بنگلہ دیش:’سماعت کی تکمیل تک عبدالقادر ملا کو پھانسی نہ دی جائے‘

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ میں جماعت اسلامی کے بزرگ رہنما عبدالقادر ملّا کی سزائے موت پر نظرِ ثانی کے معاملے کی سماعت جمعرات تک ملتوی ہوگئی ہے۔
عبدالقادر ملا پر سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
جنگی جرائم کی عدالت نے انھیں ابتدائی طور پر عمر قید کی سزا سنائی تھی لیکن سپریم کورٹ نے حکومت کی اپیل پر اسے سزائے موت میں بدل دیا تھا۔
<link type="page"><caption> عبدالقادر مُلا کی عمرقید سزائے موت میں تبدیل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130917_bangla_leader_death_sentence_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> بنگلہ دیشی رکنِ پارلیمان کو سزائے موت</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131001_bangladesh_leader_death_setence_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
وکیل صفائی سجاد علی چودھری نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ اس سزا پر بدھ کی صبح ڈھاکہ کی جیل میں عملدرآمد کیا جانا تھا۔
اس سلسلے میں منگل کو بنگلہ دیشی حکام نے عبدالقادر ملا سے ان کے خاندان والوں کی آخری ملاقات بھی کروائی تھی۔
تاہم منگل کو رات گئے وکلائے صفائی سپریم کورٹ کے سینیئر جج سید محمد حسین کے گھر گئے اور سزا کے خلاف حکمِ امتناعی حاصل کیا۔ سزا میں تعطل کے باعث وکلائے صفائی کو سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی درخواست دائر کرنے کا وقت مل گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپریم کورٹ نے بدھ کو اس معاملے کی سماعت کی جو جمعرات کو بھی جاری رہے گی اور عدالت نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ملزم کو سزائے موت کے خلاف اپیل کرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
عدالت نے سزا پر عملدرآمد معاملے کی حالیہ سماعت کے اختتام تک معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
ادھر جماعتِ اسلامی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر عبدالقادر ملا کو پھانسی دی گئی تو اس کے خوفناک نتائج سامنے آئیں گے۔
عبدالقادر ملّا پر الزام تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے تحت قائم کی گئی البدر نامی عسکری تنظیم کے رکن تھے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ جنگ کے آخری ایام میں وہ 200 سے زیادہ بنگلہ دیشی دانشوروں کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کی عدالت نے گذشتہ چند ماہ کے دوران جماعت اسلامی کے کئی رہنماؤں کو سنہ 1971 کی جنگ میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا مرتکب پایا ہے اور انہیں پھانسی اور عمر قید کی سزاؤں کا حقدار قرار دیا ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت نے یہ خصوصی ٹربیونل سنہ 2010 میں بنایا تھا جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنھوں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس وقت کے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی مخالفت کی تھی۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کا یہ ٹربیونل بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا۔
بنگلہ دیش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ سنہ 1971 میں جنگ کے دوران 30 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ بعض محققین کے مطابق یہ تعداد تین سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے۔







