افغانستان میں ’غازیوں کا قلعہ‘ جو اپنے غیر ملکی مکینوں کی بہادری کی وجہ سے مشہور ہوا

،تصویر کا ذریعہMEHMOOD BABAR
- مصنف, محمود جان بابر
- عہدہ, صحافی
افغانستان کے بالکل آخری سرے پر ازبکستان کی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ملک کے چوتھے بڑے شہر مزار شریف کے بہت سے مکینوں کو شاید معلوم بھی نہیں کہ اپنے گھروں سے آتے جاتے وہ ’قلعہ غازی ھا‘ کے نام سے منسوب جس جگہ سے گزرتے ہیں وہاں کون آباد ہے اور اس جگہ کو ’غازیوں کا قلعہ یا آبادی‘ کیوں کہا جاتا ہے۔
ان کو شاید یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ اس جگہ کا نام کسی فرضی کہانی کی بنیاد پر نہیں گھڑا گیا بلکہ یہ یہاں کے ’غیر ملکی مکینوں‘ کی بہادری کے کارناموں کی وجہ سے رکھا گیا تھا۔
آج سے تقریباً 100 سال قبل اپنے خاندان کے پانچ مردوں اور بچوں و خواتین کے ساتھ جلا وطن ہو کر یہاں آنے والے ہندوستان کی جنگ آزادی کے ایک کردار عجب خان آفریدی اور ان کے بھائی شہزادہ خان سمیت کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہندوستان سے انگریزوں کے جانے کے بعد بھی انھیں یہیں رہنا ہو گا۔
یہی وہ لوگ تھے جن کی وجہ سے افغانستان کے اس وقت کے حکمران غازی امان اللہ خان کی حکومت نے اس جگہ کو ان کے لیے مختص کیا اور انھیں یہاں بسا کر نہ صرف ماہانہ 720 روپے کی خطیر رقم کی اعزازی تنخواہ اور دو ہزار جریب (ایک ہزار ایکڑ) زمین سے نوازا بلکہ ان کی وجہ سے اس علاقے کا نام بھی غازیوں کی آبادی پڑ گیا۔
قلعہ غازی ھا کے بننے کی وجہ قرار پانے والے عجب خان آفریدی کا تعلق پاکستان میں آج کے خیبرپختونخوا کے درہ آدم خیل کے بوستی خیل میں آفریدی قبیلے سے تھا، جن کی انگریزوں کے خلاف کارروائیوں اور بہادری کی کہانیوں پر عالمی اور مقامی سطح پر بہت سے مقالے، کتابیں لکھنے کے علاوہ ان پر کئی فلمیں بھی بنیں۔

،تصویر کا ذریعہCOURTESY MEHMOOD BABAR
وہ کارروائی جس نے تاریخ کا رخ بدلا
عجب خان آفریدی اور ان کے ساتھی 13 اپریل 1923 کی اپنی ایک کارروائی کے نتیجے میں ہندوستان (آج کے پاکستان) کے درہ آدم خیل سے جلا وطن ہو کر وہاں سے جانے پر مجبور ہوئے۔
یہ کوئی معمول کی کارروائی بھی نہیں تھی کیونکہ اس میں شامل عجب خان آفریدی، ان کے بھائی شہزادہ خان سمیت تین آفریدی اور ان کے ایک پنجابی دوست کو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ وہ جس انگریز میجر ایلس سے عجب خان آفریدی کے گھر پر چھاپے اور بے پردگی کا بدلہ لینے کے لیے کوہاٹ چھاؤنی میں ان کے بنگلے میں جائیں گے، وہاں سے زندہ بھاگنے کے لیے انھیں میجر ایلس کی اہلیہ کو قتل اور بیٹی مولی ایلس کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ہو گا۔
میجر ایلس کی نوجوان بیٹی مولی ایلس کئی دن تک اغوا رہنے کے بعد تیراہ میں ایک معروف روحانی شخصیت محمود اخونزادہ کے ذریعے انگریز سرکار کو واپس کر دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عجب خان آفریدی کے بیٹے حاجی نیک محمد کہتے ہیں کہ انگریزوں نے مولی ایلس کے بدلے ہمارے گرفتار لوگ رہا کرنے اور بوستی خیل درہ آدم خیل میں ہمارے مسمار گھروں کا خسارہ پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم بعد میں وہ اپنے وعدے سے مکر گئے، جس پر مولی ایلس کو واپس لانے کے لیے آنے والے دو رکنی جرگے میں شامل رسالدار مغل باز آفریدی نے انگریزوں کی جانب سے ان کو عطا کیے جانے والے تمام اعزازات احتجاجاً واپس کر دیے۔
’ایک طرف انگریز عجب خان آفریدی سے بدلہ لے رہے تھے تو دوسری جانب ایک مقامی ملک نواب زمان خان بھی ہمارے گھر جلا رہا تھا کیونکہ انھیں شکوہ تھا کہ ہمارے والد نے مولی ایلس ان کی بجائے محمود اخونزادہ کے کیوں حوالے کی۔‘

،تصویر کا ذریعہCOURTESY MEHMOOD BABAR
خود اپنوں کا رویہ کیوں بدلا؟
مولی ایلس کے واپس جانے کے بعد تیراہ میں عجب خان آفریدی اور ان کے ساتھیوں کی زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی کہ اچانک کچھ دن بعد محمود اخونزادہ نے انھیں کہا کہ وہ کہیں اور اپنی رہائش کا بندوبست کر لیں یعنی تیراہ سے چلے جائیں کیونکہ ان کی موجودگی کی وجہ سے یہ علاقہ انگریزوں کی کسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بن سکتا ہے۔
حاجی نیک محمد کہتے ہیں کہ اس پر میرے والد پر مایوسی چھا گئی تاہم اس وقت کی خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور مجاہد سید انور پاچہ نے عجب خان آفریدی کو تسلی دی اور انھیں ہندوستان کی سرحد کی دوسری جانب افغانستان میں آباد شنواری قبیلے میں اپنے دوستوں کے پاس بھیجا۔
یہاں پر ایک سال تک قیام کے دوران عجب خان اور ان کے ساتھیوں نے ایک بار پھر اپنی کارروائیاں شروع کیں اور موجودہ پاکستان کے علاقے ٹل میں ایف سی کے قلعہ پر حملہ کیا تاکہ انگریزوں کو اس خطے سے بھاگنے پر مجبور کیا جا سکے۔
’عجب خان کو مار دو، ہمارے حوالے کر دو یا اس کی آنکھیں نکال لو‘
انگریز سرکار نے عجب خان اور ان کے ساتھیوں کی کارروائیاں روکنے کے لیے افغانستان کے حکمران غازی امان اللہ خان پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔
غازی امان اللہ خان نے انھی دنوں فرانس سے اسلحہ خریدا تھا، جو دو جہازوں میں کراچی کی بندرگاہ پر پہنچا تھا جہاں سے اسے افغانستان پہنچایا جانا تھا تاہم انگریزوں نے اپنے زیر تسلط راستے سے اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں دی اور عجب خان آفریدی کو ان کے حوالے کرنے، مارنے یا ان کی آنکھیں نکال کر اندھا کرنے کا مطالبہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہMEHMOOD BABAR
حاجی نیک محمد کے مطابق غازی امان اللہ خان نے ان کے والد عجب خان آفریدی کو افغانستان میں دوردراز علاقے ترکستان جانے پر راضی کرنے کی کوشش کی جس پر عجب خان آفریدی نے ان کی بات ماننے سے انکار کر کے کہا کہ وہ اپنی آبائی سر زمین سے سینکڑوں کلومیٹر دور کسی علاقے میں نہیں جائیں گے۔
یہ ساری بات چیت افغانستان کے قصر کابل میں جاری تھی جہاں پر آخر کار عجب خان آفریدی نے غازی امان اللہ خان کی صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف جانے کی بات مان لی اور خاندان کے چند افراد کے ساتھ یہاں چلے آئے۔ مزارشریف آنے والے یہ چند لوگ اب 2000 کی آبادی بن چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’پہلے ہم مزارشریف کے گورنر ہاوس میں رہے‘
نیک محمد غازی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے پہل انھیں مزارشریف میں گورنر ہاؤس میں جگہ دی گئی۔
’یہ وہ وقت تھا جب میرے والد عجب خان آفریدی، چچا شہزادہ خان، ان کے چچا ایمل خان سمیت کل پانچ مرد اور چند خواتین اور بچے وہاں آئے تھے۔‘
’بعد میں ہمارے والد کے مطالبے پر ہمارے خاندان کے لیے جگہ بدلی گئی۔ میرے والد عجب خان آفریدی کی تین بیویوں سے دس بیٹے اور آٹھ بیٹیاں تھیں جن سے اب تک ان کی اولاد چل رہی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس دوران جو زمین میرے والد کو ملی تھی اس میں سے کچھ میرے والد نے مزار شریف کے دشت شادیان میں قبرستان کے لیے وقف کر دی، جس پر مختلف جنگوں کے دوران ہزارہ برادری کے لوگوں نے قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اس قبرستان کو ہموار کر کے گھر بناتے گئے۔
’ہم نے ہر دور میں ہر حکومت سے اپنے بزرگوں کی قبریں اور قبرستان کی زمین ان ہزارہ سے خالی کرانے کے لیے عدالتوں میں کیس بھی دائر کیے لیکن کوئی حکومت بھی یہ زمین اور ہماری قبریں واگزار نہ کرا سکی۔‘

،تصویر کا ذریعہMEHMOOD BABAR
’عجب خان آفریدی کی بنائی ہوئی مسجد جو اب بھی محفوظ ہے‘
کئی گلیوں، محلوں، باغات، حجروں اور گھروں پر مشتمل اس آبادی کا کل رقبہ کافی زیادہ ہے جو ان کے خاندان کے بچوں کے بڑے ہونے کے بعد ان کے گھروں میں تقسیم ہوتا رہا لیکن یہاں سب سے قابل ذکر جگہ عجب خان آفریدی کا باغ اور ان کے ہاتھوں سے بنائی ہوئی مسجد ہے، جو اب بھی محفوظ ہیں۔
مزار شریف کا شہر یوں تو شمالی افغانستان کا اہم ترین حصہ ہے جہاں پر ایک طرف اگر قندوز کے راستے تاجکستان کو راستہ جاتا ہے تو تاریخی دریائے آمو کے پار ازبکستان آباد ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس شہر کے اردگرد زیادہ آبادی ہزارہ برادری سے تعلق رکھتی ہے یعنی وہ ازبک، تاجک اور ترکمن ہیں۔
عجب خان آفریدی کے سب سے چھوٹے بیٹے خان کاکا کہتے ہیں کہ جب بھی ان پر کوئی مشکل وقت آیا تو اس شہر میں ان کے ازبک اور تاجک ہمسایوں نے انھیں اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا اور جب بھی طالبان برسر اقتدار آئے تو ان کے خاندان نے ان ازبکوں اور تاجکوں کو تحفظ دیا۔
خان کاکا کا یہ بھی کہنا ہے کہ پشتون ہونے اور غازیوں کا لقب رکھنے کی بدولت جنگ کے دنوں میں بھی کسی کو ان کے علاقے میں لوٹ مار یا قتل وغارت گری کی جرات نہ ہو سکی کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ یہ لوگ اپنا تحفظ کرنا خوب جانتے ہیں۔
خان کاکا کہتے ہیں کہ انھیں ان کے والد کی بہادری کی وجہ سے پورے افغانستان اور پاکستان میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تاہم کبھی کبھی دکھ بھی ہوتا ہے جب پاکستان میں ہمیں افغان مہاجر اور افغانستان میں پاکستانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یعنی ہم پاکستان کے رہے نہ ہی افغانستان کے شہری بن سکے۔










