افغان نائب صدر مارشل فہیم انتقال کر گئے

مارشل فہیم نسلی طور پر تاجک اور ایک سابقہ جنگجؤ تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمارشل فہیم نسلی طور پر تاجک اور ایک سابقہ جنگجؤ تھے

افغانستان میں ایک حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک کے دو نائب صدور میں سے ایک، مارشل محمد قاسم فہیم 57 سال کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

افغان حکومت نے اس موقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور ملک بھر میں پرچم سرنگوں رہیں گے۔

مارشل فہیم نسلی طور پر تاجک اور ایک سابقہ جنگجؤ تھے۔

وہ 2001 میں طالبان حکومت کو برطرف کرنے والے اتحاد کا حصہ تھے۔ 2009 میں نائب صدارت سنبھالنے سے پہلے وہ ملک کے وزیرِ دفاع رہ چکے ہیں۔

صدر کرزئی کے دفتر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ مارشل فہیم کی وفات علالت کی وجہ سے ہوئی ہے۔

صدر کرزئی نے اس موقعے پر اپنے بیان میں مارشل فہیم کو ایک سچا محب الوطن قرار دیا اور کہا کہ ان کی وفات افغانستان کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔

2009 کے صدارتی انتخاب سے قبل مارشل فہیم پر ایک ناکام قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں ان کے قافلے پر گرنیڈوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

یاد رہے کہ اس سال افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ہونے والا ہے اور پانچ اپریل کو ملک کے صدارتی انتخاب میں 11 امیدوار شریک ہوں گے۔

ملک میں انتخابات کے دوران سکیورٹی سنگین مسئلہ ہے کیونکہ طالبان نے انتخابی مہموں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی بھی اہم مسئلہ ہے۔

2009 میں ہونے والے گذشتہ انتخابات میں دھاندلی کے شدید الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔