہے اور اس کی دوبارہ شروعات ہو سکتی ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ فیصلہ جارحانہ اور غیر ضروری ہوگا۔

دیویانی کو ویزا فراڈ اور اپنی نوکرانی کو انتہائی کم اجرت دینے کے الزامات میں 13 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور فردِ جرم عائد ہونے کے بعد ملک چھوڑنے کو کہا گیا۔

دیویانی کھوبرا گڑے نے بھارت روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ بے گناہ ہیں اور وہ یہ سچ سب کو بتانا چاہتی ہیں۔

دیویانی کھوبراگڑے کا تبادلہ دہلی کر دیا گیا اور وہ بھارت لوٹ آئیں تاہم ان کے شوہر اور بچے ابھی امریکہ ہی میں ہیں۔

دیویانی كھوبراگڑے کو ان کی نوکرانی سنگیتا رچرڈز کی طرف سے شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ کو قانون کے مطابق اجرت نہیں ادا کر رہی تھیں۔

بھارت اپنی خاتون سفارت کار کو گرفتاری کے بعد ہتھکڑی لگانے، ان کی برہنہ تلاشی اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

بھارت نے اس سلسلے میں امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے متعدد احتجاجی اقدامات کیے ہیں۔