ایرانی کلائمبر نے سر سے حجاب اترنے کی وضاحت کر دی

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک ایرانی خاتون کلائمبر نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ ایک مقابلے کے دوران انھوں نے کھلے سر اس لیے حصہ لیا تھا کیونکہ ان کا حجاب ’نادانستہ طور پر‘ گر گیا تھا۔
33 سالہ ایلناز ریکابی کو اتوار کو جنوبی کوریا میں ایشین چیمپیئن شپ میں لباس کے حوالے سے ایران کے سرکاری قواعد کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے سراہا تھا۔
بی بی سی فارسی نے پیر کو خبر دی تھی کہ ان کے دوست ان سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انھوں نے منگل کو ایک انسٹاگرام پوسٹ میں ’سب کو پریشان کرنے‘ کے لیے معافی مانگی اور کہا کہ وہ گھر جا رہی ہیں۔
اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ ’اچانک مجھے دیوار پر چڑھنے کے لیے بلایا گیا اور اس غیر متوقع کال کی وجہ سے میرے سر سے حجاب نادانستہ طور پر گر گیا۔‘
پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ ’پہلے سے طے شدہ شیڈول کے تحت ٹیم کے ساتھ‘ ایران واپس جارہی ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے ان کے بھائی کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ایک نیوز کانفرنس میں ’تفصیلات بیان کریں گی‘ اور وہ ’ایرانی قومی ٹیم کی شرٹ پہن کر‘ مقابلہ کرتی رہیں گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل جنوبی کوریا میں ایرانی سفارت خانے نے کہا تھا کہ ریکابی منگل کی صبح سیئول سے ایران کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ اس نے ان کے بارے میں ’تمام جعلی خبروں، جھوٹ اور جھوٹی معلومات‘ کی سختی سے تردید کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انٹرنیشنل فیڈریشن آف سپورٹ کلائمبنگ (آئی ایف ایس سی) کا کہنا ہے کہ وہ ریکابی اور ایرانی کلائمبنگ فیڈریشن سے رابطے میں ہے اور حقائق کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کی حفاظت ہمارے لیے سب سے اہم ہے اور ہم اس صورتحال میں اپنی کمیونٹی کے ایک قابل قدر رکن کو محفوظ رکھنے کی کسی بھی کوشش کی حمایت کرتے ہیں۔ ’آئی ایف ایس سی کھلاڑیوں کے حقوق، ان کے انتخاب، اور آزادی اظہار کی مکمل حمایت کرتی ہے۔‘
ایک ذریعے نے پیر کو بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ریکابی کا پاسپورٹ اور موبائل فون ضبط کر لیا گیا ہے۔ ان کے خاندان اور دوستوں نے ان کے ساتھ رابطہ منقطع کر دیا جب انھوں نے بتایا کہ وہ ایک ایرانی اہلکار کے ساتھ ہیں۔
بی بی سی فارسی کے نامہ نگار رانا رحیم پور کا کہنا ہے کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ ایران واپسی پر محترمہ ریکابی کو براہ راست جیل لے جایا جائے گا۔
ملک میں خواتین کو اپنے بالوں کو حجاب سے اور اپنے بازوؤں اور پیروں کو ڈھیلے کپڑوں سے ڈھانپنا ضروری ہے۔ خواتین ایتھلیٹس کو بھی جب وہ بیرون ملک مقابلوں میں باضابطہ طور پر ایران کی نمائندگی کر رہی ہوں ڈریس کوڈ کی پابندی کرنا ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
دو سال قبل ایک ایرانی شطرنج ریفری نے کہا تھا کہ شنگھائی میں خواتین کی عالمی شطرنج چیمپیئن شپ کے دوران ایک تصویر وائرل ہونے کے بعد اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔
سحری بیات نے اصرار کیا کہ انھوں نے اس وقت اپنے بالوں پر حجاب پہن رکھا تھا لیکن بعد میں وہ برطانیہ فرار ہو گئیں اور انھیں متنبہ کیا گیا کہ اگر وہ ایران واپس آئیں تو انھیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے بیات نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لازمی حجاب قوانین اور کٹر پسند مذہبی حکومت کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے جواب میں ایرانی حکام کی جانب سے پرتشدد کریک ڈاؤن پر کارروائی کرے۔
یہ بھی پڑھیے
یہ مظاہرے 13 ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس کی جانب سے گرفتار کی جانے والی 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد شروع ہوئے تھے۔
پولیس نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ان کے سر پر لاٹھی سے حملہ کیا گیا تھا اور کہا کہ انھیں دل کا دورہ پڑا تھا۔
منگل کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ وہ ’مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی طرف سے بلا روک ٹوک پرتشدد ردعمل، اور من مانی گرفتاریوں اور بچوں کے قتل اور حراست کی اطلاعات‘ پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔
ترجمان روینا شمداسانی نے کہا کہ کچھ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کم از کم سات صوبوں میں آتشیں اسلحہ، پیلٹ گنوں اور جان لیوا مار پیٹ سے کم از کم 23 بچے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز نے متعدد سکولوں پر چھاپے مارے اور بچوں کو گرفتار کیا جبکہ تعاون نہ کرنے پر کچھ پرنسپلز کو گرفتار بھی کیا گیا۔
ناروے میں قائم ایران انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 215 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام نے پر امن مظاہرین کو ہلاک کرنے سے انکار کیا ہے اور اس کے بجائے غیر ملکی حمایت یافتہ ’فسادیوں‘ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔












