’آخر بھارت امریکہ کو اتنی توجہ کیوں دیتا ہے‘

دیویانی کھوبراگڑے بھارت واپس آ گئی ہیں۔ اب انھیں کوئی سفارتي استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور امریکہ میں انھیں گرفتار کرنے کے لیے وارنٹ جاری کیا جا سکتا ہے
،تصویر کا کیپشندیویانی کھوبراگڑے بھارت واپس آ گئی ہیں۔ اب انھیں کوئی سفارتي استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور امریکہ میں انھیں گرفتار کرنے کے لیے وارنٹ جاری کیا جا سکتا ہے
    • مصنف, نیلم دیو
    • عہدہ, بھارت کی سابق سفارت کار

جب کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے سفارت کار کو اپنے ملک سے نکالتا ہے تو عام طور پر دوسرا ملک بھی اس ملک کے سفارت کار کو اپنے ملک سے نکال دیتا ہے۔ سفارتی تعلقات میں یہ معمول کی بات ہے۔

سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سوویت روس دونوں ہی ایک دوسرے کے سفارت کاروں کے ساتھ ایسا سلوک کیا کرتے تھے۔

بھارتی سفارت کار دیوياني کھوبراگڑے کے معاملے میں بھارت کے لیے جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ اس میں بدلے کی کارروائی نظر آ رہی ہے کہ آپ جتنی زیادتی ہمارے ساتھ کریں گے ہم بھی آپ کے ساتھ اتنی ہی زیادتی کریں گے۔

واضح رہے کہ حکومت ہند نے جمعہ کو امریکہ سے دہلی میں موجود سفارت خانے کے ایک افسر کو بھارت سے واپس بلا لینے کے لیے کہا ہے۔

بہر حال اس بات کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت کا یہ قدم کئی معنوں میں اہم ہے۔

اس میں اہم یہ ہے کہ یہاں بدلے کی کارروائی کی جھلک نظر آ رہی ہے۔

بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں گذشتہ 25-20 برسوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔

اسی طرح بھارت کے سامنے بھی کبھی یہ مجبوری نہیں آئی کہ امریکہ کے سفیر کو دہلی سے جانے کے لیے کہا جائے۔

البتہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارت کاروں کو نکالے جانے یا واپس بلائے جانے کے واقعات رو نما ہوتے رہتے ہیں۔

دیوانی معاملے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے یہ معاملہ ایک طرح سے ختم ہو گیا ہے۔

دوسرا یہ کہ جن روابط میں رکاوٹیں درپیش تھیں اب وہ رابطے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

امریکی توانائی کے وزیر بھارت آنے والے تھے اور ان کا دورہ اس سفارتی کشیدگی کی نذر ہو گیا تھا۔ اب ان کا بھارت کے دورے کا پروگرام دوبارہ طے ہو جائے گا۔

عام طور پر یہ ہوتا رہا ہے کہ ایک دوسرے کو جواب دینے کے بعد سفارتی تعلقات معمول پر آ جاتے ہیں تاہم وقتی طور پر کشیدگی اور رنجش تو ہو ہی جاتی ہے۔

دیویانی معاملے پر بھارت میں امریکہ کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا گيا
،تصویر کا کیپشندیویانی معاملے پر بھارت میں امریکہ کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا گيا

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کیا بھارت نے اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی مستعدی کا مظاہرہ تو نہیں کیا تو مجھے یقین ہے کہ بھارت نے امریکہ کو جو خاص حقو‌ق اور سہولتیں دے رکھی ہیں وہ امریکہ کو کبھی دی ہی نہیں جانی چاہیے تھی۔

واضح رہے کہ کئی سال پہلے جب علیحدہ ملک ’خالصتان‘ کے مطالبے نے زور پکڑ رکھا تھا تب بھارت نے واشنگٹن سے کہا تھا کہ اس کے سفارت کاروں کے لیے سکیورٹی کا خطرہ ہے ہمیں اضافی سکیورٹی چاہیے۔

اس پر امریکی حکومت نے کہا تھا کہ آپ خود ہی سکیورٹی کی خدمات حاصل کر لیں۔

اس کے باوجود بھارت میں امریکی سفارت کاروں کو اتنی زیادہ سکیورٹی دینے کی کیا ضرورت تھی۔

امریکہ کو اتنی سہولیات بھارت میں ملنی ہی نہیں چاہیے تھی۔

بھارت، تھائی لینڈ یا فرانس کے سفارت کاروں کو کیا سہولیات فراہم کر رہا ہے؟ بھارت کو تمام ممالک کے ساتھ یکساں اور مساوی سلوک روا رکھنا چاہیے۔