بنگلہ دیش: برطانوی اور امریکی شہری کو سزائے موت

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے لیے ایک برطانوی اور ایک امریکی شہری کو موت کی سزا سنائی ہے۔
حکام کے مطابق برطانیہ کے بنگلہ دیشی مسلم رہنما چودھری معین الدین اور امریکی شہری اشرف الزماں خان کے خلاف جنگی جرائم کی ایک مخصوص عدالت میں ان کی غیر موجودگی میں سماعت کی گئي۔
ان دونوں کو بنگلہ دیش کی آزادی کے آخری ایام میں جنگ آزادی کے 18 حامیوں کو اغوا اور قتل کرنے کے گیارہ معاملوں میں مجرم قرار دیا گيا۔
واضح رہے کہ اسی قسم کے دوسرے مقدمات میں سنائے جانے والے فیصلے کے خلاف بنگلہ دیش میں پرتشدد رد عمل سامنے آیا ہے۔
سرکاری وکلا کا کہنا ہے کہ چودھری معین الدین البدر نامی ملیشیا گروپ کے رکن تھے۔
البدر گروپ پر یہ الزام ہے کہ اس نے پاکستانی فوج کے ساتھ بنگلہ دیش کی آزادی کے حامی رضاکاروں، اساتذہ اور صحافیوں کے خلاف جنگ کے آخری دنوں میں لڑائي کی تھی۔
معین الدین اور اشرف الزمان خان کے خلاف یہ سماعت ان کی غیر موجودگی میں ہو رہی ہے، معین الدین اب لندن میں رہتے ہیں۔
ان دونوں نے عدالت کے تمام الزامات سے انکار کیا ہے جبکہ ان کے وکلا نے ان الزامات کو سیاست پر مبنی قرار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس سے قبل عدالت نے اسی طرح کے ایک مقدمے میں بنگلہ دیش کی اسلامی جماعت، جماعت اسلامی کے ایک سینيئر رہنما کو موت کی سزا دی تھی۔
انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل کی جانب سے جنوری میں ان فیصلوں کے آنے کے بعد سے سو سے زیادہ افراد پر تشدد مظاہروں میں مارے جا چکے ہیں۔
بنگلہ دیش کی برسر اقتدار جماعت عوامی لیگ کی جانب سے سنہ 2010 میں قائم کردہ یہ ٹریبیونل جنگ آزادی کے دوران پاکستان کا ساتھ دینے والے مقامی افراد کے خلاف مقدمات چلا رہا ہے۔ حکومت کے مطابق اس جنگ میں تیس لاکھ افراد مارے گئے تھے۔
عدالتی کارروائی پر انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے تنقید کی ہے جن میں نیو یارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ بھی شامل ہے۔







