انڈین ریاست ہریانہ میں بیٹے کی خودکشی کے بعد انصاف کی متلاشی ماں: ’سکول میں بچے میرے بیٹے کی جنس کے بارے میں سوال پوچھتے اور اسے ہراساں کرتے تھے‘

- مصنف, صدف خان
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
انڈیا کے دارالحکومت دلی سے ملحق ریاست ہریانہ کے علاقے فرید آباد میں رہنے والے 17 سالہ آروے ملہوترا نے 24 فروری سنہ 2022 کو خودکشی کر لی تھی۔ وہ دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔
آروے نےمرتے وقت ایک نوٹ چھوڑا، جس میں سکول کے اساتذہ اور طلبا پر سنگین الزامات لگائے گئے تاہم سکول انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ پولیس تفتیش میں ہر طرح سے تعاون کر رہے ہیں۔
دوسری جانب آروے کی والدہ آرتی ملہوترا جو اسی سکول میں ٹیچر ہیں، نے بھی سکول میں آروے کے خلاف بدسلوکی کو اپنے بیٹے کی خودکشی کی وجہ قرار دیا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ آروے سکول میں بدسلوکی کی وجہ سے ڈپریشن میں تھا اور دوائیں لے رہا تھا۔
آرتی سنگل مدر ہیں اور آروے کے جانے کے بعد اب وہ مزید تنہا ہو گئی ہیں تاہم وہ آروے کے لیے عدل و انصاف کی جنگ لڑ رہی ہے۔
آروے کو یاد کرتے ہوئے آرتی کہتی ہیں کہ ’وہ کہاں چلا گیا، وہ میرے ساتھ ہی ہے، مجھے احساس ہے، وہ مجھے ہمت دے رہا ہے، میرا بچہ بہت سمجھدار تھا۔‘
یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔
آرتی بتاتی ہیں کہ ’آروے پچھلے ایک سال سے ڈپریشن کا شکار تھا، ڈپریشن کی دوائیں کھا رہا تھا، اسے گھبراہٹ کے دورے پڑتے تھے۔‘
انھوں نے الزام لگایا کہ آروے کے ڈپریشن کی وجہ اس کا سکول ہے۔ آروے نے بھی مرنے سے پہلے لکھے جانے والے نوٹ میں سکول کو اپنی موت کا ذمہ دار قرار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ماں کا سکول انتظامیہ پر الزام
آرتی کے مطابق ’سکول میں آروے کو تنگ کیا جاتا تھا۔ سکول میں بچے میرے بیٹے کی جنس کے بارے میں سوال پوچھتے اور اسے ہراساں کرتے تھے۔‘
آرتی نے یہ بھی الزام لگایا کہ آروے کے ساتھ سکول میں جنسی زیادتی کی گئی۔
جب اس بارے میں سکول میں شکایت کی گئی تو آرتی کا کہنا ہے کہ ان کی شکایت کو نظر انداز کیا گیا۔
آرتی کا کہنا ہے کہ آروے کو نیل (ناخن) پینٹ کرنے، ٹاپ اور زیورات پہننے کا شوق تھا لیکن اسے سکول میں روک دیا گیا۔
آرتی کہتی ہیں کہ ’سکول میں کہا گیا کہ مجھے آروے کو سمجھانا چاہیے کہ وہ لڑکیوں کے کام نہ کرے، اس کی ٹیچر کہتی تھیں کہ اگر لڑکے نیل پینٹ کر کے سکول آئيں گے تو ہم لڑکیوں کو کیسے منع کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
’کھلنے سے پہلے ہی مار دیا گیا‘
آروے ،آرتی ملہوترا کا اکلوتا بیٹا تھا، جو اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
آرتی بتاتی ہیں کہ جب وہ سات ماہ کی حاملہ تھیں تو اپنے شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر چلی گئیں۔ آروے نے اپنے باپ کو کبھی نہیں دیکھا، اس کے لیے آرتی ہی ماں اور باپ دونوں تھیں۔
آروے کی صنفی شناخت پر بات کرتے ہوئے آرتی کا کہنا ہے کہ ’آروے نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اگر وہ لڑکا ہے تو اسے چائے نہیں بنانی چاہیے اور گھر کا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے، وہ میرے لیے چائے بناتا تھا، میرا بہت خیال رکھتا تھا، وہ یونیفارم خود دھوتا تھا، میرے لیے ناشتہ بناتا تھا۔‘
یہ سب بتاتے ہوئے آرتی پھر سے رو پڑتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس کی جنس کے بارے میں اسے اس قدر تنگ کیا گیا کہ اسے اپنے آپ پر شک ہونے لگا۔ وہ مجھے کہتا تھا کہ ماں، سب کہتے ہیں کہ میں ایسا ہوں، تو میں ایسا ہی رہ کر دیکھتا ہوں ناں، وہ خود کو دریافت کر رہا تھا لیکن وہ کھلنے سے پہلے ہی مار دیا گیا۔‘

سکول پرنسپل کا کیا کہنا ہے؟
سکول پرنسپل سرجیت کھنہ ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آروے کا جانا سکول کے لیے بھی بڑا نقصان ہے، اس بچے نے دس سال تک اس سکول میں پڑھائی کی۔ یہاں ہر کوئی اسے اپنے بچے کی طرح پیار کرتا تھا، آروے نے کبھی ہراسانی کی شکایت نہیں کی۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ سال 2021 میں، جب انھوں نے شکایت کی، تو اس کا تدارک کیا گیا۔ ان کی ماں کے الزامات بے بنیاد ہیں تاہم ہم اس کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ تفتیش آزاد اور منصفانہ ہو، بچے کو انصاف ملنا چاہیے۔‘
پرنسپل سرجیت کھنہ نے بتایا کہ جس ٹیچر کا نام آروے کے خودکشی نوٹ میں تھا، انھیں اور آروے کی ماں آرتی ملہوترا دونوں کو سکول نے چھٹی پر بھیج دیا ہے۔

صنفی شناخت اور ذہنی صدمہ
ہم نے ماہرِ نفسیات گگن دیپ کور سے بات کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ بچے جو اپنی صنفی شناخت کے ساتھ لڑ رہے ہیں، ان کی ذہنیت کیا ہوتی ہے اور وہ کس ذہنی صدمے کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اکثر نوجوانی میں بہت سے بچے اپنی صنفی شناخت کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں، یہ دور بڑی الجھنوں کا دور ہوتا ہے اور ان بچوں کا کوئی نہیں ہوتا۔
گگن دیپ کہتی ہیں کہ ’آج بھی دلی کے کئی سکولوں میں کونسلر نہیں اور اگر ہیں بھی تو ان کے پاس اتنا علم نہیں۔ اس دور میں بچوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے بچے منشیات بھی لینے لگتے ہیں اور کچھ بچے خودکشی بھی کر لیتے ہیں۔‘
2019 میں یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے ایک تہائی بچے ایذا رسانی اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے سکول اور تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ناز فاؤنڈیشن میں کام کرنے والی سماجی کارکن انجلی گوپالن کہتی ہیں کہ ’بلیئنگ (یعنی ہراساں اور پریشان کیے جانے) کو روکنے کا واحد طریقہ مضبوط قوانین کا ہونا اور ان پر عمل درآمد کرنا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو بچے نسوانیت کی جانب مائل ہوتے ہیں وہ سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اپنی پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ انھیں بہت زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’حکومت کو خود سکول کی سطح پر بہت سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے قوانین بھی صنفی طور پر غیر جانبدار نہیں، وہ ہر کسی کو اپنے دائرہ کار میں نہیں لیتے۔ ہمیں بیٹھ کر سوچنا ہو گا کہ ہم اس معاملے پر قانون کیسے بناتے ہیں اور حکومت کو بھی اس عمل میں شامل ہونا پڑے گا۔‘
اگرچہ سکولوں میں ہونے والی بلیئنگ کو روکنے کے لیے انڈیا میں ابھی تک کوئی قانون موجود نہیں لیکن سنہ 2007 میں راگھون کمیٹی کی رپورٹ میں بلیئنگ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔
2015 میں انڈیا میں رائج تعلیمی نظام سی بی ایس ای نے بلیئنگ کو روکنے کے لیے اینٹی بلیئنگ کمیٹی قائم کی تھی، جس کے تحت اس نے سنگین معاملات میں سکول سے بے دخل کرنے سمیت کئی اقدامات کرنے پر زور دیا۔












