بھارت: سبرت رائے کی حراست میں توسیع

سبرت رائے جب عدالت پہنچے تو مظاہرہ کرنے والے ایک شخص نےان کے چہرے پر سیاہی پھینک دی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسبرت رائے جب عدالت پہنچے تو مظاہرہ کرنے والے ایک شخص نےان کے چہرے پر سیاہی پھینک دی

بھارتی سپریم کورٹ نے سہارا گروپ کے سربراہ ڈاکٹر سبرت رائے کی حراست میں توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کمپنی سرمایہ کاروں کو رقم واپس کرنے کا منصوبہ پیش کرے۔

پولیس نے جمعے کو سہارا گروپ کے سربراہ ڈاکٹر سبرت رائے کو عدالت میں پیش نہ ہونے کے بعد حراست میں لے لیا تھا۔

سہارا گروپ کی دو کمپنیوں کو سرمایہ کاروں کو 240 ارب روپے واپس کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو حکام کے مطابق سہارا گروپ نے سرمایہ کاروں سے غیرقانونی طور لیے گئے تھے۔

منگل کو سبرت رائے جب عدالت پہنچے تو مظاہرہ کرنے والے ایک شخص نےان کے چہرے پر سیاہی پھینک دی۔

سیاہی پھینکنے والے شخص نے چلاتے ہوئے کہا کہ ’سبرت رائے چور ہے۔ اس نے ہمیں دھوکہ دیا ہے اور ہمیں لوٹا ہے۔‘ بھارتی ٹی وی چینلوں نے حملہ آور کی شناخت ایک وکیل کی حیثیت سے کی جسے بعد میں پولیس لے گئی۔

فوری طور پر اس بات کی وضاحت نہیں ہو سکی ہے کہ سبرت کو جیل بھیجا جائے گا یا نہیں کیونکہ جب سے وہ حراست میں ہیں اور انھیں ایک سرکاری مہمان خانے میں رکھا گیا ہے۔

منگل کو سبرت رائے نے عدالت سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ بدھ کو ان کا عدالت میں نہ پیش ہونے کی ’حقیقی وجوہات‘ تھے۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ سہارا اپنے اثاثے بیچ کر سرمایہ کاروں کی رقم واپس کرے گی لیکن اس کے لیے انھیں مزید وقت درکار ہے۔

عدالت نے ان کے رائے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آپ کے اثاثے فروخت کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ یہ آپ ہمیں پچھلے دو سال سے بتا رہے ہیں، یہ آپ کا دردِ سر ہے۔ آپ کو ابھی تک یہ کر لینا چاہیے تھا۔‘

ججوں نے پولیس کو سہارا گروپ کےدو اور ڈائریکٹروں کو بھی حراست میں لینے اور انھیں دوسری پیشی تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔

اس مقدمے کی آئندہ سماعت 11 مارچ کو ہوگی۔

سبرت رائے کا معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے اور تقریباً دو سال سے عدالت میں چل رہا ہے۔ ان پر الزام یہ ہے کہ سہارا گروپ کی دو کمپنیوں نے لاکھوں صارفین سے جو رقم لی، بینکاری کے ضابطوں کے تحت انہیں اس کی اجازت نہیں تھی۔

عدالت نے کمپنی کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ یہ رقم سرمایہ کاروں کو واپس کر دے اور جب سہارا گروپ نے اس پر عمل نہیں کیا تو عدالت نے کہا کہ وہ ضمانت کے طور پر 20 ہزار کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیداد کے کاغذات سکیورٹیز ایکسچینج بورڈ کے پاس جمع کرائے۔

سکیورٹی ایکسچینج بورڈ سٹاک مارکیٹ کا نگران ادارہ ہے اور اسی نے اس کیس کی تفتیش کی تھی۔