کاشغر:’پولیس کی فائرنگ سے آٹھ حملہ آور ہلاک‘

حکومت تشدد کے الزامات انتہا پسندوں پر عائد کرتی رہتی ہے جبکہ ایغور نسلی تنازعات اور زبردست چینی کنٹرول کو تشدد کی وجہ قرار دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحکومت تشدد کے الزامات انتہا پسندوں پر عائد کرتی رہتی ہے جبکہ ایغور نسلی تنازعات اور زبردست چینی کنٹرول کو تشدد کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

چین کے صوبہ سنکیانگ کی حکومت کا کہنا ہے کہ ایک پولیس تھانے پر ’دہشت گردوں کے حملے‘ کے دوران جھڑپ میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

سنکیانگ کی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان کے مطابق یہ واقعہ پیر کو جنوبی سنکیانگ کے شہر کاشغر کے قریب یارقند کاؤنٹی کے علاقے میں پیش آیا۔

مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صبح ساڑھے چھ بجے چاقوؤں سے مسلح نو افراد نے کاشغر کی یارقند کاؤنٹی میں ایک تھانے پر حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے عمارت میں دھماکہ خیز مواد پھینکا اور پولیس کی کاروں کو نذرِ آتش کر دیا۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ اس پر مقامی پولیس نے جوابی کارروائی کی اور آٹھ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

یہ کاشغر اور اس کے مضافات میں گزشتہ دو ماہ کے دوران رواں ماہ اس قسم کی تیسری کارروائی ہے۔

اس سے قبل 16 دسمبر کو مسلح افراد اور پولیس کے مابین جھڑپوں میں دو اہلکاروں سمیت 16 افراد مارے گئے تھے جبکہ نومبر میں بھی کاشغر کے نواح میں ایک پولیس سٹیشن پر حملے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں کے علاوہ نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلم اویغور اقلیتی برادری کی اکثریت ہے اور حکومت تشدد کے الزامات روایتاً انتہا پسندوں پر عائد کرتی رہتی ہے جبکہ اویغور نسلی تنازعات اور زبردست چینی کنٹرول کو تشدد کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

سنکیانگ میں مسلم اقلیتی برادری ایغور کی اکثریت ہے
،تصویر کا کیپشنسنکیانگ میں مسلم اقلیتی برادری ایغور کی اکثریت ہے

اس علاقے سے آنے والی اطلاعات کی آزادانہ تصدیق بہت مشکل ہے کیونکہ چینی کنٹرول اور پابندیوں کے سبب اس علاقے سے اطلاعات مشکل سے ہی باہر آ پاتی ہیں۔

حقوقِ انسانی کے گروپ چینی پولیس پر مسلم اویغور آبادی سے سختی سے پیش آنے کے الزامات لگاتے ہیں اور سنکیانگ میں ماضی میں بھی تھانوں کے باہر اویغور آبادی کے مظاہروں کے دوران جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔