بھارت امریکہ پر برہم، امریکی کانگریس کے وفد سے ملاقات سے انکار

كھوبراگاڑے پر ویزا میں دھوکہ دہی اور غلط بیان دینے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنكھوبراگاڑے پر ویزا میں دھوکہ دہی اور غلط بیان دینے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

امریکہ میں بھارتی سفارت کار کی گرفتاری پر بھارت نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی ہوائی اڈوں پر امریکی سفارت کاروں کو حاصل مراعات ختم کرنے کے علاوہ دہلی میں امریکی قونصل خانے میں کام کرنے والوں کے شناختی کارڈ اور سفارتخانے کے ملازمین کو دی جانے والی تنخواہوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔

دریں اثنا امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے مطابق بھارتی سفارت کار دیویانی کھوبرا گڑے کو مکمل استثنیٰ حاصل نہیں تھی اور جنیوا کنونشن کے تحت انھیں صرف اپنے کام سے متعلق جرم میں گرفتاری سے استثنیٰ حاصل تھی۔

امریکی حکام نے یہ تصدیق بھی کی ہے کہ دیویانی کھوبرا گڑے کو گرفتاری کے بعد برہنہ تلاشی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

یہ سفارتی بحران گذشتہ جمعرات کو نیویارک میں بھارتی قونصلر دیویانی کھوبرا گڑے کی گرفتاری سے شروع ہوا تھا۔

دیویانی کھوبراگاڑے کے والد اوتم نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کو پوران خاندان صدمے میں ہے
،تصویر کا کیپشندیویانی کھوبراگاڑے کے والد اوتم نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کو پوران خاندان صدمے میں ہے

نیویارک پولیس نے دیویانی کو ویزا فراڈ کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے امریکہ میں کم سے کم یومیہ اجرت کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کی ایک گھریلو خادمہ کو انتہائی کم تنخواہ پر امریکہ میں ملازم رکھا۔

انھیں اب ڈھائی لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے جبکہ دیویانی ان الزامات سے انکار کرتی ہیں۔

بھارت نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور منگل کو نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے کے حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام قونصلروں کے شناختی کارڈ وزارتِ خارجہ میں جمع کروائیں۔

سفارتخانے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمام سفارتکاروں ، قونصلروں اور سفارتخانے میں کام کرنے والے بھارتی ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیلات پیش کرے ۔

ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ امریکی سکول میں تعلیم دینے والے اساتذہ کے ویزے کی نوعیت اور سفارتکاروں کے گھریلو ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیل بھی فراہم کریں۔

اس کے علاوہ امریکی سفارت کاروں کو بھارتی ہوائی اڈوں پر دی جانے والی خصوصی مراعات کے پاس بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

حکومت نے دہلی پولیس کو امریکی سفارت خانے اور امریکی سکول پر لگائی گئی اضافی حفاظتی رکاوٹوں کو بھی ہٹا دیا ہے۔

دہلی میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے بھارتی اقدامات کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

اسی تنازع کی وجہ سے منگل کی صبح کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اور بھارت کے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے امریکی کانگریس کے ارکان سے بھی ملنے سے انکار کر دیا۔

آئندہ الیکشن میں وزیراعظم کے عہدے کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار نریندر مودی نے بھی ٹویٹ کی ہے کہ انھوں نے بھی امریکی وفد سے نہ ملنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نریندر مودی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ملک کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر میں امریکی وفد سے نہیں مل رہا۔‘

منگل کو دہلی میں امریکی سفارت خانے کے باہر سکیورٹی رکاوٹوں کا ہٹا دیا گیا۔ بظاہر یہ احتجاجاً کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنمنگل کو دہلی میں امریکی سفارت خانے کے باہر سکیورٹی رکاوٹوں کا ہٹا دیا گیا۔ بظاہر یہ احتجاجاً کیا گیا ہے

اطلاعات کے مطابق بھارتی سفارت خانے کی اس سینیئر اہل کار کو گرفتاری کے وقت ہتھکڑی پہنائی گئی تھی جس کے بعد مبینہ طور پر انھیں برہنہ تلاشی کا سامنا بھی کرنا پڑا اور انھیں عام مجرموں کے ساتھ حوالات میں رکھا گیا۔

بھارتی وزیرِ خارجہ سلمان خورشید نے امریکی حکام کے اس رویے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتی سفارت کار سے ایسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت کی قونصلر کے ساتھ امریکہ نے جو برتاؤ کیا ہے وہ قطعی قابل قبول نہیں ہے۔ہم اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔‘

دیویانی کی گرفتاری کے بعد بھارت کی حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا کہ و ہ بھی امریکہ کے خلاف جوابی کاروائی کرے ۔ بی جے پی کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا تھا کہ ’امریکہ نے جو کیا ہے وہ دنیا کا کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے سفارتکار کے ساتھ نہیں کرے گا۔‘'

امریکہ میں بھارت کے سابق سفیر رونین سین نے کہا کہ ’امریکہ نے دیویانی کو جس طرح گرفتار کیا اور انہیں منشیات کے عادی مجرموں کے ساتھ رکھا وہ انتہائی غیر مہذب حرکت تھی۔‘

دوسری جانب دیویانی کھوبراگاڑے کے والد اوتم نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ان کی بیٹی سے رویہ بالکل قابل اعتراض ہے۔ والد کے طور پر مجھے تکلیف ہوا اور پورا خاندان صدمے میں ہے۔

خیال رہے کہ جمعے کو بھارت نے امریکہ کی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کر کے دیویانی کی گرفتاری پر باضابطہ احتجاج کیا تھا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارتی قونصلر کو سفارتکار ہونے کے سبب گرفتاری اور مقامی قانون سے استثنی حاصل ہے لیکن امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ پولیس نے امریکہ کے مسلمہ ضابطوں کے تحت کاروائی کی ہے ۔