سوشل میڈیا پر خواتین کا لباس مسلسل نشانے پر کیوں؟

- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
'بات اس چوڑی دار پاجامے پر پھنس گئی کہ یہ پہنا ہے یا نہیں پہنا۔ اگر آپ مجھے فالو کرتے ہیں تو برائے مہربانی میرے کاز کو بھی فالو کریں۔'
پاکستان میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ مخالفین کی جانب سے خواتین کے لباس کو نشانہ بنا کر ان کی کردار کشی کی جائے۔ اس بار عائشہ جہانزیب سوشل میڈیا ٹرولنگ، اور سائبر بلیئنگ کا نشانہ بنی ہیں۔ ایسے مواقع پر یہ بےمعنی ہو جاتا ہے کہ زیرِ بحث خواتین آخر کیا کہہ رہی ہیں یا کس مقصد کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں۔
عائشہ جہانزیب نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے سیاسی تنقید اور مزاح سے متعلق پروگرام 'خبرناک' کی میزبان ہیں۔
چند روز قبل ان کی ایک ویڈیو کو بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے یہ کہہ کر شیئر کرنا شروع کیا کہ انھوں نے اس ویڈیو میں مکمل لباس نہیں پہنا۔ جس کے بعد کئی نازیبا پیغامات، میمز اور فوٹوشاپ کی گئی تصاویر کا سلسلہ چل پڑا۔
تاہم اس ویڈیو میں انھیں قمیص، سکن کلرڈ پاجامہ اور دوپٹہ اوڑھے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو اس وقت بنائی گئی تھی جب عائشہ جہانزیب کو خواجہ سراؤں سے متعلق کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نے مدعو کیا اور اس ویڈیو کلپ میں انھیں خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق بات کرتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عائشہ کہتی ہیں کہ یہ ویڈیو کئی ماہ پرانی ہے اور اب ان کے خیال میں اس مہم کے پیچھے وجہ ان کا وہ پروگرام ہے جس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کی ڈمیز کو پروگرام کا حصہ بنایا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ اب ملک میں سیاسی تنقید کی کوئی جگہ نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا: 'میں نے سوشل میڈیا دیکھا جہاں میری وہ تصویریں تھیں جو میری نہیں تھیں، ایسے لباس میں جو میں نے کبھی پہنا ہی نہیں۔ اور اس کے ساتھ قابلِ نفرت پیغامات تھے۔ مجھے شدید دھچکا لگا، پہلے دن تو بخار ہو گیا، پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ مجھے اس سب کا دلیری سے سامنا کرنا ہے۔'
پاکستان میں لباس کے معاملے پر خواتین کو نشانہ بنانا نئی بات نہیں۔ ملک کی انتہائی مضبوط خواتین کو بھی ان کے مخالفین کی جانب سے بلاجواز تنقید کا سامنا رہتا ہے اور ان کے لباس پر انگلی اٹھا کر ان کی شخصیت کو متنازع بنانے کی کوشش کرنا ایک عام بات سمجھی جاتی ہے۔

مہر تارڑ ایک صحافی اور لکھاری ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر طویل عرصے سے سرگرم ہیں لیکن وہ پاکستان کی ان پہلی خواتین میں سے ہیں جنھیں سوشل میڈیا پر ہراساں کیا گیا، ان کی کردار کشی کی گئی اور ان پر الزامات لگائے گئے۔
وہ کہتی ہیں: 'یہ سلسلہ تو اب بھی نہیں رکا، آج بھی میں کوئی رائے دوں جو کسی کی نظر میں غلط ہو تو گالیوں اور نازیبا باتوں کا سلسلہ شروع ہو جائے تو تھمنے کا نام نہیں لیتا۔'
مہر کہتی ہیں: 'ٹویٹ کے نیچے لوگوں نے گالیاں دی ہوں گی، بری باتیں ہوں گی اور وہ بری باتیں کیا ہوتی ہیں، اگر میں عورت ہوں تو کہیں گے کہ اس کا کردار ایسا ہے۔ کردار پر یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جو مجھے جانتے بھی نہیں۔ خیالی باتیں ہیں، تو عورتوں کے بارے میں تو ہمیشہ غلط باتیں کی جائیں گی۔ یہ غیرمتعلقہ ہے کہ عائشہ جہانزیب، عاصمہ شیرازی یا کسی اور نے کیا کہا، مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس کے بعد ان کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے۔'
حال ہی میں جمیعت علمائے اسلام ف کے سینیٹر مفتی عبدالستار نے متحدہ قومی موومنٹ کی سینیئر رہنما، 74 سالہ نسرین جلیل کو اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا جب وہ ساڑھی میں ملبوس تھیں۔
ملک کے سابق وزیر دفاع و خارجہ امور خواجہ آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی ظاہری شخصیت کو مذاق کا نشانہ بنایا۔ سیاسی جلسے جلوسوں میں خواتین کو ٹارگٹ کرنا عام ہے۔
اسی طرح سیاسی مخالفین نے کئی بارسابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے لباس کے ذریعے ان کی کردارکشی کرنے کی کوشش کی، جبکہ حال ہی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے لباس کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا گیا، باوجود اس کے کہ ان تمام خواتین نے ایسا لباس زیب تن نہیں کیا تھا جو معاشرتی روایات سے متصادم ہو۔
عائشہ جہانزیب نے اب سوشل میڈیا کا استعمال بڑی حد تک ترک کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا کسی زمانے میں انقلابی حیثیت رکھتا تھا مگر اب یہ 'ٹرولنگ کا بہترین ذریعہ بن گیا ہے۔ آپ نے کسی سے بدلہ لینا ہے، یا کسی کا برا چاہنا ہے، آپ اسے کسی نہ کسی طرح مذہبی طور پر کسی بات سے منسلک کر دیں اور پھر اس انسان اور اس کے خاندان کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔ اور اسے اندھیروں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔'
عائشہ جہانزیب نے رواں ماہ مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی ماڈل انعم تنولی کی مثال دی اور کہا کہ 'انعم سائبر بلیئنگ اور ٹرولنگ کے باعث شدید ڈپریشن کا شکار تھیں'۔
واضح رہے کہ انعم تنولی کی مبینہ خودکشی سے متعلق پولیس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں تاہم ملک کے کئی بڑے اداکاروں اور ماڈلز نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے یہ کہا کہ انعم سائبر بلیئنگ کی وجہ سے شدید ڈپریشن کا شکار تھیں، جبکہ اپنے آخری ویڈیو پیغام میں وہ ٹرولنگ اور بلئینگ کے خلاف بات کررہی تھیں۔
مہر تارڑ کا خیال ہے کہ لباس کے معاملے پر ہونے والی اس تمام تنقید کا حل یہی ہے کہ 'اِسے نظر انداز کریں۔' ان کے خیال میں سائیبر بلیئنگ، یا سوشل میڈیا ہراسمنٹ کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کریں، 'مگر اسے اپنی ذاتی زندگی متاثر نہ ہونے دیں، وہ کمنٹس نہ پڑھیں جن میں آپ کی کردار کشی کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔'
وہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی ٹرولنگ کرنے والے 'وہ لوگ ہیں جو آپ کو ملیں تو سر اٹھا کر بات بھی نہیں کر سکیں گے۔ ان کے اندر بھرا غصہ ان کی تاریک شخصیت سوشل میڈیا پر ظاہر کرتا ہے۔'
لیکن کیا خواتین ٹرولنگ کے بعد کام چھوڑ دیں؟
یہ سوال عائشہ کا ہے اور وہ خود ہی اس کا جواب بھی دیتی ہیں: 'ہم ان میں سے نہیں جو ان باتوں سے پیچھے ہٹ جائیں گی، ہم اپنا کام کرتی رہیں گی۔ ہماری نسل کی خواتین ان چھوٹے معاملات کو دل پر لیں گی تو پھر تو ہم گھر سے بھی نہیں نکل سکتے۔ ہم نے خود اس کلنک کے دھبے کو ختم کرنا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔'










