سنہ دو ہزار سترہ میں افغانستان افراتفری کا شکار ہو جائے گا

امریکہ میں خفیہ اداروں کے تازہ ترین اندازوں کے مطابق افغانستان میں اتحادی اور امریکی افواج نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ سنہ دو ہزار سترہ تک مکمل طور پر زائل ہو جائے گا اور افغانستان محدود تعداد میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود افراتفریحی کا شکار ہو جائے گا۔
واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک خبر میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس ایسٹیمیٹ سے آگاہ حکام کے حوالے سے کہا گیا کہ اس رپورٹ میں یہ پیش گوئی بھی کی گئی ہے کہ اگر کابل اور واشنگٹن کے درمیان دفاعی معاہدے پر جلد دستخط نہ ہوئے تو افغانستان میں امن تیزی سے خراب ہو سکتا ہے۔
اس معاہدے کی توثیق اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ اس کی توثیق کے بعد ہی امریکہ اور مغربی اقوام نے افغانستان کو سالانہ کئی ارب ڈالر کی امداد مہیا کرنی ہے جو افغانستان جیسے غریب ملک میں پولیس اور فوج کو کھڑا رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اعلیٰ امریکی اہلکارروں کا جن کی نظر سے یہ رپورٹ گزری ہے، کہنا ہے کہ یہ رپورٹ سولہ خفیہ اداروں کے تعاون سے ترتیب دی گئی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر معاہدے کی توثیق نہ ہوئی اور افغانستان کو مالی امداد مہیا نہ کی گئی تو حالات بڑی تیزی سے خراب ہو سکتے ہیں۔
اخبار کے مطابق کچھ امریکی اہکاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں طویل ترین جنگ کے بارے میں نقطہ نظر منفی ہے اور اس رپورٹ میں کئی مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے جو امریکہ اور اتحادی افواج کی وجہ سے حاصل ہوئے ہیں۔
ایک اور امریکی اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ سیاسی اور جغرافیائی طور پر طاقت کے توازن تبدیل ہوگا جس میں طالبان کا اقتدار میں آنے ناگزیر نہیں ہے۔
افغانستان کے صدر حامد کرزائی نے سنہ دو ہزار چودہ میں صدارتی انتخابات سے قبل امریکی حکومت کے ساتھ ایک طویل المدتی دفاعی معاہدے پر دستحظ کرنے سے انکار کر دیا ہے جس سے افغانستان اور افغان سکیورٹی فورسز کے لیے سخت خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان میں افغان عمائدین کا جرگہ بھی اس معاہدے کی توثیق کر چکا ہے۔ امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے کی عدم موجودگی میں طالبان دوبارہ اقتدار حاصل کر سکتے ہیں اور القاعدہ طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں دوبارہ محفوظ پناہ گاہیں بنا سکتی ہے۔







