انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے واقعات: پریشان ہندو دوبارہ کشمیر سے نکلنا چاہتے ہیں

- مصنف, یوگیتا لیمائے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، سرینگر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی حصے میں واقع گاؤں گوپال پورہ کے سرکاری ہائی سکول جانے والے راستے پر ایک ہر دلعزیز استانی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
اس جگہ پر چھ پتھر رکھے ہیں جہاں 31 مئی کی صبح 41 سالہ رجنی بالا کی موت ہوئی تھی۔
طلبا اور عملہ سکول کی عمارت کے باہر دعا کے لیے جمع ہو رہے تھے جب انھوں نے پٹاخے جیسی آواز سنی۔ لیکن ایک ایسے خطے میں جہاں ایسی آوازیں روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہیں، وہ فوراً جان گئے کہ کچھ غلط ہوا ہے۔
پولیس کادعویٰ ہے کہ رجنی بالا کو انڈیا مخالف شدت پسندوں نے سر میں گولی ماری تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ ملک کے واحد مسلم اکثریتی علاقے میں ایک ہندو تھیں۔ گذشتہ ایک سال میں ہندوؤں کے قتل کی ایک لہر آئی ہے۔ گزشتہ ہفتے سنیل کمار بھٹ کو جنوبی کشمیر کے شوپیاں علاقے میں سیب کے باغ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
رجنی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل انھوں نے کشمیر سے نکلنے کی کوشش کی تھی۔

ان کے شوہر راجکمار عطری نے بتایا ’ڈیڑھ ماہ قبل، ایک ہندو ڈرائیور کو سکول سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر قتل کیا گیا تھا، اور کشمیر کے مختلف حصوں میں ہندوؤں پر دوسرے حملے بھی ہوئے تھے۔ تب سے ہم خوفزدہ تھے اور ہم نے دو بار رجنی کی ٹرانسفر کی درخواست دی تھی۔‘
رجنی بالا تاریخ پڑھاتی تھیں اور انھیں یہ سکول بہت پسند تھا۔۔۔ وہ یہاں پانچ سال ملازمت کر رہی تھیں۔ انھوں نے اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے کہا تھا کہ اگر خطرہ نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی یہاں سے جانے کا ارادہ نہ کرتیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سائنس ٹیچر صائمہ اختر کا کہنا تھا ’وہ اتنی مہذب ، بہت قابل اور ملنسار خاتون تھیں۔ نہ صرف ہمارے سکول میں بلکہ پورے گاؤں میں لوگ انھیں پسند کرتے تھے۔ ہمیں بہت دکھ ہے۔‘
ان کے قتل کے بعد سے طلبہ کی آدھی تعداد ہی کلاسز میں جا رہی ہے اور سکول جانے والوں کے چہروں پر صدمے کے آثار نمایاں ہیں۔
عطری اب اپنی نوعمر بیٹی کے ساتھ اس علاقے سے چلے گئے ہیں۔

ان ہلاکتوں نے 30 سال پہلے کی یادیں تازہ کر دی ہیں، جب سینکڑوں ہندو عسکریت پسند گروپوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے، جس کے بعد اس خطے سے ہندو کمیونٹی کی نقل مکانی ہوئی تھی۔
یہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک تنازع کا آغاز تھا، جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
1980 کی دہائی کے اواخر سے، وادی کشمیر مسلح شورش کی لپیٹ میں ہے، جس کا الزام انڈیا پاکستان پر لگاتا آیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اس متنازعہ خطے میں امن کو درہم برہم کر رہا ہے۔ اسلام آباد ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
دہائیوں سے ہزاروں انڈین سیکورٹی فورسز اہلکار، عسکریت پسند اور عام شہری ان تنازعات میں مارے جا چکے ہیں۔
لیکن 2003 کے بعد سے ہندو برادری کو شاذ و نادر ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ درحقیقت 2010 کے بعد سے ان ہندوؤں کو واپس کشمیر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو وہاں سے چلے گئے تھے، انھیں سرکاری ملازمتیں اور فلیٹ مراعات کے طور پر دیے گئے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، جو کہ انڈین حکومت کی طرف سے مقرر کردہ خطے کے اعلیٰ منتظم ہیں، نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ طویل عرصے کے دوران شہریوں پر ٹارگٹ حملوں کی تعداد کا درست اندازہ لگانے کی ضرورت ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت افسوسناک واقعات ہیں۔ لیکن اگر آپ گذشتہ 10 سے 15 سالوں میں صرف ہندوؤں کی نہیں بلکہ تمام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کو دیکھیں تو یہ تعداد اب کم ہو رہی ہے۔ خوف کا ماحول اتنا سنگین نہیں ہے جتنا پہلے تھا۔‘
لیکن کشمیری ہندو، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران خطے میں واپس آئے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ خوفزدہ ہیں اور یہاں سے واپس جانا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
جنوبی کشمیر میں بسائی گئی ایک کالونی میں، حکومتی مراعاتی پروگرام کے ذریعے خطے میں واپس آنے والے سینکڑوں کشمیری ہندو، نقل مکانی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔
سندیپ رینا ایک انجینئر ہیں، وہ کہتے ہیں ’جب سے ہم واپس آئے ہیں ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جیسا کہ ہمیں دیے گئے گھروں کی حالت بہت خراب ہے۔ لیکن ہم نے خودکو ٹارگٹ محسوس نہیں کیا تھا مگر اب ہمیں ڈر لگتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں 10 سال کا تھا جب میرا خاندان 1990 کی دہائی میں یہاں سے نکلا۔ میرا بیٹا اب اتنی ہی عمر کا ہے اور ہم دوبارہ جانا چاہتے ہیں۔‘
سنجے کول جو ایک سرکاری سکول میں ٹیچر ہیں، انھوں نے کہا ’گر میرے ساتھ کھڑا کوئی شخص اپنی جیب سے ہاتھ نکالتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ وہ مجھے گولی مارنے کے لیے بندوق نکال رہا ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو سکول بھیجنا بند کر دیا ہے اور مشکل سے اپنے کمپاؤنڈ سے باہر نکلتے ہیں۔‘
کشمیری ہندوؤں کو خطے میں دوبارہ آباد کرنا انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انتخابی وعدوں میں سے ایک ہے۔ کیمپ میں موجود بہت سے ہندوؤں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ان پر دباؤ ہے کہ وہ وہاں سے نہ جائیں، کیونکہ اس سے یہ وعدہ ٹوٹ جائے گا۔
حکومت نے ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

عسکریت پسند گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ اقلیتوں اور بیرونی لوگوں پر حملے اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ انڈیا کی ہندو قوم پرست حکومت مسلم اکثریتی کشمیر کی مذہبی آبادی کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ ایک ایسا الزام ہے جسے انڈیا کی انتظامیہ مسترد کرتی ہے۔ اگرچہ اس کے اقدامات نے عدم اعتماد کو بڑھاوا دیا ہے۔
2019 میں، انڈین حکومت نے کشمیر کی خودمختاری ختم کرتے ہوئے خطے میں وفاقی حکومت نافذ کی اور باہر کے لوگوں کو زمین خریدنے کی اجازت دی۔ یہاں کوئی منتخب علاقائی حکومت نہیں ہے اور پولیس اور بیوروکریسی کے بڑے حصے پر اب ملک کے دوسرے حصوں سے آنے والے افسران کا غلبہ ہے۔
انڈین ریاست کے خلاف جذبات جو کشمیر کے کچھ حصوں میں طویل عرصے سے محسوس کیے جا رہے تھے، 2019 سے ان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ترکوانگم گاؤں میں 20 سالہ شعیب محمد گنائی نامی ایک مسلمان شہری کو 15 مئی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ کار کے سپیئر پارٹس کی دکان کے باہر موجود تھے جو انھوں نے چند ماہ قبل ہی کھولی تھی۔ ایک نیم فوجی سپاہی نے ان کی طرف بندوق تانی اور شعیب سے ہاتھ اٹھانے کو کہا۔ ان کے رشتہ داروں نے بتایا کہ شعیب نے حکم کی تعمیل کی، لیکن سپاہی نے پھر بھی ان کے سینے میں گولی مار دی۔

شعیب کے والد، 50 سالہ غلام محمد گنائی سارا دن اپنے بیٹے کی قبر کی دیکھ بھال میں گزارتے ہیں۔
وہ روتے ہوئے پوچھتے ہیں ’شعیب ایک عام شہری، طالب علم اور دکاندار تھا، اس کا جرم کیا تھا؟ ہم اپنے ساتھ ہونے والے اس ظلم کا انصاف چاہتے ہیں۔ ہمارے دل کا ٹکڑا ہم سے چھین لیا گیا ہے۔‘
انھوں نے اپنے بیٹے کی تصویر دکھائی جس نے ایک بڑی ٹرافی اٹھائی ہوئی تھی۔ شعیب کو کرکٹ کھیلنا اور سپورٹس جرسیاں پہننا پسند تھا۔
پولیس اور نیم فوجی دستوں نے بی بی سی کو بتایا کہ شعیب کراس فائرنگ میں مارا گیا۔ لیکن متعدد عینی شاہدین کا اصرار ہے کہ شعیب کو پکڑنے کے لیے گولیوں سے کوئی لڑائی نہیں لڑی گئی تھی۔
واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ مقامی افسران کے مشکور ہیں جنھوں نے شعیب کی لاش کو جلد بازیاب کرانے میں اہل خانہ کی مدد کی، لیکن انھیں اس بات کی کوئی امید نہیں کہ ان کے بیٹے کے ساتھ جو ہوا اس کی حقیقت سامنے آئے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہماری اپنی حکومت ہوتی تو ہم کم از کم کسی کا محاسبہ کر سکتے تھے۔ یہاں ہماری بات سننے والا کوئی نہیں، کوئی سوال کرنے والا نہیں۔ انھیں ہم سے ووٹ کی ضرورت نہیں، تو وہ ہماری پرواہ کیوں کریں گے؟‘
حالیہ مہینوں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت کے ایسے کئی الزامات سامنے آئے ہیں۔
انڈین حکومت نے ایسے کیسز کے بارے میں بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
لیفٹیننٹ گورنمنٹ منوج سنہا کہتے ہیں کہ جیسا کہ انڈیا کی وزارتِ داخلہ نے فیصلہ کیا ہے اس کے مطابق ’مناسب وقت‘ پر ایک منتخب حکومت قائم کی جائے گی۔ اس کا کیا مطلب ہے، انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔
جب گنائی دوبارہ اپنے بیٹے کی قبر پر جانے کے لیے اپنے گھر سے نکلے تو انھوں نے کہا ’کشمیر میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ جب آپ اپنے گھر سے نکلتے ہیں، تو آپ کو نہیں معلوم کہ آپ شام کو واپس آئیں گے یا نہیں۔‘










