نتاشا اور افضل کی کہانی: وہ شخص جو کبھی باپ نہیں بننا چاہتا تھا

نتاشا بدھوار اور افضل کی کہانی

،تصویر کا ذریعہNATASHA BADHWAR

    • مصنف, نتاشا بدھوار
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے

کچھ باتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حافظے میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔

مجھے آج بھی یہ کسی فلم کے منظر کی طرح محسوس ہوتا ہے حالانکہ اس کا مرکزی کردار میرے شوہر، میرے بچے اور میں تھی۔

گرمیوں کی شام تھی۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد ہم گھر سے ملحقہ پارک میں سیر کے لیے نکل گئے۔ ہمارے تینوں بچے چھوٹے چھوٹے قدموں سے دوڑتے ہوئے ہم سے آگے آگے بھاگے جا رہے تھے۔ وہ اپنے آپ میں مگن تھے۔

یہ بات کیسے شروع ہوئی، مجھے اب یاد نہیں۔

میرے شوہر افضل نے کہا کہ ’میں اب ماں جیسا بنتا جا رہا ہوں اور تم ان دنوں باپ جیسی ہوتی جا رہی ہو۔‘

میں نے کہا یہ تو اچھی بات ہے۔

میرے شوہر نے کہا کہ ’یہ اچھی بات ہے، لیکن میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔‘

میں نے کہا: ’میرے خیال میں ہمیں اس کی ضرورت ہے، افضل۔ ہر وقت ایک ہی کام کرتے ہوئے کوئی شخص بور ہو سکتا ہے۔ کسان بھی زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھنے کے لیے فصلیں بدلتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں دوسروں کا بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ جو لوگ ایک ہی کردار اور ذمہ داری نبھاتے رہتے ہیں، ان میں غصہ اور تلخی بڑھ جاتی ہے۔‘

افضل اپنی بیٹی کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہNATASHA BADHWAR

،تصویر کا کیپشنافضل اپنی بیٹی کے ساتھ

افضل نے نرمی کے ساتھ میرے جملے کو مکمل کرتے ہوئے آہستہ سے کہا: ’ہماری ماؤں کی طرح۔‘ میں نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا مزید کہا: ’ہمارے باپوں کی طرح بھی۔‘

ہم باتیں کر رہے تھے کہ ہماری سب سے چھوٹی بیٹی نسیم بھاگتی ہوئی ہماری طرف آئی۔ وہاں کیچڑ تھا جس میں اس کے پاؤں دھنس گئے تھے۔ اس کی بڑی بہنیں ہنس رہی تھیں لیکن نسیم تھوڑی گھبرائی ہوئی تھی۔ ہماری بات چیت رک گئی اور ہم نئی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف ہو گئے۔

افضل نے نسیم کو بانہوں میں اٹھا لیا اور ہم گھر کی طرف چل پڑے۔ میں نے کیچڑ سے نسیم کی پسندیدہ سینڈل اٹھائی اور اپنی بڑی بیٹیوں کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔

جب میں نے افضل کو پہلی بار جانا تھا، اس کا 'کبھی باپ نہ بننے' کا خیال بالکل واضح تھا۔ لیکن اب وہ ہماری تین بیٹیوں کے والد ہیں۔ بیٹیاں ان پر رعب بھی جماتی ہیں اور وہ بغیر کسی سوال کے ان کی دھمکیوں میں آ جاتے ہیں۔

نسیم تو کسی درخت کی طرح ان پر چڑھ جاتی ہے اور کندھوں پر بیٹھ جاتی ہے۔ پھر ان کے سر پر بیٹھنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں ’کیا تم بندر ہو؟‘

نسیم کا جواب ہوتا ہے، ’ہاں، چلو میرے ساتھ ایک پہیلی بوجھو۔‘ نسیم ان پر پوری طرح سے رعب جماتی ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’آپ سب سے پہلے میرے پاپا ہو۔‘

نتاشا بدھوار اور افضل کی کہانی

،تصویر کا ذریعہNATASHA BADHWAR

،تصویر کا کیپشننتاشا بدھوار اور افضل کے ہاں تین بیٹیاں ہوئيں

ہماری بڑی بیٹی سحر اس وقت آٹھ سال کی تھی۔ وہ کبھی کبھی اپنے والد کو ڈانٹ بھی دیتی تھی اور ضروری باتیں آہستہ آہستہ سمجھاتی تھی۔ کبھی کبھی ہماری باہمی گفتگو کے دوران وہ افضل کو سمجھاتی تھی کہ میرے کہنے کا کیا مطلب تھا اور میں کیا چاہتی ہوں۔

وہ کہتے ’مجھے بولنے دو میں نتاشا کو کچھ سمجھا رہا ہوں۔‘ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ ان کے منہ پر رکھ دیتی اور انھیں بولنے نہیں دیتی۔

پھر وہ سحر کے ہاتھوں کے پیچھے سے بولنے کی کوشش کرتے اور دبی ہوئی آواز میں کہتے کہ ’کیا میں زیادہ بول رہا ہوں؟‘

یہ بھی پڑھیے

ایسے میں وہ خوش ہو کر کہتی کہ ’دیکھو، پاپا کیسا بول رہے ہیں۔‘ دوسری بہنیں اپنے والد کی طرح اسی طرح کی دبی آواز میں بولنے کی کوشش کرتیں۔ جیسے ٹیپ پر آڈیو کو ریوائنڈ کر کے سنا جا رہا ہو۔

علیزہ ہماری منجھلی بیٹی ہے۔ جب وہ چھوٹی تھی تو ہم افضل اور علیزہ کو جڑواں کہتے تھے۔ افضل اپنا چہرہ علیزہ کے گالوں پر گھماتے اور پوچھتے، ’کیا ہم جڑواں نہیں لگتے؟ بتاؤ، بتاؤ؟‘

نسیم کی پینٹنگ

،تصویر کا ذریعہNATASHA BADHWAR

میں ہر بار ایسے لمحات کی فوٹو کھینچ لیتی تھی۔ یقینی طور پر، میرے پیارے بچے میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جو اس کے والد سے ملتی ہو، لیکن یہ والد کی محبت دکھانے کا ایک طریقہ تھا، جسے میں یادوں کے البم میں سجا کر رکھنا چاہتی تھی۔

افضل کے برعکس میں ہمیشہ ماں بننا چاہتی تھی۔ مجھے اس بارے میں کبھی کوئی شک نہیں رہا۔ میرا بچپن جوائنٹ فیملی میں گزرا۔ میں جب بھی پیچھے مڑ کر دیکھتی تھی تو سوچتی تھی کہ مجھے یہ سب کچھ بہتر اور سوچ سمجھ کر کرنا ہے۔ میں یہ دکھانا چاہتی تھی کہ خاندان کی پرورش اس طرح کی جا سکتی ہے کہ بالغ اور بچے دونوں گھر میں خود کو بھرپور محسوس کر سکیں۔

ہو سکتا ہے کہ جب افضل اپنے بچپن پر نظر ڈالتے ہوں تو انھیں حالات کو درست کرنا ناممکن نظر آتا ہو۔ اور یہ سوچتے ہوں کہ اتنی زیادہ ناممکن توقعات کے نیچے دبی ہوئی چیزوں کو دوبارہ بنانے کی زحمت کیوں اٹھائی جائے؟

زندگی میں اکثر یہ سمجھنے میں وقت لگتا ہے کہ دو مخالف رائے رکھنے والے لوگ درحقیقت ایک جیسے تجربات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ متضاد خیالات رکھنے والے لوگ مستقبل میں بہت یکساں خواہشات کے حامل ہوں۔

نتاشا بدھوار اور افضل کی کہانی

،تصویر کا ذریعہNATASHA BADHWAR

،تصویر کا کیپشننتاشا بدھوار اور افضل کی بیٹیاں اپنے گھر سے باہر جھانکتی ہوئی

ہمارے الفاظ ابہام پیدا کرنے والے ہو سکتے ہیں۔ اکثر ہمارے دل کی اصل حقیقتے دیکھنے کے لیے ہم جو کہہ رہے ہیں اس سے آگے بڑھ کر دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

میں نے یہ مضمون افضل کو دکھایا اور کہا کہ ’میں نے تمہیں ایک ایسے آدمی کے طور پر پیش کیا ہے جو کبھی بچہ نہیں چاہتا تھا۔‘

انھوں نے پڑھنے کے بعد کہا: ’ماضی کی بات مت کہو، میں اب بھی باپ بننے سے گھبراتا ہوں۔‘

میں نے ہنستے ہوئے کہا، ’تم بہت قابل ہو، ہے ناں؟‘

انھوں نے کہا، ’میں ایماندار ہوں، نتاشا، یہ بہت مشکل کام ہے۔‘

نتاشا بدھوار اور افضل کی بیٹیاں پڑھنے میں مشغول

،تصویر کا ذریعہNATASHA BADHWAR

،تصویر کا کیپشننتاشا بدھوار اور افضل کی بیٹیاں پڑھنے میں مشغول

میں نے کہا کہ ’جیسے باقی ایڈوینچر کو آپ پورا کرنا چاہتے ہیں۔ جیسے کہ آپ بدروحوں کو مارنا چاہتے ہیں، ریسکیو مشن کے لیے پیرا گلائیڈنگ کرنا چاہتے ہیں، جن چٹانوں کے پار آپ چھلانگ لگانا چاہتے ہیں۔ باقی زندگی میں، آپ کون سا کام منتخب کرتے ہیں جو آسان ہو؟‘

انھوں نے کہا، ’سنو، کیا تم مجھے سانپ اور بندر کی کہانی کے لیے کوئی آئیڈیا دے سکتی ہو؟ نسیم کے سونے کا وقت ہو رہا ہے اور اس نے مجھ سے جانوروں کی ایک کہانی سنانے کو کہا ہے۔ فی الحال یہی میرے لیے بڑا چیلنج ہے۔‘

میں نے کہا کہ ’کہانی کا کیا ہے، آپ سنانے لگیں گے تو اگلے مناظر خود بخود پروان چڑھنے لگیں گے۔‘

افضل نے کہا: ’اوہ، کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ زندگی کی طرح؟‘

میرا جواب تھا، ’یہ ہوئی ناں، اصلی قابلیت والی بات۔‘