نیویارک میں بھارتی سفارت کار کے خلاف مظاہرہ

امریکی شہر نیویارک میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم مقامی تنظیموں اور گھریلو کارکنوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے بھارتی قونصل خانے کے سامنے بھارتی سفارت کار دیوياني كھوبراگڑے کے ہاتھوں ان کی گھریلو ملازمہ کے مبینہ استحصال کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔
دیویانی كھوبراگڑے پر الزام ہے کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ سنگیتا رچرڈز کو قانون کے مطابق اجرت ادا نہیں کر رہی تھیں اور ان کی ویزا کی درخواست کے سلسلے میں بھی کچھ بےقاعدگیاں کی گئی تھیں۔
بھارتی سفارت کار نے اپنے خلاف لگائے گئے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اس وقت ضمانت پر ہیں
بھارت دیویانی کی گرفتاری کے بعد انھیں ہتھکڑی لگانے، ان کی برہنہ تلاشی اور ان سے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے اس معاملے پر افسوس تو ظاہر کیا ہے تاہم امریکی وزارتِ خارجہ نے بھارتی دباؤ کے باوجود دیویانی كھوبراگاڑے پر عائد الزامات واپس نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
جمعہ کو ہونے والے مظاہرے کا انتظام امریکہ کے ’نیشنل ڈومیسٹك ورکرز الائنس‘ نے کیا تھا اور اس میں ایک درجن سے زیادہ تنظیموں کے ارکان نے شرکت کی۔
یہ مظاہرین گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاروں کو دی جانے والی خصوصی رعایت ختم کی جانی چاہیے اور بھارتی سفارت کار کو ملازمہ کے مبینہ استحصال پر بھارتی حکومت کی جانب سے بھی سزا دی جانی چاہیے۔

مظاہرین نے بینر اور پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے جن پر دیویانی کی ملازمہ سنگیتا رچرڈ اور گھریلو ملازمین کے حق میں نعرے تحریر تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بھارت میں بھی گھریلو ملازمین کے حقوق کو عوامی طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے اور بین الاقوامی لیبر تنظیم کے كنونشن -189 کو بھی وہاں سرکاری طور پر منظوری ملنی چاہیے۔
اجتجاج میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں اور ان میں سے کچھ ایسی خواتین بھی تھیں جو دیگر ممالک سے امریکہ آنے کے بعد گھریلو کام کاج کرتی رہی تھیں۔
ایسی ہی ایک ایک بنگلہ دیشی نژاد خاتون کا کہنا تھا کہ ’ہم بہت خوش ہیں اور آج امریکی وزارت خارجہ کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔ بھارتی سفارتکار کو دو گھنٹے کے لیے گرفتار کیا گیا تو پوری دنیا میں ہنگامہ مچ گیا، لیکن گھریلو کارکن سالوں تک استحصال جھیلتے رہتے ہیں، ان کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔‘
دیویانی کھوبرا گڑے امریکہ میں بھارتی سفارتخانے میں نائب قونصل جنرل کے طور پر کام کر رہی تھیں اور انھیں گذشتہ ہفتے نیویارک میں حراست میں لیا گیا تھا۔
عدالتی دستاویز کے مطابق سنہ 2012 میں گھریلو ملازمہ کے ویزے کے حصول کے لیے انھوں نے جو دستاویزات پیش کی تھیں ان میں کہا گیا کہ اسے امریکی قانون کے مطابق 4500 ڈالر تنخواہ دی جائے گی لیکن حقیقت میں اسے 600 ڈالر سے بھی کم تنخواہ دی جا رہی تھی۔







