افغان پائلٹ جسے امریکی پیشکش ٹھکرانے اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹر طالبان حکومت کو دینے پر ’کوئی پچھتاوا نہیں‘

،تصویر کا ذریعہMohammad Edris Momand
- مصنف, عنایب الحق یاسینی اور سوامیناتھن نتراجن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
افغان پائلٹ محمد ادریس مومند کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگ شاید مجھ سے خوش نہیں ہوں گے۔ ان کی رائے الگ ہوسکتی ہے۔ لیکن میں انھیں بتاتا ہوں کہ وطن ماں کی مانند ہوتا ہے اور کسی کو اسے دھوکہ نہیں دینا چاہیے۔‘
مومند ان خاص افغان فوجی پائلٹس میں سے تھے جنھیں امریکہ میں طویل تربیت دی گئی مگر جب طالبان کابل پر قبضہ کرنے کے لیے آگے بڑھے تو انھوں نے اپنے اتحادیوں کا ساتھ چھوڑ دیا اور واپس اپنے آبائی علاقے چلے گئے جہاں انھوں نے خود اپنا ہیلی کاپٹر ان سابقہ دشمنوں کے حوالے کر دیا۔
وہ بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ ’میرا مقصد اس اثاثے کو محفوظ رکھنا تھا جو افغانستان کی ملکیت ہے۔‘
اس فیصلے کے ایک سال بعد وہ اپنا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکہ میں ٹریننگ

،تصویر کا ذریعہMohammad Edris Momand
مومند نے سال 2009 میں افغان فوج میں شمولیت اختیار کی اور انھوں نے چار سال تک امریکی ملٹری اکیڈمی (ویسٹ پوائنٹ) میں ٹریننگ حاصل کی۔
ابتدائی طور پر انھیں مغربی افغانستان میں ہرات میں تعینات کیا گیا جہاں وہ روسی ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر اڑاتے تھے۔ چار سال بعد انھیں بڑی ترقی دی گئی۔
وہ یاد کرتے ہیں کہ ’2018 کے اواخر میں جدید فضائی ٹیکنالوجی کے تجربے والے نوجوان پائلٹس کے ایک گروہ کو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اڑانے کے لیے چُن لیا گیا۔ تب سے میں بلیک ہاکس ہی اڑاتا تھا۔‘
ان بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کو سپلائی اور ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب صدر بائیڈن نے امریکی انخلا کا اعلان کیا
سنہ 2021 میں وہ مزار شریف میں تھے جب صدر بائیڈن نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ میں نائن الیون حملوں کے 20 سال مکمل ہونے کے موقع پر تمام دستوں کو وطن واپس بلا رہے ہیں۔ جولائی میں انخلا کی تاریخ بدل کر 31 اگست کر دی گئی۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغان فوج کی تربیت اور سامان پر اربوں ڈالر خرچ کیے تھے۔ انھیں امید تھی کہ ان کے انخلا کے بعد وہ طالبان کو روک سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہMohammad Edris Momand.
یہ امید محض ایک خواب ثابت ہوئی۔ افغان فوج نے طالبان سے مقابلہ کرتے ہوئے انتہائی تیزی سے ملک کا کنٹرول گنوا دیا۔
جولائی میں طالبان دیہی علاقوں میں قابض ہوچکے تھے۔ پھر 6 اگست کو پہلا صوبائی دارالحکومت طالبان کے کنٹرول میں چلا گیا۔
اکثر صوبوں پر قبضے کے بعد طالبان نے 15 اگست کو بغیر کسی رکاوٹ کے کابل پر قبضہ جما لیا۔
مسلح جنگجوؤں نے 7 ستمبر کو کابل کے شمال میں وادی پنجشیر کے آخری مزاحمتی گروہوں کو بھی کچل دیا۔
فرار ہونے کا حکم
جولائی میں ملک میں افراتفری کے دوران مزار شریف میں مومند کی چھ ماہ کی ڈیوٹی اختتام پذیر ہوئی۔ وہ 14 اگست کو کابل کے فضائی اڈے پر پہنچے۔
صورتحال کشیدہ تھی اور ایسی افواہیں تھیں کہ اعلیٰ سیاسی و فوجی قیادت ملک سے فرار ہو رہی ہے۔
مومند کو یاد ہے کہ ’ہمارے ایئر فورس کمانڈر نے تمام پائلٹس کو حکم دیا کہ وہ ہیلی کاپٹر لے کر ملک سے چلے جائیں۔ انھوں نے ہمیں ازبکستان جانے کا حکم دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہMohammad Edris Momand.
مومند کو اس حکم پر غصہ آیا۔ انھوں نے یہ حکم نہ ماننے کا فیصلہ کیا۔
وہ وضاحت دیتے ہیں کہ ’میرے کمانڈر مجھے ملک سے غداری کا کہہ رہے تھے۔ میں ایسا حکم کیسے مان سکتا ہوں؟ ملک سے غداری بدترین جرم ہے۔ اسی لیے میں نے یہ حکم نہیں مانا۔‘
انھوں نے جب اپنے خاندان سے مشورہ مانگا تو ان کے والد نے سخت موقف اختیار کیا۔ ’انھوں نے متنبہ کیا کہ وہ مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے اگر میں نے ملک چھوڑا۔‘ ان کے والد نے ان سے کہا کہ ’ہیلی کاپٹر افغانستان کا ہے۔ یہ ملک سے باہر نہیں جانا چاہیے۔‘
مومند کے صوبے پر پہلے ہی طالبان قبضہ کر چکے تھے۔ ان کے والد نے مقامی گورنر سے بات کی جنھوں نے تسلی دی کہ ہیلی کاپٹر یہاں لایا گیا تو پائلٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہMohammad Edris Momand
یوں مومند نے وہاں سے نکلنے کا منصوبہ بنایا۔ سب سے پہلی رکاوٹ فلائٹ پاتھ یعنی راستے میں تھی۔ ’بلیک ہاک کے عملے میں چار لوگ ہوتے ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ میں اپنے منصوبے کے حوالے سے ان پر اعتبار نہیں کر سکتا تھا۔‘
’مجھے یقین تھا کہ وہ نہیں مانیں گے۔ وہ میری زندگی کو خطرے میں ڈال سکتے تھے اور ہیلی کاپٹر بھی تباہ کر سکتے تھے۔‘
تو انھوں نے عملے کو دھوکہ دینے کا فیصلہ کیا۔ ’میں نے ایئر فورس کمانڈر سے کہا کہ ہیلی کاپٹر میں تکنیکی مسائل ہیں اور میں ٹیک آف نہیں کر سکتا۔ جب انھوں نے یہ سنا تو یہ تین لوگ ایک دوسرے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوگئے جو ازبکستان جا رہا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہMohammad Edris Momand.
کنٹر جانے کا سفر
جب تمام ہیلی کاپٹروں نے اڑان بھر لی تو انھوں نے 30 منٹ میں صوبہ کنڑ جانے کے لیے انجن سٹارٹ کیا۔
’ایئر ٹریفک کنٹرول امریکیوں کے زیر انتظام تھی۔ میں نے انھیں ریڈیو پر بتایا کہ میں ازبکستان کے لیے اڑان بھر رہا ہوں۔ ایئر پورٹ سے نکلنے پر میں نے ریڈار موڈ بند کر دیا اور سیدھا کنڑ چلا گیا۔‘
’میں اس گاؤں پہنچا جو میرے گھر سے قریب تھا۔ طالبان کی یقین دہانی کے بعد میں ہیلی کاپٹر اس مقام پر لے گیا جہاں ماضی میں کئی ہیلی کاپٹروں میں ایندھن بھرا جاچکا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ان کے خاندان، دوستوں اور پڑوسیوں نے ان کے فیصلے کی مکمل حمایت کی۔
اب انھیں اپنے اقدامات پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے بیوی بچوں سمیت افغانستان چھوڑنے کی پیشکش تھی مگر انھوں نے وہیں رکنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہMohammad Edris Momand
وہ کہتے ہیں کہ ’امریکی معاونین نے تین بار پیغام بھیجا۔
’انھوں نے کہا کہ اگر آپ ہیلی کاپٹر نہیں بھی لاسکتے تو خود اپنے خاندان کے ہمراہ بذریعہ سڑک آجائیں جہاں سے آپ کا انخلا ممکن ہوسکے گا۔ لیکن میں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔‘
افغان ایئر فورس کی طاقت
امریکہ میں افغانستان کی بحالی کے لیے قائم سپیشل انسپیکٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق جون 2021 کے اواخر تک افغان ایئر فورس کے پاس 167 طیارے تھے جن میں جنگی ہیلی کاپٹر اور جہاز بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان میں سے کچھ طیارے مومند کے ساتھی اڑایا کرتے تھے۔ 16 اگست کو ازبکستان کے ترمذ ایئر پورٹ کی سیٹلائٹ تصاویر کے جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں دو درجن سے زیادہ ہیلی کاپٹر لے جائے گئے۔ ان میں ایم آئی 17، ایم آئی 25، بلیک ہاک، اے 29 لائٹ اٹیک اور سی 208 جہاز بھی شامل ہیں۔
امریکی دستوں نے جہاں تک ممکن ہوا کابل میں چھوڑے گئے طیاروں کو ناکارہ بنانے کی کوشش کی۔
یہ غیر واضح ہے کہ اب افغانستان میں کتنے طیارے فعال ہیں۔
مومند نے کہا کہ ’اب ہمارے پاس سات بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ہیں جو غیر فعال ہیں۔ ان کی مرمت کے لیے افغان انجینیئرز کے پاس محدود وسائل ہیں۔ آہستہ آہستہ ہم دیگر بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کو فعال بنائیں گے۔‘
وہ اپنے ساتھیوں کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے ملک چھوڑنے کا حکم مان کر افغانستان کو بڑا نقصان پہنچایا۔
’وہ لوگ جو ہیلی کاپٹر اڑا کر ازبکستان چلے گئے انھوں نے اپنے ملک کے ساتھ بُرا کیا۔ ہیلی کاپٹر تو ہمارے ملک کے ہیں۔ یہ مہنگے ہیلی کاپٹر تھے۔ ہمیں نہیں لگتا ہمیں دوبارہ وہ ہیلی کاپٹر مل سکیں گے۔‘
’میں خدمت جاری رکھوں گا‘

،تصویر کا ذریعہMohammad Edris Momand
امریکہ میں ٹریننگ کے دوران انھیں بتایا گیا تھا کہ ایک پائلٹ کو ہیلی کاپٹر اڑانے کی تربیت دینے میں 60 لاکھ ڈالر کی لاگت آتی ہے۔ مومند اس سیکھنے کے موقع کو اہمیت دیتے ہیں۔ انھیں آج بھی وہ دن یاد ہے جب انھوں نے امریکہ میں اس پروگرام میں شمولیت اختیار کی تھی۔
’میں بہت خوش اور پُرجوش تھا۔ مجھے کبھی لگتا نہیں تھا کہ ایسا دن میری زندگی میں آئے گا۔‘
وہ اپنی چار سال کی ٹریننگ کے دوران افغانستان میں اپنے خاندان سے ملنے نہ آسکے اور امریکہ میں ہی قیام کرتے رہے۔
مومند کو طالبان کا مقابلہ کرنے کی ٹریننگ دی گئی تھی۔ اب وہ طالبان حکومت کے لیے ہی ہیلی کاپٹر اڑاتے ہیں۔ وہ اس میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ہم جیسے لوگ قوم کی امانت ہیں اور قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ فوج کو سیاست میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ ملک نے میرے جیسے لوگوں پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔‘
طالبان کو افغانستان پر حکومت کرتے ایک سال گزر چکا ہے مگر کسی بھی ملک نے انھیں باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ہے۔
اس کے باوجود مومند کا حوصلہ بلند ہے۔ ’زندگی کے آخری دن تک میں اپنے شعبے میں قوم کی خدمت جاری رکھوں گا۔‘











