افغانستان:صدارتی انتخاب کے لیے مہم کا باقاعدہ آغاز

افغانستان میں پانچ اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔
اس الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والا امیدوار موجودہ صدر حامد کرزئی کی جگہ لے گا جو قانوناً تیسری مرتبہ اس عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے۔
یہ انتخاب ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اس سال کے اختتام تک افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو ملک چھوڑنا ہے اور انھیں افغانستان میں قومی سکیورٹی فورسز کی استعداد کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدارتی الیکشن افغان فوج کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوں گے کیونکہ اس انتخاب کے امیدواروں میں جنگی سردار اور 1990 کی دہائی کی خانہ جنگی میں حصہ لینے والے سابق گوریلا رہنما بھی شامل ہیں۔
افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال اب کی قابلِ اطمینان نہیں اور سنیچر کو ہی مسلح افراد کے حملے میں سابق وزیرِ خارجہ اور صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کے دو ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔
عبداللہ عبداللہ 2009 کے صدارتی الیکشن میں حامد کرزئی کے قریب تریب حریف رہے تھے۔
افغان ٹی وی کے مطابق ان دونوں افراد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جو وہ انتخابی دفتر سے نکلے ہی تھے۔
عبداللہ عبداللہ کے ترجمان سید فضل سنگ چرخی نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہویے کہا کہ’انتخابی مہم کے آغاز پر اس قسم کا واقعہ بری علامت ہے۔ اب یا تو سکیورٹی فورسز انتخابی مہم کے دوران تحفظ دینے کی اہل نہیں یا وہ اپنی ذمہ داری پوری دلجمعی سے ادا نہیں کر رہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ عبداللہ عبداللہ وہ واحد صدارتی امیدوار ہیں جنھوں نے امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے دوطرفہ معاہدے کی علی الاعلان حمایت کی ہے۔
اس معاہدے کے تحت ہزاروں امریکی فوجی 2014 میں انخلا کے بعد بھی افغانستان میں رہ سکیں گے اور تربیتی امور کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی معاونت کریں گے۔
لویا جرگے سے منظوری کے باوجود موجودہ صدر حامد کرزئی نے اب تک اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں اور حال ہی میں انھوں نے دستخطوں کو ملک میں طالبان سے امن بات چیت کے عملی آغاز سے مشروط کیا ہے۔







