کیری کا بھارتی سفارت کار سے سلوک پر افسوس

واقعے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور اہم تعلقات کو نقصان نہ پہنچے: جان کیری
،تصویر کا کیپشنواقعے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور اہم تعلقات کو نقصان نہ پہنچے: جان کیری

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن سے نیویارک میں بھارتی سفارت کار دیویانی کھوبرا گڑے سے گرفتاری کے بعد ہونے والے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ امریکی میں جو بھی رہے وہ قانون پر عمل کرے۔

بھارت میں ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں اراکین نے امریکہ میں بھارتی سفارت کار کے ساتھ ہونے والے ’ناروا سلوک‘ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے امریکہ سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

<link type="page"><caption> بس امریکہ معافی مانگے: بھارت کا مطالبہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2013/12/131218_india_us_diplomat_row_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

دیویانی پر امریکہ میں ویزا قوانین کے سلسلے میں جعل سازی کے الزامات کا سامنا ہے اور اسی لیے انھیں برہنہ کر کے ان کی جامہ تلاشی لی گئی۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی بھارتی قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بارے میں امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے بتایا کہ ’دیویانی کھوبراگڑے کی عمر کی دو بیٹیوں کا باپ ہونے کے ناطے کیری گرفتاری کے بعد کے واقعات کے بارے میں بھارت کی طرف سے ظاہر کیے جانے والے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور انھوں نے قومی سلامتی کے مشیر مینن کے ساتھ بات چیت کے دوران اپنے افسوس ظاہر کیا اور فکر بھی ظاہر کی کہ اس افسوس ناک واقعے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور اہم تعلقات کو نقصان نہ پہنچے۔‘

بھارت میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشنبھارت میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں

امريكی محکمۂ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے جان کیری امریکہ کے سفارت کاروں کی حفاظت کے لیے بھی ذمہ دار ہیں اور اس لیے وہ ذاتی طور پر اس معاملے پر بات چیت کرنا چاہتے تھے۔

ترجمان میری ہارف کے مطابق: ’وزیر خارجہ کیری امریکی قانون نافذ کرنے اور متاثرین کی حفاظت کرنے کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور یہاں رہنے والے تمام اہل کاروں سے امید کرتے ہیں کہ وہ یہاں کے قانون پر عمل کریں۔ اسی طرح ان کے لیے یہ بھی اہمیت رکھتا ہے کہ غیر ملکی سفارت کاروں کو مکمل عزت اور وقار دیا جانا چاہیے، جیسا کہ وہ بیرون ملک امریکی سفارت کاروں کو بھی دیے جانے کی امید کرتے ہیں‘۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان نے واضح کیا کہ جو الزام بھارتی سفارت دیویانی کھوبراگڑے پر لگائے گئے ہیں ان کے بارے میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ معاملہ امریکی محکمۂ انصاف کے تحت آتا ہے۔

ترجمان کے مطابق نیویارک میں بھارتی قونصل خانے نے دیویانی کھوبراگڑے کے اقوام متحدہ مشن میں تبادلے کے بارے میں امریکی حکومت کو آگاہ نہیں کیا ہے۔

كھوبراگڑے پر ویزا میں دھوکہ دہی اور غلط بیان دینے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنكھوبراگڑے پر ویزا میں دھوکہ دہی اور غلط بیان دینے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا ہے

اس سے پہلے امریکہ میں بھارتی سفارت کار کی گرفتاری پر بھارت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی ہوائی اڈوں پر امریکی سفارت کاروں کو حاصل مراعات ختم کرنے کے علاوہ دہلی میں امریکی قونصل خانے میں کام کرنے والوں کے شناختی کارڈ اور سفارتخانے کے ملازمین کو دی جانے والی تنخواہوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی تھیں۔

ادھر امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے مطابق بھارتی سفارت کار دیویانی کھوبراگڑے کو مکمل استثنیٰ حاصل نہیں تھا اور جنیوا کنونشن کے تحت انھیں صرف اپنے کام سے متعلق جرم میں گرفتاری سے استثنیٰ حاصل تھا۔

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بدھ کو بھارت کے ایوانِ بالا میں امریکہ میں بھارتی سفارت کار کی گرفتاری پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’امریکہ نے ہندوستانی سفارت کار کے ساتھ جو کیا ہے، وہ کسی بھی قیمت پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بابت خبر موصول ہوتے ہی حکومت نے مناسب ذرائع سے فوری طور پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔‘