افغانستان: خودکش حملے میں چار افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ وردک صوبے میں ایک خود کش حملے میں کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
یہ واقعہ دارالحکومت کابل کے جنوب مغرب میں واقع وردک صوبے میں اس وقت پیش آیا جب ایک خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھرا ٹرک ایک پولیس اڈے سے ٹکرا دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم 17 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت انتہائی نازک ہے۔
<link type="page"><caption> وردک: افغان انٹیلی جنس کے دفتر پر حملہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130908_taliban_wardak_attack_aw.shtml" platform="highweb"/></link>
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے پولیس اڈے پر جمع ہوئے تھے۔
طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
واضح رہے کہ اس علاقے میں افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار عام طور پر طالبان کے نشانے پر رہتے ہیں۔
کابل میں بی بی سی کے نمائندے جعفر ہاند نے کہا کہ نرخ ضلع، جہاں یہ حملہ ہوا ہے، پورے وردک صوبے میں سب سے غیر محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق اس ضلعے کے کئی علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ ان کے علاوہ حزبِ اسلامی کے جنگجو بھی وہاں سرگرم نظر آتے ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 2014 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغان فورسز پر سکیورٹی کی مزید ذمہ داری آنے والی ہے۔
رواں سال افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب واقع صوبے وردک میں تعینات امریکی سپیشل فورسز نے صوبے کے سٹریٹیجک اڈے کا کنٹرول افغان سپیشل فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔
امریکی سپیشل فورسز نے صوبے کے نرخ ضلع میں واقع اہم فوجی اڈے کا کنٹرول افغان سپیشل فورسز کے حوالے کردیا ہے۔







