بنگلہ دیش: 150 باغی فوجیوں کو سزائے موت

باغی فوجی بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعے کے دوران حکومت کے ردعمل پر نالاں تھے
،تصویر کا کیپشنباغی فوجی بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعے کے دوران حکومت کے ردعمل پر نالاں تھے

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے 2009 میں فوجی بغاوت میں حصہ لینے والے 150 فوجیوں کو موت اور 157 کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

بنگلہ دیش کی موجودہ وزیر اعظم حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے دو ماہ بعد فوجیوں نے تنخواہوں اور مراعات کے تنازعے میں بغاوت کی تھی۔ باغی فوجیوں نے 25 اور 26 فروری 2009 کو ڈھاکہ میں رائفل گارڈز کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا تھا جس دوران 34 فوجی افسران سمیت 74 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

وزیر اعظم حسینہ واجد نے بغاوت ختم کرانے کے لیے باغیوں کی معافی کا اعلان کیا تھا لیکن بغاوت کے خاتمے کے بعد انہوں نے فوجیوں کو معافی سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

ڈھاکہ کی میٹروپولیٹن سیشن کورٹ کے جج اخترالزمان نے 152 افراد کو موت اور 157 کو عمر قید کی سزا سنائی، جب کہ 271 کو بری کرنے کا اعلان کیا۔ مقدمے کے تمام ملزمان کی تعداد 846 تھی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران کئی درجن ملزمان حراست کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فوجی بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعے کے دوران حکومت کے ردعمل پر بھی ناراض تھے۔

وزیر اعظم حسینہ واجد نے بغاوت کے خاتمے کے بعد باغی فوجیوں کی معافی کا فیصلہ واپس لے لیا تھا
،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم حسینہ واجد نے بغاوت کے خاتمے کے بعد باغی فوجیوں کی معافی کا فیصلہ واپس لے لیا تھا

بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد وہاں 21 فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں۔

بغاوت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کے استغاثہ نے 850 افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت کی جانب سے اجتماعی مقدمہ چلانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نےگذشتہ ہفتے کہا تھا کہ 47 ملزمان دوران حراست ہلاک ہو گئے ہیں اور ملزمان کی اپنے وکلا تک رسائی بھی محدود تھی۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔