پاکستان سے ایف 16 طیاروں کی ڈیل کو انڈیا کے لیے پیغام نہ سمجھا جائے، امریکہ کا نئی دلی کے اعتراضات پر جواب

،تصویر کا ذریعہEPA/OLIVIER HOSLET
پاکستان کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی سسٹینمنٹ پروگرام کی منظوری کے بعد انڈیا کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے امریکہ نے کہا ہے کہ اس ڈیل کو روس سے تعلقات کے تناظر میں نئی دلی کے لیے ایک پیغام نہ سمجھا جائے۔
واضح رہے کہ امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے حال ہی میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ایف 16طیاروں کی مرمت کی جائے گی اور اس سے متعلق ساز و سامان بھی دیا جائے گا تاہم اس میں ہتھیار شامل نہیں ہوں گے۔
بیان کے مطابق اس سے پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جاری مہم میں مدد ملے گی۔ تاہم امریکہ کا کہنا تھا کہ اس ڈیل سے خطے کا فوجی توازن متاثر نہیں ہو گا۔
انڈیا کا اعتراض اور امریکی ردعمل
انڈیا کے انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ میں شائع خبر کے مطابق امریکی وزارت دفاع میں انڈو پیسیفک سکیورٹی امور کے اسسٹنٹ سیکریٹری ایلی ریٹنر نے چند مخصوص میڈیا تنظیموں کے نمائندوں اور تھینک ٹینکس سے گفتگو میں کہا کہ اس ڈیل کو انڈیا اور روس کے تعلقات سے نہ جوڑا جائے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ انڈیا کو اس معاہدے سے پہلے اور اس کے دوران اس ڈیل کی بابت تمام معلومات فراہم کی گئی تھیں۔
اخبار کے مطابق ایلی ریٹنر نے کہا کہ امریکی حکومت کا یہ فیصلہ پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے جس میں بنیادی طور پر دہشت گردی اور جوہری سلامتی پر توجہ دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اعلان سے پہلے انڈیا کو معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا۔ میں نے اپنے دہلی کے دورے کے دوران بھی اس بارے میں بات کی تھی۔‘
ریٹنر نے کہا کہ وہ انڈیا کے ساتھ اس معاملے میں شفافیت رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے انھیں اس معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈیا نے پاکستان کے ساتھ ایف 16 طیاروں کے حوالے سے معاہدے پر سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔ انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق امریکی اہلکار ڈونلڈ لو گذشتہ دنوں انڈیا کے دورے پر تھے اور اس دوران انڈین وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کئی بار اعتراض ظاہر کیا۔
اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ حکام نے ڈونلڈ لو کے ساتھ ہر دو طرفہ ملاقات کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا۔ ڈونلڈ لو کواڈ کے سینیئر افسران کی میٹنگ میں شرکت کے لیے دہلی آئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق انڈیا نے پاکستان کو ایف 16 کے لیے فراہم کی جانے والی تکنیکی مدد پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔جہاں پاکستان یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ مدد انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ضروری ہے، وہیں انڈین حکومت کا الزام ہے کہ پاکستان اس کا استعمال اس کے خلاف کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
معاہدے میں کیا کیا شامل ہے؟
اس معاہدے کا اطلاق پہلے سے فروخت شدہ ایف 16 طیاروں کی مرمت یا دیکھ بھال پر ہو گا تاکہ طیارے پرواز کی حالت میں رہیں۔
امریکہ کے مطابق پاکستان نے اس کے لیے امریکہ سے درخواست کی تھی۔
معاہدے کے مطابق ایف 16 کے انجن میں ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر میں تبدیلیاں کی جائیں گی اور انجن کی مرمت اور ضرورت کے مطابق نئے پرزوں کی تبدیلی سے ہو گی۔
لڑاکا طیاروں کے لیے امدادی سازو سامان فراہم کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق یہ معاہدہ تقریباً 450 ملین ڈالرز کا ہو گا اور لاک ہیڈ مارٹن نامی کمپنی اس معاہدے کو مکمل کرے گی۔
2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے، پاکستان کو دی جانے والی تین ارب ڈالر کی دفاعی امداد منسوخ کر دی تھی۔
انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسے گروپوں کو لگام دینے میں ناکام رہا ہے۔
امریکہ نے پاکستان کے علاوہ بحرین، بیلجیم، مصر، تائیوان، ہالینڈ، پولینڈ، پرتگال، تھائی لینڈ جیسے ممالک کو ایف 16 طیارے دیے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپاچی ہیلی کاپٹر کے لیے انڈیا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا کے ساتھ اس کا ایک بڑا دفاعی پارٹنر شپ پروگرام بھی ہے۔
اگر ہم اسلحے کی درآمد کا جائزہ لیں تو انڈیا امریکہ سے زیادہ اسلحہ روس سے خرید رہا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں انڈیا کی طرف سے امریکہ اور دیگر ممالک سے ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA/OLIVIER HOSLET
انڈیا امریکہ تعلقات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
امریکہ کی خارجہ پالیسی میں انڈیا کا مقام اہم ہے، دونوں اہم معاملات میں شراکت دار ہیں، جی 20، کواڈ، انڈو پیسفِک اکنامک فریم ورک جیسے فورمز میں ایک ساتھ ہیں۔ لیکن جنوبی ایشیائی خطے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
ایسے میں انڈیا کے اس اقدام کو سفارتی طور پر دیکھنا ناگزیر ہے کیونکہ انڈیا نہیں چاہے گا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ کسی قسم کا دفاعی معاہدہ کرے۔ لیکن کیا اس سے انڈیا اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہوں گے؟
خارجہ امور کے ماہر منوج جوشی کا کہنا تھا کہ انڈیا چاہے یا نہ چاہے، اسے امریکہ کے اس فیصلے کو ہر صورت قبول کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اپنی پوزیشن کی وجہ سے وہ سٹریٹجک لحاظ سے اہم ہے اور اسے کوئی نہیں چھوڑ سکتا۔ اس دوران امریکہ اور پاکستان کے تعلقات قدرے خراب ہوئے تھے لیکن امریکہ کا یہ فیصلہ اس بات کا مظہر ہے کہ ان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور دونوں ملک اچھے تعلقات کے لیے تیار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نہیں چاہتا کہ وہ صرف انڈیا کا ساتھ دے اور افغانستان، وسطی ایشیا، ایران سے منسلک پاکستان جیسے اہم ملک کو نظر انداز کرے۔ اب افغانستان میں طالبان دوبارہ برسراقتدار آ چکے ہیں اور امریکہ کو یہاں سے جانا پڑا ہے وہ اپنے پاؤں ایشیا میں ایسی جگہ رکھنا چاہتا ہے جہاں سے وہ افغانستان پر نظر رکھ سکے اور ساتھ ہی یہاں کی علاقائی جغرافیائی سیاست پر بھی نظر رکھ سکے۔‘
منوج جوشی کا کہنا تھا کہ ’روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ انڈیا کے رویے سے خوش نہیں ہے، کئی بار امریکی لیڈروں نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ روس سے تیل خریدنا بند کر دے۔ انڈیا امریکہ کے مفادات کے پیش نظر سنبھل کر قدم اٹھاتا رہا ہے۔ امریکہ بھی انڈیا کے بعض فیصلوں کو نظر انداز کرتا رہا ہے لیکن اب اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مستحکم ہو سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایف 16 کب اور کیسے بنایا گیا؟
سنہ 1972 میں جب ہلکے جنگی طیاروں کی ضرورت محسوس ہوئی تو جنرل ڈائنامکس نامی کمپنی نےایف 16 طیارے بنائے۔ طیارے کا نام فائٹنگ فالکن یعنی ایف 16 تھا۔
یہ سنگل سیٹ، سنگل انجن والے جیٹ طیارے تھے جو آواز کی دگنی رفتار سے اڑ سکتے تھے اور میزائلوں اور بموں کی ایک رینج لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
یہ کمپنی بعد میں لاک ہیڈ مارٹن کوآپریشن کا حصہ بن گئی۔
اس طیارے کی پہلی کھیپ 1978 میں امریکی فضائیہ میں پہنچی تھی۔
اس معاملے میں دفاعی ماہر سوشانت سرین کہتے ہیں ’امریکہ اس معاملے پر سفارتی کھیل کھیل رہا ہے، امریکہ کہتا رہا کہ وہ انڈیا کا بہت اچھا دوست ہے، لیکن وہ روس یوکرین جنگ کے حوالے سے انڈیا کے موقف سے ناراض ہے کیونکہ انڈیا نے روس کے ساتھ تعلقات جاری رکھے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ 'یہ قدم اٹھا کر وہ یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اگر آپ اپنے طریقے سے کھیلیں تو ہم بھی پاکستان کو اپنے کھیل میں شامل کر سکتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ یہ ان کی تنگ نظری ہے، کیونکہ پاکستان چین کے قریب آتا جا رہا ہے اور امریکہ اور چین کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، ایسی صورتحال میں امریکہ کا چین کے دوست کی جانب ہاتھ بڑھانا اور انڈیا کو ناراض کرنا میری سمجھ سے باہر ہے، اس کا اثر دونوں کے درمیان اعتماد پر پڑ سکتا ہے۔‘
اسی دوران دفاعی ماہرین راہول بیدی کا کہنا ہے کہ 'انڈیا کے لیے کچھ عجیب صورتحال ہوگی کیونکہ ٹرمپ نے 2018 میں پاکستان کے ساتھ معاہدہ منسوخ کردیا تھا، لیکن بائیڈن انتظامیہ کے اس فیصلے سے لگتا ہے کہ اس کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہو رہا ہے۔ 45 کروڑ ڈالرز کا معاہدہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات جو تین چار سال سے خراب تھے اب بہتری کی راہ پر گامزن ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 'انڈیا کی سفارت کاری کے حوالے سے وہ امریکہ کو اپنا دوست سمجھتا ہے۔ وہ انڈیا کا دوست تو ہے لیکن پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی چاہتا ہے۔ اس سے انڈیا کی سفارت کاری کو دھچکا لگے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کو ایف 16 طیارے کب اور کیسے ملے؟
پاکستان نے سب سے پہلے 1981 میں امریکہ سے ایف 16 طیارے خریدے تھے ۔ یہ وہ وقت تھا جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔
لیکن پھر دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو گئے اور پاکستان کے ساتھ جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان میں سے 28 طیاروں کی خریداری روک دی گئی۔ خدشہ تھا کہ پاکستان ان طیاروں کو ایٹمی حملے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
لیکن اس کے لیے پاکستان پہلے ہی امریکہ کو 65۔8 کروڑ ڈالر دے چکا تھا جو بعد میں امریکہ نے واپس کر دیے تھے۔
لیکن پھر 2001 میں صورتحال بدل گئی۔ 9/11 کے واقعے کے بعد امریکہ میں ٹوئن ٹاورز پر حملے ہوئے۔ اس کے بعد ایشیا خصوصاً پاکستان اور افغانستان امریکی خارجہ پالیسی کے نقطہ نظر سے بہت اہم ہو گئے اور اس وقت کے پاکستانی صدر پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کا وعدہ کیا۔
اس کے بعد امریکہ نے پاکستان پر سے پابندی ہٹاتے ہوئے پاکستان کو 18 جدید ایف 16 طیارے دیے۔ اس کے علاوہ پہلے سےخریدے ہوئے جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا.
2011 میں، ایف 16 سمیت سی -130، ٹی- 37 اور ٹی -33 طیاروں کے پرزوں کے لیے 6۔2 کروڑ ڈالر کے معاہدے کی منظوری دی گئی تھی۔
پھر 2016 میں امریکہ نے پاکستان کے ساتھ تقریباً 70 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا، جس کے تحت اسے آٹھ ایف 16 بلاک 52 طیارے فروخت کیے گئے۔
اس کے بعد 2019 میں پاکستان کی درخواست پر ایف 16 منصوبے میں تکنیکی معاونت کے لیے ٹیکنیکل سکیورٹی ٹیم کے لیے 12 کروڑ ڈالر کے معاہدے کی منظوری دی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہJOE GIDDENS/PA WIRE
رافیل کے مقابلے ایف 16 کتنا طاقتور ہے؟
لیکن ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب جب امریکہ نے پاکستان سے ان طیاروں کو ورکنگ کنڈیشن میں رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تو اس کے پورے خطے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس کا اثر پاکستان کی عسکری طاقت پر بھی پڑے گا؟
انڈیا کے پاس جنگی طیاروں کا ایک بڑا بیڑا بھی ہے، جس میں جدید رافیل طیارے بھی شامل ہیں، جو انڈیا نے فرانس سے خریدے ہیں تو رافیل کے مقابلےایف 16کتنے طاقتور ہیں؟
راہول بیدی کا کہنا ہے کہ 'ایف 16 تقریباً 3.5 جنریشن طیارے ہیں جبکہ رافیل 4۔5 جنریشن کا طیارہ ہے اور بہت بہتر ہے۔ سکھوئی-30 اور میراج 2000 بھی ایف 16کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ' امریکہ نے بیان میں کہا ہے کہ اس سے خطے کے فوجی توازن پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ ایک سپورٹ پیکج ہے، ہتھیاروں کا کوئی نیا سودا نہیں ہے اور پاکستان کافی عرصے سے ایف 16 چلا رہا ہے'۔
پاکستان کے پاس کتنے F-16 طیارے ہیں؟
فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایرون سٹین اور رابرٹ ہیملٹن کی 2020 کی ایک اہم رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس کل 85 ایف 16 طیارے ہیں۔
ان میں سے 66 پرانے بلاک 15 کے ہیں اور 19 جدید بلاک 52 ماڈل کے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق پاکستان اب تک F-16 طیاروں کی دیکھ بھال پر 3 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکا ہے۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا امریکہ اور چین کے بگڑتے تعلقات کے پیش نظر پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا سلسلہ جاری رکھے گا؟
منوج جوشی کا کہنا ہے کہ 'یہ درست ہے کہ پاکستان ایک طرف امریکہ سے ہتھیار لے گا تو دوسری طرف چین سے بھی ہتھیار لیتا رہے گا کیونکہ امریکہ اسے ہر قسم کے ہتھیار نہیں دے گا۔ لیکن امریکہ کو یہ پہلے سے معلوم ہے اور اسے پاکستان پر بھروسہ ہے کہ وہ ایک حد سے آگے نہیں بڑھے گا اور امریکہ کے خلاف کچھ نہیں کرے گا۔‘
حالانکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انڈیا کے لیے معاملہ ابھی اتنا سنجیدہ نہیں لگتا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ پاکستان کے معاملے میں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھائے گا اور انڈیا کے لیے معاملہ اس وقت سنگین ہو گا جب امریکہ پاکستان کو نئے ہتھیار دے گا۔‘
ساتھ ہی راہول بیدی کا کہنا ہے کہ ’ایسا نہیں ہے امریکہ کے اس فیصلے سے پاکستان کی فوج مضبوط ہوگی، لیکن اسے اعتماد ضرور ملے گا، پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان میں یہ سوچ تھی کہ امریکہ نے پاکستان کو چھوڑ دیا ہے، لیکن امریکہ کے اس اقدام نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ رہنے کی اس کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ شروعات ہیں، امریکہ آنے والے وقت میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا، یہ نہیں معلوم کہ امریکہ پاکستان کو ایف 16 دے گا یا نہیں، لیکن یہ بات طے ہے کہ دونوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے۔‘











