مالدیپ: صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ ملتوی

مالدیپ کی سپریم کورٹ نے سابق صدر محمد نشید کی صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے پر ہونے والے ووٹنگ کو روک دیا ہے۔
مالدیپ میں اتوار کو صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لیے ووٹ ڈالے جانے تھے۔
صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار عبداللہ یامین نے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ انھیں انتخابی مہم چلانے کے لیے مذید وقت دیا جائے جس کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے پولنگ روکنے کا حکم دیا۔
خیال رہے کہ مالدیپ کے آئین کے مطابق ملک میں پیر تک نئے صدر کو منتخب کیا جانا ہے تاہم سپریم کورٹ نے سنیچر کی رات اپنے حکم میں کہا ہے کہ ہے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ پر عملدآمد نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے صدارتی انتخاب کے دوسرے امید وار عبداللہ یامین کی انتخابی مہم چلانے کے لیے مذید وقت دینے کی درخواست کو منظور کر لیا ہے۔
مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید نے سنیچر کو ہونے والے صدراتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں46.93 فیصد ووٹ جبکہ ان کے مخالف امیدوار عبداللہ یامین صرف 29.73 فیصد ووٹ حاصل کر سکے تھے۔
مالدیپ میں حکومت سازی کے لیے 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہیں۔
مالدیپ میں گزشتہ سال سیاسی بحران کے باعث سابق صدر محمد نشید کو مستعفیٰ ہونا پڑا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد نشید نے سنہ 2008 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی اور انھوں نے مالدیپ میں گزشتہ تین دہائیوں سے حکومت کرنے والے مامون عبدل کو انتخابات میں شکست دی تھی۔
مالدیپ میں تیسری بار صدارتی انتخابات میں مداخلت کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے مالدیپ میں گزشتہ سال سات ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے الزامات کے بعد اسے کالعدم قرار دیا تھا۔
اس کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابات کے لیے نئے رہنما اصول متعارف کروائے گئے تھے۔
پولیس نے سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابی اصولوں پر عملدرآمد نہ کرنے پر رواں برس انیس اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کو روک دیا تھا۔







