امریکی سفارت کار کے بھارت چھوڑنے کی تصدیق

بھارت اور امریکہ کے درمیان سفارتی کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور جمعہ کو بھارت کے کہنے پر امریکہ نے دہیل سے اپنے ایک سفارت کار کو واپس بلانے کی تصدیق کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس پر افسوس کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی اب یہ معاملہ ختم ہو جانا چاہیے۔
اس سے قبل بھارت نے امریکہ سے اپنی سفارتکار دیویانی کھوبراگڑے کو نکالے جانے پر نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے ایک اہلکار کو ملک چھوڑنے کے لیے کہا تھا۔
دیویانی کو ویزا فراڈ اور اپنی نوکرانی کو انتہائی کم اجرت دینے کے الزامات میں 13 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور فردِ جرم عائد ہونے کے بعد ملک چھوڑنے کو کہا گیا اور وہ اب امریکہ چھوڑ چکی ہیں۔
دیویانی کھوبرا گڑے نے بھارت روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ بے گناہ ہیں اور وہ یہ سچ سب کو بتانا چاہتی ہیں۔
بھارت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ کھوبراگڑے کے برابر عہدہ رکھنے والے اپنے ایک سفارت کار کو واپس بلا لے۔
ایک اور رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک حکومتی اہلکار نے کہا ہے کہ جس اہلکار کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے وہ دیویانی کے مقدمے سے متعلق تھا تاہم اس اطلاع کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
بھارت میں امریکی سفارت خانے نے تاحال ان اطلاعات پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل امریکی انتظامیہ کے ایک اہل کار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’امریکہ نے ایک دوست ملک ہونے کے ناطے بھارت کی جانب سے دیویانی کھوبراگڑے کو استثنیٰ دینے کی درخواست منظور کی ہے۔ جس کے بعد امریکہ نے بھارت سے کہا تھا وہ خود اس استثنٰی کو ختم کرے تاکہ امریکہ کھوبراگڑے کے خلاف مقدمے کی کارروائی کر سکے۔ تاہم بھارت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔‘

اہل کار کے مطابق بھارت کے انکار کے بعد امریکہ نے دیویانی کھوبراگڑے سے امریکہ چھوڑنے کی درخواست کی۔
دیویانی کھوبراگڑے کا تبادلہ دہلی کر دیا گیا ہے اور وہ بھارت لوٹ آئی ہیں تاہم ان کے شوہر اور بچے ابھی امریکہ ہی میں ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے اہل کار کے مطابق چونکہ دیویانی کے شوہر امریکی شہری ہیں اس لیے یہ معاملہ ابھی پوری طرح سے ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
بھارتی دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ بھارتی سفارتکار بھارت کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔
دیویانی كھوبراگڑے کو ان کی نوکرانی سنگیتا رچرڈز کی طرف سے شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ کو قانون کے مطابق اجرت نہیں ادا کر رہی تھیں۔
بھارت اپنی خاتون سفارت کار کو گرفتاری کے بعد ہتھکڑی لگانے، ان کی برہنہ تلاشی اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
بھارت نے اس سلسلے میں امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے متعدد احتجاجی اقدامات کیے ہیں۔







