جعلی خط پر قندھار جیل سے بارہ طالبان رہا

رحمت اللہ کے بقول ان قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد معلوم چلا کہ یہ خط جعلی تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرحمت اللہ کے بقول ان قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد معلوم چلا کہ یہ خط جعلی تھا

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں جیل حکام کا کہنا ہے کہ جعلی خط پر ایک درجن طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

قندھار کے سکیورٹی کے سربراہ رحمت اللہ اشرفی کا کہنا ہے کہ منگل کو جیل حکام کو ایک خط موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ اٹھائیس قیدیوں کو رہا کردیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ 28 میں سولہ قیدیوں کو رہا کرنا ہی تھا لیکن ان کے ساتھ ان بارہ کو بھی رہا کردیا گیا جن کو رہا نہیں کرنا تھا۔

رحمت اللہ کے بقول ان قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد معلوم چلا کہ یہ خط جعلی تھا۔ رہا کیے گئے بارہ میں سے دو کو حکام نے دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔

ابھی تک اس جعلی خط کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

رحمت اللہ نے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ’اس خط میں بارہ مزید قیدیوں کے ناموں کا اضافہ کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں جیل حکام، استغاثہ اور سکیورٹی حکام شامل ہیں۔