افغان پناہ گزین: ’اگر میں افغانستان میں ہوتا، تو ابھی تک قتل کر دیا گیا ہوتا‘

- مصنف, ثنا ساپی اور کاوون خموش
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
ٹھیک ایک سال قبل آج ہی کے دن، امریکی سربراہی میں مغربی ممالک کے اتحاد کی افواج کا افغانستان سے انخلا مکمل ہوا تھا جس کے بعد 20 سالوں سے جاری جنگ اور امریکہ کے افغانستان پر قبضے کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
ملک پر طالبان نے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اس دوران بین الاقوامی افواج کے ساتھ کام کرنے والے ہزاروں سابق سرکاری ملازمین اور سکیورٹی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو اچانک اپنی جان کے حوالے سے پریشانی پڑ گئی۔ اکثر افراد بطور پناہ گزین افغانستان سے فرار ہوئے تھے اور تاحال وہ مستقل رہائش کے لیے بھٹک رہے ہیں۔
ان کی حفاظت کے لیے اس تحریر میں جن افراد سے بات کی گئی ہے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی ہے۔
رحمت کا کہنا ہے کہ ’یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میں نے سمندر دیکھا ہے۔‘
افغانستان سے تعلق رکھنے والے تیس سالہ رحمت سمندر کو پہلی مرتبہ دیکھتے ہوئے پانی کے اس پر نظر دوڑا رہے ہیں۔ وہ فرانس میں کلیس کی بندرگاہ پر بحری جہازوں کو آتا جاتا دیکھ رہے ہیں۔
تاہم پہلی مرتبہ سمندر کو دیکھنے کا منظر یوں تو خاصا دلکش ہونا چاہیے تھا، لیکن رحمت کو اس وقت ایک عجیب سے خوف نے گھیرا ہوا ہے۔
کلیس میں درجنوں افغان باشندوں کے ساتھ رحمت ایک سمگلر کی کال کا انتظار کر رہے ہیں جو انھیں یہ بتائے گا کہ اب سمندر پار کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سمندر کی نظر اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے خوف آتا ہے۔ جیسے میں موت کو براہ راست دیکھ رہا ہوں۔ میں یہاں ہوتا ہی نہ اگر افغانستان میرے لیے محفوظ ہوتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ کی وزارتِ داخلہ کے مطابق افغان جو سمندر پار کر کے برطانیہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی تعداد میں افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے پانچ گنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
اب ہر چار میں سے ایک شخص یہ خطرناک سفر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

طالبان کی جانب سے افغانستان پر قبضے کے بعد سے رحمت کے گاؤں کے لوگ لاپتہ ہونے لگے ہیں۔ ان کی لاشیں بعد میں منظر عام پر آتی ہیں تو یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ انھیں کس نے قتل کیا۔
’ہمارے پاس اس بات کو جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے اور یہ کس نے کیا۔
کابل میں طالبان قیادت کی جانب سے ملک کے تمام حکومتی ملازمین ’عام معافی‘ کا اعلان کیا گیا تھا اور اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ان کے خلاف رحم دلی سے پیش آئیں گے جو ان کے خلاف ہوں گے۔
تاہم گذشتہ 12 ماہ کے دوران ذرائع ابلاغ اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے کی گئی آزادانہ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق حکومتی افسران اور سکیورٹی فورسز کے اراکین کو جبری لاپتہ کرنے کے علاوہ ہلاک بھی کیا گیا ہے۔
رحمت کا دعویٰ ہے کہ ان کے گاؤں میں ہونے والی ہلاکتیں بدلہ لینے کے لیے کی گئیں اور یہ طالبان اہلکاروں نے ایسے افراد کے خلاف کراوئیں جو سابق حکومت کی حمایت کرتے تھے۔
مقامی طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان افراد کے عسکریت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ساتھ تعلقات تھے۔
تاہم رحمت کے والد، ان کے دو بھائیوں، تمام حکومتی اہلکاروں، ان کے خاندان کے لوگ خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ اپنے بیٹوں کے تحفط کے بارے میں پریشان رحمت کے والد نے اپنے بیٹوں کو دعاؤں کے ساتھ افغانستان چھوڑنے کی اجازت دے دی۔
ایران، ترکی ار سربیا میں کئی ماہ تک سفر کرنے کے بعد رحمت بالآخر جون میں کلیس پہنچے۔ یہاں پہنچنے پر انھیں درجنوں دیگر افغان باشندے ملے جو تمام ہی حکومتی ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ تمام ہی برطانیہ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ سب برطانیہ کیوں جانا چاہتے ہیں؟
ایک ترک کردہ میدان پر موجود اس پناہ گزین کیمپ جسے سنہ 2016 میں گرا دیا گیا تھا کو ’کلیس جنگل‘ بھی کہا جاتا تھا۔ درجنوں افغان باشندے، جن میں تمام ہی مرد تھے یہاں کھڑے گپ شپ کر رہے ہیں اور اپنے فون چارج کر رہے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ برطانیہ کیوں جانا چاہتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ہمارے مقدمے وہاں سنے جائیں گے۔‘
ایک شخص کا کہنا ہے کہ ’یا کم از کم ہمیں بارش سے بچنے کے چھت مل جائے گی۔‘
یہ تمام افراد ڈبلن ریگولیشن کے بارے میں بحث کر رہے تھے جو یورپی یونین کا ایسا قانون ہے جس کے مطابق کسی بھی شخص کی کسی ملک میں پناہ لینے سے متعلق درخواست پر اس ملک کو کام کرنا چاہیے جس میں وہ سب سے پہنچتے ہیں۔
ان میں سے اکثر افراد کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ان کے فنگرپرنٹ بلگاریا میں لیے گئے تھے۔ تاہم یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ جب انھیں مقامی سرحدی پولیس کی جانب سے برے سلوک کا سامنا کرنا پڑا تو انھوں نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ وہ برطانیہ جائیں جہاں ڈبلن ریگولیشن کا نفاذ نہیں ہوتا۔
بلگاریہ کے حکام نے اس بارے میں مؤقف دینے سے انکار کیا ہے۔

اس سمندر کو پار کرنے کے لیے تمام افراد نے سملگرز کے نیٹ ورک کو ہزاروں ڈالر دیے تاکہ وہ انھیں افغانستان سے کلیس تک پہنچا دیں اور پھر برطانیہ لے جائیں۔
21 سالہ ساجد افغان فوج کا حصہ رہے ہیں۔ انھوں نے اگلے مورچوں پر طالبان اور نام نہاد دولتِ اسلامیہ کا مقابلہ کیا۔
آج وہ اپنے شب و روز کلیس میں ایک درخت کے نیچے سو کر گزارتے ہیں جو ڈوور سے صرف 60 میل دور ہے۔
وہ اس وقت پاکستان کی سرحد کے قریب ایک پہاڑی علاقے کے پاس ڈیوٹی پر تھے جب انھیں معلوم ہوا کہ طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں آخری گولی تک لڑنے کے لیے تیار تھا۔‘ لیکن ان کے اعلٰی افسران نے انھیں ’ہتھیار ڈال کر گھر واپس جانے کا کہا۔‘
اپنے آنسو روکتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اب تک اس جنگ میں ان گنت دوست کھو چکے ہیں۔
ساجد کہتے ہیں کہ ’مجھے جانا پڑا۔ طالبان ہمیں نہیں چھوڑتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے عام معافی دے رکھی لیکن یہ سچ نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’آج تک بدلہ لینے کی روش جاری ہے۔ ہمارے گاؤں کے مزید چھ افراد لاپتہ ہیں۔ متعدد مارے جا چکے ہیں۔‘
روانڈا؟
برطانیہ کی جانب سے ملک میں پناہ حاصل کرنے والے افراد کو روانڈا بھیجنے کی متنازع پالیسی کے بارے میں کلیس میں پھنسے افغان شہریوں کو بھی معلوم ہے۔
23 سالہ ہاشم افغان انٹیلیجنس سروسز میں کام کر چکے ہیں۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے طالبان کے قبضے کے چند ہفتوں میں ہی انھوں نے اپنے دوستوں کو کھو دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے تین دوست ایک پارک میں ایک دوسرے سے ملنے گئے۔ طالبان نے ان کی کھوج لگائی اور انھیں موقع پر قتل کر دیا۔ میرا ان سے بھائیوں والا رشتہ تھا۔‘
’کشتی کے ذریعے اس پانی کو عبور کرتے ہوئے مجھے معلوم ہے کہ 99.99 فیصد چانس ہے کہ میں مر جاؤں لیکن اگر میں افغانستان میں ہوتا تو ابھی تک مارا گیا ہوتا۔‘
’برطانیہ شاید ہمیں روانڈا بھیج دے لیکن میں چاہتا ہوں کہ مجھے ایک موقع ملے کہ میں اپنا مقدمہ ان کے سامنے رکھ سکوں اور انھیں بتاؤں کہ میں نے یہ ملک کیوں چھوڑا۔











