ماروتی سے امول تک: وہ پانچ برینڈ جنھوں نے آزادی کے بعد انڈیا کی پہچان بنائی

امول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سنتوش ڈیسائی
    • عہدہ, مصنف

کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو امر ہو جاتی ہیں۔ جیسے کسی یادگار اشتہار کی موسیقی یا پھر اس مکھن کا ذائقہ جو آپ نے بچپن میں کھایا ہو۔

یہی وہ چیز ہوتی ہے جو صارفین کو کسی برینڈ کی محبت میں گرفتار کر دیتی ہے اور پھر وہ اسی کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انڈیا میں بھی ایسے کئی مقامی برینڈ ہیں جنھوں نے گذشتہ دہائیوں کے دوران لوگوں کے گھر اور دل دونوں میں ہی جگہ بنائی۔

ان مشہور برینڈز نے انڈیا کو آزادی کے بعد خودکفیل بننے میں مدد دی اور صارفین کے رویوں کا بھی تعین کیا۔ یہی نہیں ان برینڈز نے اپنے اپنے شعبوں کو جدت بخشی۔

75 سال بعد بھی یہ برینڈز عالمی سرمایہ کاروں کو انڈیا کی مارکیٹ کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں ان میں سے چند نامور برینڈز کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں جنھوں نے انڈیا اور اس کے شہریوں کو ایک پہچان دی۔

امول

امول

،تصویر کا ذریعہAMUL

اس کمپنی کی دودھ سے بنی مصنوعات انڈیا میں ہر جگہ دکھائی دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ برینڈ دودھ کی مصنوعات کے معاملے میں انڈیا کی پہلی دس تیز ترین فاسٹ موونگ کنزیومر کمپنیز میں سے ایک ہے۔

امول کا آغاز گجرات کی ریاست سے ہوا تھا جب ہزاروں کاشتکاروں کو اس ارادے سے اکھٹا کیا گیا تاکہ ایک کامیاب ڈیری بزنس بنایا جائے۔

ڈاکٹر کورئین کی سربراہی میں شروع ہونے والے اس منصوبے کو انڈیا میں دودھ کا انقلاب کہا جاتا ہے جس نے ایک کوآپریٹیو بزنس ماڈل کو بہتر بنایا اور آج لاکھوں لوگوں کی ملازمت کا ذمہ دار ہے۔

بڑی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں سے مقابلے کے باوجود امول آج بھی انڈیا میں ڈیری بزنس میں اپنا مقام قائم رکھے ہوئے ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کمپنی اور برینڈ وقت کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔

امول نے معاشرے کو ایک ایسے وقت میں آئینہ دکھانے کا کام بھی کیا جب کوئی اور برینڈ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ’امول گرل‘ کے اشتہاروں کے ذریعے سیاسی سکینڈل سے لے کر کسی اداکار کی موت تک ہر اہم واقعے پر تبصرہ کیا گیا۔

اور یہی امول کی خوبصورتی بھی ہے کہ یہ ایک مقامی بزنس ہے جس نے ہمیشہ معاشرتی اچھائی کو اہم سمجھا۔

پارلے جی بسکٹ

پارلے جی بسکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پارلے جی پروڈکٹس کا گلوکوز بسکٹ مقدار کے اعتبار سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے بسکٹس میں سے ہے۔

اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس بسکٹ نے انڈیا کو متحد کیا۔

اس کی شروعات اس سوادیشی تحریک سے ہوئی تھی جب 1900 کی شروعات میں خود کفالت کا نعرہ بلند کیا گیا اور مہنگے بین الاقوامی بسکٹس کے مقابلے میں ایک مقامی برینڈ بنایا گیا۔

انڈیا میں پارلے جی جلد ہی چائے کا لازم و ملزوم حصہ بن گیا۔ اس کی شہرت کی ایک وجہ اس کی ثقافتی اہمیت بھی ہے کیوں کہ ہر انڈیا میں ذات، مذہب سے بالاتر ہو کر ہر خاص و عام کے لیے چائے میں پارلے جی بسکٹ ڈبو کر کھانا عام سی بات ہے۔

ماروتی

ماروتی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک طویل عرصے تک انڈیا میں مخصوص مالدار لوگ ہی کار خرید سکتے تھے جبکہ مڈل کلاس کے لیے تو یہ ایک خواب تھا۔ پھر ماروتی آئی جس نے صرف پچاس ہزار روپے قیمت میں کار متعارف کرائی۔

800 سی سی کار اس وقت کی بھاری بھرکم ایمبیسیڈر گاڑی سے کہیں زیادہ پائیدار تھی جو 1960 سے 1990 تک انڈیا میں واحد لگژری گاڑی تھی۔

ماروتی نے انڈیا کی مڈل کلاس کا خواب پورا کرنے کے ساتھ ساتھ صارفین کے رویے کو بھی بدلا۔ سفر اور خواب، دونوں ہی جمہوری یعنی عام ہو گئے۔

خاندانوں نے ماروتی سے جانا کہ ان کا جغرافیائی اور سماجی دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ اس طرح سے احتیاط اور تحمل مزاجی کے لیے مشہور انڈین معاشرے نے بخوشی کھپت کی اگلے سرحد کا سفر طے کیا۔

یہ بھی پڑھیے

نرما

نرما

،تصویر کا ذریعہNIRMA

1980 تک انڈیا کی مارکیٹ پر پرانے برینڈز کا غلبہ تھا لیکن نرما، جو ایک ڈیٹرجنٹ برینڈ تھا، نے گجرات کے احمد آباد شہر سے اس وقت اپنے سفر کی شروعات کے بعد بڑے بڑے برینڈز کو پیچھے چھوڑ دیا۔

جب عام کاروباری اشتہار پر پیسہ لگانے کو ضیاع سمجھتے تھے، نرما نے تشہیری مہم پر بہت پیسہ لگایا۔ نرما کے اشتہاری گانے میں اس کے نام کی تکرار نے اس برینڈ کو گھر گھر تک پہنچا دیا۔ اس موسیقی کو نئی نسل نے ری مکس کیا اور نئی طرز سے پیش کیا یعنی یہ آج بھی زندہ ہے۔

اس برینڈ نے میڈیا کے طاقت ور ترین ہتھیار کو استعمال کرتے ہوئے کھپت بڑھائی جو اس کی دور اندیشی اور آگے بڑھنے کی خواہش کا ثبوت ہے۔

اس برینڈ کی ایک اور قابل ستائش حکمت عملی یہ تھی کہ اس نے ان نکتوں پر بھرپور توجہ دی جو نہایت اہم تھے یعنی ایک معیاری پراڈکٹ مناسب قیمت پر فراہم کیا جس کے لیے بہترین ڈسٹریبیوشن ماڈل کا استعمال کیا گیا۔

یوں نرملا نے خود کو انڈیا کے لاکھوں شہریوں کے لیے ناگزیر بنا لیا جو معیاری لیکن سستی پراڈکٹس کے خواہش مند تھے۔

یہ برینڈ اب ایک ایسے کاروباری جذبے کی علامت بن چکا ہے جو کامیابی کے لیے بھوکا ہے اور جسے انڈیا کی مارکیٹ میں کامیابی کا راستہ بنانا بھی آتا ہے۔

جیو

جیو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ریلائنس انڈسٹریز کا جیو برینڈ انڈیا کے ٹیلی کام سیکٹر کا بڑا نام بن چکا ہے۔

ایشیا کے امیر ترین شخص مکیش امبانی نے اس برینڈ کو 2016 میں لانچ کیا تھا۔ اس وقت انڈیا کے ٹیلی کام سیکٹر پر کئی بین الاقوامی برینڈ راج کر رہے تھے۔

لیکن جیو نے شاطرانہ حکمت عملی کے ذریعے پانسہ پلٹ دیا۔ چھ ماہ تک مفت ڈیٹا اور کالز کی آفر نے لاکھوں صارفین کو اس کی جانب متوجہ کیا اور انڈیا کی ڈیجیٹل مارکیٹ کو بدل کر رکھ دیا۔

اسی برینڈ کی بدولت انڈیا میں ڈیجیٹل ترقی تیز تر ہوئی اور آج یہ ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں عام آدمی بھی ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اسی لیے انڈیا عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک اہم مارکیٹ بن چکا ہے۔

جیو نے انڈیا میں ڈیجیٹل ادائیگی نظام کو بھی فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگر اس کی کوئی ایک خامی ہے تو وہ یہ کہ اسی ڈیجیٹل انقلاب نے انڈیا میں معاشرے کی اس تقسیم میں بھی حصہ ڈالا جس میں آج یہ ملک پھنسا ہوا ہے۔