سفارتی تنازع: سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مسترد

اگر بھارتی سفارت کار پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں ویزا دستاویزات میں فراڈ کے جرم میں دس سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے
،تصویر کا کیپشناگر بھارتی سفارت کار پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں ویزا دستاویزات میں فراڈ کے جرم میں دس سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے
    • مصنف, برجیش اپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے بھارتی سفارت کار دیویانی كھوبراگڑے کی ان کے خلاف ابتدائی سماعت کی تاریخ میں توسیع سے انکار کردیا ہے۔

دیوياني کے وکیل نے ویزا دستاویزات میں فراڈ کے معاملے میں سماعت شروع کرنے کے لیے عدالت سے مزید مہلت طلب کی تھی۔

نیویارک میں جنوبی ضلع کی عدالت کی جج سارا نٹبرن نے کہا ہے کہ سماعت کی تاریخ کو ملتوی نہیں کیا جائے گا۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب دیوياني كھوبراگڑے کا 13 جنوری کو عدالت میں پیش ہونا ہے اور ان پر مقدمے کی کارروائی شروع ہونا ایک طرح سے طے شدہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔

گذتشہ ماہ دیوانی کھوبراگڑے پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنی گھریلو ملازمہ کے ویزے کے حصول کے لیے غلط بیانی کی اور اسے کم تنخواہ ادا کی۔ تاہم دیوانی ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہیں اور وہ اس وقت ضمانت پر رہا ہے۔

دیویانی کے وکیل ڈینیئل ارشک نے دیوانی کے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی ویزہ فراڈ کیس کے حل کے لیے امریکی حکومت سے کی جانی والی اپیل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

لیکن جج نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ چونکہ دیوانی کھوربرا گڑے کو گذشتہ برس 12 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا سا لیے ان پر 13 جنوری تک فرد جرم عائد کیا جانا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی سفارت کار دیویانی كھوبراگڑے کو ان کی نوکرانی سنگیتا رچرڈز کی طرف سے شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ کو قانون کے مطابق اجرت ادا نہیں کر رہی تھیں۔

امریکہ میں بھارتی سفارت کار کی ملازمہ کے حق میں مظاہرے کیے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں بھارتی سفارت کار کی ملازمہ کے حق میں مظاہرے کیے گئے ہیں

نیویارک کی عدالت میں پیش کیے جانے والے دستاویزات کے تحت بھارتی سفارت کار نے اپنی ملازمہ کی ویزا درخواست میں لکھا تھا کہ انھیں امریکہ میں ساڑھے چار ہزار امریکی ڈالر کی تنخواہ دی جائے گی جبکہ انھیں صرف 573 ڈالر دیے جا رہے تھے۔ یہ تنخواہ امریکہ میں کم سے کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

بھارتی سفارت کار نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اس وقت ضمانت پر ہیں۔

بھارت اپنی خاتون سفارت کار کو گرفتاری کے بعد ہتھکڑی لگانے، ان کی برہنہ تلاشی اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اگر بھارتی سفارت کار پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں ویزا دستاویزات میں فراڈ کے جرم میں دس سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے جب کہ جھوٹ بولنے پر ان کو مزید پانچ سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا تھا کہ امریکہ میں بھارتی سفارت کار ’دیویانی كھوبراگڑے کو بحفاظت ملک واپس لانے کی ذمہ داری میری ہے اور میں انھیں واپس لا کر دكھاؤں گا۔‘