اسلام میں مرد کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت پر انڈیا میں بحث: ’میرے شوہر کو دوسری شادی سے روکا جائے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
ایک 28 سالہ مسلم خاتون نے دلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس کے شوہر کو اس کی تحریری اجازت کے بغیر دوسری عورت سے شادی کرنے سے روکا جائے۔
اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد، ایک بار پھر سے انڈیا کے مسلمانوں میں ایک سے زیادہ شادیوں کے رواج کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول ہوئی ہے۔
ریشما نامی اس خاتون نے ہائی کورٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ حکومت کو حکم دے کہ وہ ایک سے زیادہ شادی کے اس ’فرسودہ‘ رواج کو روکنے کے لیے قانون بنائے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ریشما کی شادی محمد شعیب خان سے جنوری سنہ 2019 میں ہوئی تھی اور اگلے سال نومبر میں دونوں کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ ریشما نے اپنے شوہر پر گھریلو تشدد، ظالمانہ سلوک اور ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ جہیز کا مطالبہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اُن کے شوہر نے بھی ریشما پر ایسے ہی الزامات لگائے ہیں۔ ریشما نے الزام لگایا ہے کہ اُن کے شوہر نے انھیں اور ان کے بچے کو چھوڑ دیا اور اب دوسری شادی کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔
انھوں نے اپنے شوہر کے اقدامات کو ’غیر آئینی، خلاف شریعت، غیر قانونی، سخت، غیر انسانی اور وحشیانہ‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم خواتین کی بہتری کے لیے ایک مرد کی کئی شادیوں کے رواج کو روکنا چاہیے۔
دہلی ہائی کورٹ کے سامنے آنے والے اس مقدمے نے متعدد شادی کے رواج پر بحث چھیڑ دی ہے، جو مسلمانوں اور بعض قبائلی گروہوں کے علاوہ انڈیا میں غیر قانونی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیو ریسرچ سینٹر نے سنہ 2019 کی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کی تقریباً دو فیصد آبادی ایک سے زیادہ شادی والے خاندانوں میں رہتی ہے۔ ترکی اور تیونس جیسے مسلم اکثریتی ممالک سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں اب اس عمل پر پابندی عائد ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ جہاں اس کی اجازت ہے، وہاں اسے بڑے پیمانے پر ریگولیٹ بھی کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ ایک سے زیادہ شادیوں کے رواج کو ’خواتین کے خلاف ناقابل قبول امتیاز‘ قرار دیتی ہے۔ ان کی اپیل ہے کہ یہ رواج ’ضروری طور پر ختم‘ ہونا چاہیے۔
تاہم انڈیا میں یہ معاملہ سیاسی حلقوں میں کافی گرم ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندو قوم پرست حکومت نے ملک بھر میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
انڈیا میں اس قانون کی تجویز پچھلی سات دہائیوں سے کافی متنازع رہی ہے۔ اس لیے کہ اس کی تشکیل کے بعد شادی، طلاق اور جائیداد کی وراثت کے قوانین کا فیصلہ مختلف مذاہب کے قوانین سے ہونے کی بجائے ایک قانون سے کیا جائے گا۔
اس ملک کا ماحول اس وقت فرقہ وارانہ خطوط پر بہت منقسم ہے۔ ایسے میں اس معاملے پر مرکزی حکومت کی کسی بھی تبدیلی کو انڈیا کے اکثر مسلمان اپنے مذہب پر یقینی حملہ تصور کریں گے۔
ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر اور اسلامی امور کے ماہر ڈاکٹر ایس وائی قریشی کا کہنا ہے کہ ’لوگوں میں ایک عام خیال ہے کہ تقریباً نصف مسلمانوں کی چار بیویاں اور کئی بچے ہیں، جس کی وجہ سے ایک دن مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں کی تعداد سے زیادہ ہو جائے گی۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔‘
بہر حال انڈیا کی تقریباً 140 کروڑ کی کل آبادی میں مسلمان صرف 14 فیصد ہیں، جب کہ ہندو تقریباً 80 فیصد ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسلمان مردوں کو بیک وقت چار عورتوں سے شادی کرنے کی اجازت ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کو کئی شادیوں کی اجازت دی ہے، لیکن اس پر ’سخت شرائط اور پابندیاں‘ لگائی ہیں۔
قریشی کہتے ہیں: ’قرآن کہتا ہے کہ مرد دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کر سکتا ہے مگر مرد کو اپنی تمام بیویوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ کچھ بھی کرنا اجازت کی خلاف ورزی ہو گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تمام بیویوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ سب کے لیے ایک جیسے کپڑے خریدنے کی بات نہیں ہے، لیکن یہ اس سے بہت بڑی چیز ہے۔‘
ایس وائی قریشی بتاتے ہیں کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی ہدایات ساتویں صدی میں قرآن میں اس وقت آئی جب عرب میں قبائلی لڑائیوں میں بہت سے مرد اپنی بھری جوانی میں مارے گئے۔ ایسے حالات میں بیواؤں اور ان کے بچوں کی بہتری کے لیے کئی بیویوں کی اجازت دی گئی۔
کئی شادیوں کی ناقد اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ذکیہ سومن کا خیال ہے کہ انڈیا میں آج کوئی جنگ نہیں چل رہی ہے، اس لیے اس ’عورت مخالف اور پدرانہ‘ رواج کو روکنا چاہیے۔
ممبئی میں قائم بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن (بی ایم ایم اے) کی بانی ذکیہ سومن کہتی ہیں کہ کئی شادی کا رواج ’اخلاقی، سماجی اور قانونی طور پر قابل نفرت‘ ہے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ قانونی طور پر جائز ہے۔
وہ پوچھتی ہیں ’آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایک مرد ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتا ہے؟ امت مسلمہ کو وقت سے ہم آہنگ رہنا چاہیے۔ آج کے دور میں یہ عمل کسی بھی عورت کی عزت اور ان کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘
سنہ 2017 میں بی ایم ایم اے نے 289 خواتین کا انٹرویو کیا جو ایک سے زیادہ شادی والے تعلقات میں رہتی تھیں اور ان سے کئی سوالات پوچھے۔ ان میں سے 50 خواتین کا انتخاب کر کے ان کی جسمانی، ذہنی، جذباتی اور مالی حالت پر رپورٹ شائع کی۔
سومن کہتی ہیں: ’ہمیں پتہ چلا کہ وہ ایسے حالات میں پھنسی ہوئی ہیں جو ان کے ساتھ بڑی ناانصافی ہے۔ ان حالات میں انھیں شدید صدمہ پہنچا، جس کی وجہ سے بہت سے دماغی صحت کے مسائل پیدا ہوئے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیال رہے کہ بی ایم ایم اے نے اسلام میں فوری طور پر تین طلاق دینے کے متنازع رواج کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس نے سنہ 2019 میں سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی، جس میں تعدد ازدواج پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اشونی کمار دوبے پیشے سے وکیل اور بی جے پی لیڈر اس کیس میں درپیش بہت سے قانونی چیلنجز میں سے ایک کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انڈیا کے آرتھوڈوکس مسلمان الزام لگاتے ہیں کہ اس پر پابندی لگانا ان کے مذہب میں مداخلت ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عدالت میں دوبے کی درخواست کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس کی خواتین ونگ کی سربراہ ڈاکٹر اسما زہرہ کہتی ہیں: ’اسلام میں قوانین اللہ کے بنائے ہوئے ہیں۔ ہم قرآن و حدیث سے ہدایات لیتے ہیں۔ کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ کے بنائے ہوئے قانون کو تبدیل کرے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ مسلمانوں میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی مثال نایاب ہے اور یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انھوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ڈکٹیٹ کرنے کے لیے اکثریتی ایجنڈا اپنا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وہ پوچھتی ہیں کہ ’کیا آپ کسی ایسے مسلمان شخص کو جانتے ہیں جس کی چار بیویاں ہوں؟ 2022 میں اکثر مردوں کا کہنا ہے کہ ایک بیوی کا خرچہ اٹھانا مشکل ہے، چار کے اخراجات کیسے برداشت کریں گے۔ مسلمانوں میں تعدد ازدواج کی شرح سب سے کم ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER/ZAKIA SOMAN
ان کا دعویٰ تمام مذاہب میں رائج تعداد ازدواج کے اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ انڈیا میں سنہ 1961 کی مردم شماری میں کرائے گئے ایک سروے میں ایک لاکھ شادیوں کا نمونہ لیا گیا، جس سے ظاہر ہوا کہ مسلمانوں میں تعدد ازدواج کا فیصد صرف 5.7 فیصد تھا، جو دیگر مذاہب اور برادریوں میں سب سے کم ہے۔
تاہم بعد میں ہونے والی مردم شماری میں اس معاملے پر ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا گیا۔ تعدد ازدواج کے بارے میں تازہ ترین اعداد و شمار 2005-06 میں کیے گئے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-3) سے حاصل ہوئے ہیں۔ ان سے پتا چلتا ہے کہ تمام مذاہب میں تعدد ازدواج کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
ایس وائی قریشی کہتے ہیں: ’چونکہ یہ اعداد و شمار بہت پرانے ہیں، ہمیں رجحان کو دیکھنا چاہیے۔ اگر ہم سنہ 1930 سے 1960 تک کی مردم شماری کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو تمام برادریوں میں تعدد ازدواج کے واقعات میں مسلسل کمی آئی ہے۔اور یہ تعداد ہر دہائی میں مسلمانوں میں سب سے کم تھی۔ NFHS کے اعداد و شمار اس میں واحد استثنا ہیں۔‘
قریشی کی سنہ 2021 میں شائع ہونے والی کتاب 'دی پاپولیشن متھ: اسلام، فیملی پلاننگ اینڈ پولیٹکس ان انڈیا' میں مسلمانوں سے تعداد ازدواج پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ’اگر یہ رواج بڑے پیمانے پر رائج نہیں ہے تو اس پر پابندی لگانے سے آپ کو کیا نقصان ہے؟‘
اس کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر زہرہ کہتی ہیں کہ اس کی وجہ مذہبی اور سیاسی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں: ’لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان بہت سخت ہیں، لیکن اس کی اجازت تو قرآن میں ہے، اس لیے اسے کوئی نہیں بدل سکتا۔ شمال مشرق کے بہت سے قبائلی گروہوں میں لوگوں کی بہت سی بیویاں ہیں، لیکن کوئی ان پر توجہ نہیں دیتا۔ تو آپ ہمیں کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟ دراصل یہ اسلامو فوبیا کی ایک مثال ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ تعدد ازدواج پر پابندی اسلام پر حملہ اور ’ان کے ذاتی مذہبی قوانین میں مداخلت‘ ہے۔
ذکیہ سومن کا خیال ہے کہ جب ملک مذہبی خطوط پر تقسیم ہے تو ایسے میں مسلمان بی جے پی حکومت کی نیتوں پر شک کرتے ہیں۔
لیکن وہ کہتی ہیں: ’اگر ہم نے اپنے گھروں کو ٹھیک نہیں رکھا تو دوسرے لوگ آئیں گے اور اسے ٹھیک کر دیں گے اور ایسا کرنا ان کا ایجنڈا ہو سکتا ہے۔ تاہم، تعدد ازدواج ایک ایسا عمل ہے جو بالآخر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تو اسے ختم ہونا چاہیے۔‘








