25 کروڑ کی لاٹری جیتنے والا انڈین رکشہ ڈرائیور: ’کاش میں نہ جیتا ہوتا‘

،تصویر کا ذریعہAV Muzafar
- مصنف, عمران قریشی
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
انڈین ریاست کیرالہ میں 25 کروڑ کی لاٹری جیتنے والے رکشہ ڈرائیور انوپ کے گھر آنے والوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔ اب انوپ اس بات پر پچھتا رہے ہیں کہ رواں ماہ کے آغاز میں آخر ان کی لاٹری کیوں نکلی، جس نے ان کے لیے ایک اور مشکل کھڑی کر دی ہے۔
انوپ کا کہنا ہے کہ ’لوگوں نے تو میری زندگی ہی اجیرن بنا دی ہے، اس سے بہتر تھا کہ میں یہ لاٹری نہ جیتتا اور میرے لیے تیسرا انعام بہتر تھا۔‘
انوپ نے بعد میں ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے جس میں وہ اجنبی لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ انھیں اور ان کی فیملی کو تنگ کرنا بند کر دیں۔
اس وقت انوپ اپنے خاندان والوں کے ساتھ اپنا گھر چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں کے پاس رہ رہے ہیں۔
اپنے ویڈیو پیغام میں انوپ نے کہا کہ وہ لوگوں کی توجہ سے بچنے کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
لاٹری جیتنے کی خبر کے بعد انوپ اور ان کا خاندان میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
انوپ نے مزید کہا کہ ’جب میں نے یہ انعام جیتا تھا میں بہت خوش تھا۔ گھر کے اطراف لوگ اور کیمرے تھے اور ہم بہت خوش تھے۔‘
’اب میں گھر سے باہر نہیں جا سکتا‘
ان کے مطابق اس کے بعد صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اب میں گھر سے باہر کہیں نہیں جا سکتا۔ میرا بچہ بیمار ہے مگر میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر نہیں جا سکتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انوپ کا کہنا ہے کہ قرض کے طلبگاروں کی آمد کا سلسلہ صبح سے ہی شروع ہو جاتا ہے اور ’مجھے ہر ایک کو بتانا پڑتا ہے کہ ابھی مجھے رقم ملی ہی نہیں ہے۔ میری مشکل سمجھنے کی کوئی بھی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ چاہے میں کتنی دفعہ بھی انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کروں۔‘
کیرالہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پیسے ملنے سے قبل انوپ کو فنانشل مینجمنٹ سے متعلق ٹریننگ دیں گے کہ وہ اس پیسے کو کس طرح خرچ کریں۔

،تصویر کا ذریعہAV Muzafar
رکشہ ڈرائیور انوپ کی لاٹری جیتنے کی انوکھی داستان
جب انوپ اپنے دو سالہ بیٹے کا گلک توڑ کر پیسے نکال رہے تھے تو ان کی اہلیہ اس حرکت پر غصہ کر رہی تھیں۔
بیوی کے غصے کو نظرانداز کرتے ہوئے انوپ نے گلک سے 50 روپے لے کر ’اونم بمپر‘ لاٹری کا ٹکٹ خریدا اور اسی ٹکٹ پر اُن کا 25 کروڑ کا انعام نکل آیا۔
انوپ نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’وہ (اہلیہ) غصے سے کہہ رہی تھیں کہ لاٹری ٹکٹ کے لیے گلک توڑنا درست نہیں ہے لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ لاٹری نکل آئی ہے تو مجھے یقین نہیں آیا۔ پہلے تو میری بیوی کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا تاہم بعد میں وہ بہت خوش ہوئی۔‘
انوپ کو یہ لاٹری ٹکٹ خریدنے کے لیے 500 روپے درکار تھے لیکن ان کے پاس ساڑھے چار سو روپے تھے اور 50 روپے کی کمی انھوں نے اپنے بیٹے کے گلک کو توڑ کر پوری کی۔
ان کے مطابق اگلے ہی دن لاٹری کی قرعہ اندازی ہونے والی تھی اس لیے ان کے پاس کوئی اور طریقہ نہیں تھا تاہم ان کی یہ کوشش ان کے خاندان کے لیے قسمت کا دروازہ کھولنے کے مترادف ثابت ہوئی۔
خیال رہے کہ کیرالہ کے دارالحکومت تروننتاپورم کے رہنے والے انوپ پر کئی لاکھ کا قرض ہے جو وہ اب اس انعامی رقم سے اتارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ پچھلے سال اونم بمپر لاٹری کا سب سے بڑا انعام ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کے نام نکلا تھا اور انوپ بھی آٹو رکشہ چلاتے رہے ہیں۔
29 سالہ انوپ کا اس وقت کہنا تھا کہ ’میں ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتا تھا۔ کچھ عرصہ دبئی میں بھی رہا۔ واپس آنے کے بعد میں نے یہاں رکشہ چلانا شروع کیا۔ میں ہر ماہ 20 سے 25 ہزار روپے کماتا تھا لیکن تین مہینے پہلے میں نے کام چھوڑ دیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
ملائیشیا جانے کے لیے بینک سے قرض لیا
رکشہ چلانے کی نوکری چھوڑنے کے بعد، انوپ نے اپنے تجربے کی بنیاد پر بطور شیف نوکری کی تلاش شروع کی اور انھیں ملائیشیا میں 50 ہزار روپے ماہانہ کی نوکری بھی مل گئی۔
ملائیشیا جانے کے لیے انھوں نے مقامی بینک میں تین لاکھ روپے قرض کے لیے بھی درخواست دی تھی۔ انوپ کے مطابق ’انعام نکلنے سے ایک دن قبل ہی بینک نے میری قرض کی درخواست منظور کی لیکن میں ابھی تک بینک نہیں گیا‘۔
انوپ سات برس سے لگاتار لاٹری ٹکٹ خرید رہے تھے لیکن اس سے پہلے انھیں کبھی بھی 2000 روپے سے زیادہ جیتنے کا موقع نہیں ملا۔
انھوں نے کہا، ’ پہلے میں لاٹری کے ٹکٹ کبھی کبھار ہی خریدتا تھا لیکن کچھ برسوں سے میں نے باقاعدگی سے ٹکٹ خریدنا شروع کیے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ٹیکس اور لاٹری ایجنٹ کے کمیشن کی ادائیگی کے بعد، انوپ کو 25 کروڑ کی انعامی رقم سے کل 15 کروڑ 75 لاکھ روپے ملیں گے۔
اس سوال پر کہ وہ اس رقم کا کیا کریں گے، انوپ نے کہا، ’ابھی تک کچھ نہیں سوچا ہے۔ میں ابھی تک خوفزدہ ہوں۔ میں گھر ضرور بناؤں گا، ضرورت مندوں کی مدد بھی کروں گا۔ اس کے علاوہ ایک ہوٹل بھی کھولوں گا‘۔
ان کا یہ ضرور کہنا تھا کہ ایک کام وہ ضرور کریں گے اور وہ یہ کہ ’جیک پاٹ‘ جیتنے کے بعد بھی وہ لاٹری کا ٹکٹ خریدتے رہیں گے۔
خیال رہے کہ کیرالہ حکومت کو لاٹری ٹکٹوں کی فروخت سے بہت آمدن ہوتی ہے۔
گذشتہ ہفتے تک حکومت نے لاٹری ٹکٹس کی فروخت سے تقریباً 270 کروڑ روپے اکٹھے کیے تھے اور یہ آمدن انعام کی رقم اور جنرل سیلز ٹیکس کی ادائیگیوں کو منہا کرنے کے بعد کی ہے۔










