مالدیپ:صدارتی انتخاب میں عبداللہ یامین فاتح

صدارتی انتخاب میں محمد نشید اور عبداللہ یامین کے درمیان مقابلہ تھا
،تصویر کا کیپشنصدارتی انتخاب میں محمد نشید اور عبداللہ یامین کے درمیان مقابلہ تھا

بحرِ ہند کے کنارے واقع جنوبی ایشیائی ملک مالدیپ میں صدارتی انتخاب میں عبداللہ یامین نے سابق صدر محمد نشید کو شکست دے دی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ہونے والے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار مطلوبہ ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا اس لیے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ الیکشن ہوا۔

صدارتی الیکشن میں کامیابی کے لیے امیدوار کا کم از کم 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا لازم تھا اور الیکشن کمیشن کے مطابق عبداللہ یامین کو اکیاون اعشاریہ تین فیصد ووٹ ملے جبکہ سابق صدر محمد نشید اڑتالیس اعشاریہ چھ فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔

واضح رہے کہ ملک کے نئے صدر عبداللہ يامين مالدیپ کے سابق صدر مامون عبدالقیوم کے سوتیلے بھائی ہیں جنہوں نے مالدیپ پر 30 برس تک حکومت کی تھی۔

سنہ 2012 میں صدر کے عہدے سے برطرفی کے بعد سے محمد نشید مسلسل حکومت میں آنے کے لیے کوشاں ہیں تاہم انہوں نے یہ کہتے ہوئے شکست قبول کر لی ہے کہ وہ جمہوری نظام کے حامی ہیں۔

مالدیپ ڈیموکریٹک پارٹی (ایم ڈی پی) کے رہنما محمد نشید نے کہا: ’میں کشادہ دلی کے ساتھ اپنی شکست تسلیم کرتا ہوں۔ ہم بہت ہی کم فرق سے ہارے۔ جمہوریت ایک نظام ہے اور یہ ہم پر منحصر ہے کہ وہ کام کرے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ایم ڈی پی سدا عوام کی منتخب حکومت کی خواہاں رہی ہے۔ آج مالدیپ کے لیے خوشی کا دن ہے کہ آج ہم نے ایک حکومت کو منتخب کیا ہے۔‘

عبداللہ یامین نے کہا کہ عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ اب ملک میں امن و امان قائم کرنے کا وقت آ گیا ہے
،تصویر کا کیپشنعبداللہ یامین نے کہا کہ عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ اب ملک میں امن و امان قائم کرنے کا وقت آ گیا ہے

عبداللہ یامین نے فتح کے بعد کہا: ’عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ اب ملک میں امن و امان قائم کرنے اور ترقی کے لیے کام کرنے کا وقت آ گيا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی ترجیحات میں معیشت سرِفہرست ہے جن میں بطور خاص روپے کو مضبوط کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔

مالدیپ میں ان انتخابات کے تئیں کئی ماہ سے قانونی اور سیاسی تعطل جاری تھا۔

انتخابات میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ نے سات ستمبر کو ہونے والے پہلے انتخابات کو منسوخ کر دیا تھا۔

پھر 19 اکتوبر کو انتخابات دوبارہ کرائے جانے تھے لیکن اسے بھی روکنا پڑا اور بالآخر 9 نومبر کو ہی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا سکے۔

اس سے قبل یورپی یونین نے کہا تھا کہ اگر سنیچر کو طے شدہ پروگرام کے مطابق انتخابات نہیں ہو تے ہیں تو وہ اس بابت مناسب قدم اٹھائیں گے۔