چاکر نوتک کلمتی: 19 ویں صدی میں کراچی کی پہلی فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والا ’باغی‘ کون تھا؟

چاکر کلمتی کی خیالی تصویر
،تصویر کا کیپشنچاکر کلمتی کی خیالی تصویر
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سخت کڑے پہرے میں ایک دراز قد شخص کو اُس پہاڑی پر پہنچایا گیا جہاں پہلے سے پھانسی گھاٹ تیار کیا گیا تھا۔ پھانسی کی سزا پانے والے نے اِس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ آخری وقت میں اپنی دھرتی کے درخت، پھول پودے اور مناظر دیکھنا چاہتا ہے۔

انگریز فوج نے اُس شخص کی آخری خواہش پوری کی اور پھانسی دینے کے لیے ایک اونچی پہاڑی کا انتخاب کیا جہاں سے یہ شخص اِن مناظر کو اپنی آنکھوں میں سمو کر تختہ دار پر چڑھ گیا۔

اُس شخص کا نام چاکر نوتک کلمتی تھا۔

چاکر کلمتی کا تعلق صوبہ بلوچستان کے موجودہ علاقے حب سے تھا اور ان کا خاندان درگاہ جئے شاہ نورانی کا مجاور تھا۔

گل حسن کلمتی اپنی کتاب ’کراچی کے لافانی کردار‘ کی پہلی جلد میں لکھتے ہیں کہ چاکر کلمتی کا تعلق کلمتیوں کی ’رجیرا‘ شاخ سے تھا۔ یہ کمیونٹی کراچی، ٹھٹہ، بدین، حیدرآباد، جام شورو، لسبیلہ اور حب میں بڑی تعداد میں بستے ہیں۔

منگھو پیر کا چشمہ اور مقامی بغاوت

’کراچی قدامت، واقعات، روایات‘ میں مصنف غلام رسول کلمتی لکھتے ہیں کہ انگریز افسران اکثر و بیشتر سیر و تفریح کے لیے مختلف علاقوں میں نکل جاتے تھے اور منگھو پیر کے قدرتی چشمے ان کے پسندیدہ ترین مقامات میں سے ایک تھے۔ جس دن ان چشموں کی سیر پر انگریز افسران جاتے اس دن مقامی افراد پر یہاں آنے کی پابندی ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ان علاقوں کے لوگ زیادہ تر گلہ بان تھے اور منگھو پیر کے چشموں سے اُن کی بھیڑ بکریاں روزانہ کی بنیاد پر پانی پیتی تھیں۔ انگریزوں کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی سے لوگ متاثر ہوتے تھے اور ان ہی پابندیوں نے لوگوں میں نفرت کے جذبات کو بھڑکا دیا تھا۔

فروری 1839 کو جب انگریزوں نے کراچی شہر پر قبضہ کیا تو تالپور حکمران اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ ان سے مقابلہ کر سکیں کیونکہ انھیں چاروں اطراف سے گھیرا جا چکا تھا لہذا انھوں نے معاہدہ کر کے کراچی شہر کو انگریزوں کے حوالہ کیا۔

منگھو پیر

،تصویر کا ذریعہBritish Library

،تصویر کا کیپشنجس دن منگھو پیر کے چشموں کی سیر پر انگریز افسران جاتے اس دن مقامی افراد کے یہاں آنے پر پابندی ہوتی تھی

کراچی شہر کے اطراف میں خاص طور پر ملیر، کوہستان اور حب تک کے علاقے قبائلی چراگاہوں پر مشتمل تھے اور قبائل صدیوں سے آزاد حیثیت میں یہاں بس رہے تھے۔

انگریزوں کے آنے سے ان میں احساس پیدا ہوا کہ ان کی آزادی سلب ہو چکی تھی اور وہ اپنی سرزمین کو غیروں کے ہاتھوں جاتے دیکھ کر انتہائی غم و غصے میں تھے۔ لیکن ان کے پاس جدید اسلحہ اور فوجی طاقت نہ تھی اس لیے انھوں نے چھاپہ مار کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا جس نے کئی ماہ تک انگریز سرکار کے لیے مشکلات پیدا کیے رکھیں۔

کراچی چھاؤنی کے کیپٹن کا قتل

انگریزوں کے معاون سیٹھ نائوں مل اپنی یادداشتوں میں چاکر کلمتی کو لٹیرا قرار دیتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ ایک روز شام کو پانچ بجے کیپٹن ہینڈ گھوڑے پر سوار ہو کر سواری کے لیے منگھو پیر کی پہاڑیوں کی طرف نکل گئے جہاں کچھ لٹیروں نے انھیں قتل کر دیا۔

شام کے سات بج گئے لیکن کیپٹن چھاؤنی واپس نہیں لوٹے۔ فوج کے سپہ سالار کرنل سپلر نے ان کی تلاش کے لیے سپاہی پہاڑیوں کی طرف روانہ کیے۔

گل حسن کلمتی ’کراچی کے آفاقی کردار‘ میں لکھتے ہیں کہ راستے میں سپاہیوں کو کیپٹن ہینڈ کے مقامی سپاہی ملے جو پریشان تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کیپٹن نے انھیں ایک جگہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے کو کہا اور خود اپنی اہلیہ کے ہمراہ آگے نکل گئے اور جب بہت دیر تک کیپٹن کی واپسی نہ ہوئی تو وہ (مقامی سپاہی) کیمپ کی جانب واپس آ گئے۔

گل حسن کے مطابق کیپٹن ہینڈ کا مکمل نام الیگزینڈر ہینڈ اور ان کی اہلیہ کا نام میٹلڈا واٹسن تھا۔

’سب نے مل کر کیپٹن ہینڈ کی تلاش شروع کی، لالٹین کی روشنی میں ساڑھے نو بجے یہ سپاہی واپس چھاؤنی میں پہنچے۔ کیپٹن ہینڈ کی لاش ایک گھوڑے پر دیکھ کرنل سپلر اور نائوں مل پریشان ہو گئے۔ سپاہیوں نے بتایا کہ کیپٹن کی لاش ایک گڑھے میں موجود تھی اور انھیں بیدردی سے قتل کیا گیا ہے، اُن کے گھوڑے اور اہلیہ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔‘

ضلع خضدار میں دربار شاہ نورانی

،تصویر کا ذریعہFLICKR

،تصویر کا کیپشنچاکر کلمتی کا تعلق صوبہ بلوچستان کے موجودہ علاقے حب سے تھا اور ان کا خاندان درگاہ جئے شاہ نورانی کا مجاور تھا

شاہ نورانی کے خلیفہ نے حملہ کیا

گل حسن کلمتی لکھتے ہیں کہ اُسی رات دس بجے چھاؤنی میں اہم میٹنگ بلائی گئی۔ تمام انگریز انتظامیہ میں پریشانی اور خوف کی لہر دوڑ چکی تھی تمام سپاہیوں، خواتین اور افسران کے بغیر اجازت باہر نکلنے پر پابندی عائد کر دی گئی اور شہر کے راستوں کی ناکہ بندی کی گئی۔

سیٹھ نائوں مل اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ رات کو دس بجے کرنل سپلر نے انھیں بلوایا اور وہ چند سپاہیوں کے ہمراہ اُن کے پاس پہنچے۔

’کرنل سپلر نے کیپٹن کے بارے میں ایک خبر سے آگاہ کیا، میں نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ کھوجی لے کر جاؤ اور پیروں کے نشانات سے قاتل کا پتا لگاؤ۔ میں نے انھیں کہا کہ جب تک تم واپس نہیں آؤ گے اُس وقت تک میں چھاؤنی سے باہر نہیں نکلوں گا۔ وہ تین چار گھنٹوں کے بعد لوٹ آئے اور بتایا کہ بزدلی کا یہ کام شاہ بلاول کے خلیفہ چاکر نے ’چھٹا‘ اور ’بدیجا‘ قوم کے پچاس لوگوں کی مدد سے کیا ہے۔‘

’میں نے شہر جا کر چھٹا اور بدیجا قوم کے لوگوں کا پتا چلایا اور بالاخر آٹھ افراد کو ڈھونڈ کر سخت پہرے میں انگریزوں کی چھاؤنی کی طرف روانہ کیا۔ انھوں نے کرنل سپلر کے سامنے اقرا کیا کہ وہ شاہ بلاول کے خلیفہ چاکر کے مرید ہیں اور یہ قتل انھوں (چاکر) نے کرایا ہے اور وہ اس وقت ان کے ساتھ تھے۔ انھوں نے یہ کام کیپٹن ہینڈ کے کوٹ پر موجود چمکتے تمغوں کے لالچ میں کیا ہے۔‘

سنہ 1857 میں کراچی کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہBritish Library

،تصویر کا کیپشنجب انگریزوں نے کراچی پر قبضہ کیا تو تالپور حکمران اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ ان سے مقابلہ کر سکیں لہذا انھوں نے معاہدہ کر کے شہر کو انگریزوں کے حوالہ کیا

چاکر کو حوالے کرو یا حملے کے لیے تیار رہو

سیٹھ نائوں مل اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ کیپٹن ہینڈ کی لاش پہنچنے کے بعد کرنل سپلر اپنے نائب لیفیٹیننٹ لیکی، جو اس وقت حیدر آباد (سندھ کا اس وقت کا دارالحکومت) کے سفارتخانے میں نائب تھے، کو لکھا کہ تالپور حکمرانوں سے خلیفہ چاکر کی کراچی حوالگی کے لیے کہا جائے۔

لیفٹیننٹ لیکی نے میر نور محمد پر دباؤ ڈالا جس نے ایک خدمت گار کو شاہ نورانی بھیجا کہ خلیفہ چاکر کو قابو کر کے کراچی چھاؤنی بھیجا جائے۔

گل حسن کلمتی لکھتے ہیں کہ حیدرآباد کے میر (تالپور حکمران)، لسبیلہ کے جام اور قلات کے خان انگریزوں کی طاقت اور اثر رسوخ سے خوفزدہ تھے کیونکہ انگریزوں نے میروں کے ذریعے لسبیلہ کے جام اور قلات کے خان کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ اگر چاکر خان کو انگریزوں کے حوالے نہیں کیا گیا تو قلات اور لسبیلہ پر حملہ کیا جائے گا۔

اس وقت کے کلمتیوں کے سردار ملک ابراہیم، جوکھیوں کے سردار جام مہر علی اور برفتوں کے سردار ملک احمد خان سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا۔

چاکر کلمتی کی قلات روانگی

باہوٹ حمزہ خان کلمتی ’کلمتی جنگ نامہ‘ میں لکھتے ہیں کہ فوجی چھاؤنی کھارادر اور میٹھادر کے درمیان تھی۔ انگریز خچروں پر سوار ہوتے تھے۔ چاکر کلمتی بھی خچر پر سوار تھے اور اسی پر ہی کیپٹن کی اہلیہ کو بٹھا کر فرار ہوئے۔

’راستے میں انھیں بھوک اور پیاس لگی۔ وہ ایک کنویں پر رُکے جہاں پہلے سے ایک مقامی شخص موجود تھا جس نے پانی پلایا اور کھانا دیا۔ اُس کو چاکر نے پوری بات بتائی۔ جب وہ روانہ ہونے لگے تو اُس شخص نے سوال کیا کہ اب کہاں جا رہے ہو؟ چاکر نے اسے نہیں بتایا اور کہا کہ کسی کو ان کے بارے میں نہ بتائے۔‘

جام لسبیلہ نے اپنے لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے کہا جو اس شخص تک پہنچے اور اس نے پوری کہانی بتائی اور بتایا کہ چاکر کلمتی کس طرف گئے ہیں۔

کراچی کے نزدیک مٹی کے برتن بنانے والے

،تصویر کا ذریعہBritish Library

،تصویر کا کیپشنکراچی کے نزدیک مٹی کے برتن بنانے والے

گل حسن کلمتی کے مطابق چاکر جام آف لسبیلہ کو بتائے بغیر خان آف قلات کے پاس پہنچے اور انھیں تفصیلات سے آگاہ کیا اور کیپٹن ہینڈ کی اہلیہ کو بطور امانت ان کے حوالے کیا اور خود حب کی طرف لوٹ گئے۔

کلمتیوں کے سردار ملک ابراہیم کلمتی نے خان آف قلات سے رابطہ کیا اور بتایا کہ انگریزوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر چاکر خان گرفتاری پیش کریں تو وہ انھیں نہیں ماریں گے جس کے بعد خان آف قلات کے درمیان میں پڑنے پر چاکر نے کیپٹن ہینڈ کی اہلیہ کو باعزت طریقے سے کراچی بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ’جب تک انگریز کراچی خالی نہیں کریں گے، وہ اور ان کے ساتھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور حملے جاری رہیں گے۔‘

چاکر کی دھوکے سے گرفتاری

گل حسن کلمتی لکھتے ہیں کہ چاکر خان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ حب کے چچڑی نامی علاقے میں موجود تھے۔

سرداروں نے مذاکرات کے بہانے بلا کر دھوکے سے انھیں گرفتار کر لیا اور سخت پہرے میں کراچی میں انگریز کیمپ بھیج دیا گیا۔

غلام رسول کلمتی لکھتے ہیں کہ چاکر خان جب حب کے علاقے میں تھے تو اس وقت لسبیلہ کے حاکم پر انگریزوں کا دباؤ تھا کہ کسی بھی صورت میں چاکر کو گرفتار کر کے ان کے حوالے کریں۔ دوسری طرف چھٹا سردار، جو انگریزوں کے خاص آدمی تھے اور ان سے وفاداری کا عہد کر چکے تھے، اور ان کے لوگ چاکر کی تلاش میں تھے۔

نیٹیو جیٹی کا منظر

،تصویر کا ذریعہBritish Library

،تصویر کا کیپشننیٹی جیٹی کا ایک منظر

چاکر خان کی گرفتاری میں چھٹا سردار صاحب خان کے کردار کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

گل حسن کے مطابق نائوں مل نے شاہ نورانی کے علاقے کے رہائشی چھٹا قبیلے کے سردار صاحب خان کو کراچی طلب کیا ان کو میر چاکر خان کے خلاف مدد کے لیے کہا۔ کراچی کے آس پاس جاگیر دینے پر صاحب خان نے نائوں مل کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا، دوسری جانب خان آف قلات نے بھی اپنے جاسوس چاکر کے پیچھے لگا دیے اور اس طرح چاکر اپنوں اور غیروں کے جال میں پھنس گئے۔

پانچ ماہ کے بعد جاسوسوں نے چاکر کے حب کے پار چیچڑی والے علاقے میں موجود ہونے کی اطلاع دی۔

چاکر اور ان کے ساتھیوں کا ٹھکانہ کراچی کے کاٹھوڑ کے علاقے میں گوریان پہاڑ میں بنی ہوئی غار تھی جہاں ان کا گھیراؤ کیا گیا۔ چاکر نے اپنے ساتھیوں کو وہاں سے نکلنے کا کہا اور خود مقابلے کرنے کا فیصلہ کیا تاہم خان آف قلات اور دیگر سردار مذاکرات کے لیے کود پڑے اور اس طرح مذاکرات کا جھانسا دے کر انھیں گرفتار کر لیا گیا اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر چھاؤنی لایا گیا۔

پہلی فوجی عدالت اور پھانسی کی سزا

نائون مل اپنے یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ ’چاکر کو کراچی میں انگریزوں کی چھاونی میں پیش کر کے فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ ان پر الزام ثابت ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ ان کو اُسی مقام پر پھانسی دی جائے جہاں کیپٹن ہینڈ کو قتل کیا گیا تھا۔ فوجی عدالت کرنل سپلر، میجر ڈونو ہائی اور مجھ (نائوں مل) پر مشتمل تھی۔‘

گل حسن کلمتی لکھتے ہیں کہ اس وقت کراچی پر میروں کی عملداری تھی اور ان کا اپنا عدالتی نظام تھا لیکن پھر بھی چاکر خان کو تالپور حکمرانوں کی عدالت میں پیش کرنے کے بجائے ایک فوجی عدالت قائم کر کے مقدمہ چلایا گیا۔ یہ سندھ میں قائم ہونے والی پہلی فوجی عدالت تھی۔ چاکر سے بار بار ان کے شریک ملزمان کا پوچھا گیا مگر انھوں نے کہا کہ یہ کام انھوں نے اکیلے کیا ہے۔

نائوں مل کی یادداشتوں میں کہیں بھی کیپٹن ہینڈ کی اہلیہ کے اغوا اور واپسی کا ذکر نہیں ملتا۔ گل حسن کلمتی لکھتے ہیں کہ جنرل ہینڈ کی اہلیہ کا بیان بھی لیا گیا جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ کچھ عرصہ چاکر خان اور کچھ وقت خان آف قلات کی پناہ میں رہیں مگر اس دوران چاکر خان نے کبھی میلی آنکھ سے انھیں نہیں دیکھا۔

قبر
،تصویر کا کیپشنچاکر کلمتی کو نیشنل سٹیڈیم کے قریب ڈالمیا میں موجود پہاڑی پر پھانسی دی گئی تھی

وعدے کی یاد دہانی اور آخری خواہش

قبائلی سرداروں نے انگریز سرکار کو ان کا وعدہ یاد دلانے کا فیصلہ کیا کہ اگر چاکر گرفتار ہوئے تو اُن کو زندگی بخش دی جائے گی۔

مقامی سرداروں نے خان آف قلات اور تالپور حکمرانوں پر دباؤ ڈالا کہ چاکر کو رہا کیا جائے لیکن انگریز سرکار سے یہ جواب ملا کہ میر چاکر خود پیش نہیں ہوئے بلکہ ان کو گرفتار کیا گیا ہے لہذا انھیں رہا نہیں کیا جائے گا کیونکہ اگر انھیں رہا کیا گیا تو دیگر مزاحمت کاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

چاکر سے ان کی آخری خواہش پوچھی گئی تو انھوں نے کہا کہ ’مجھے کسی اونچی جگہ پر پھانسی دی جائے اور زندان سے لے کر پھانسی گھاٹ تک آنکھوں پر پٹی نہ باندھی جائے تاکہ میں آخری سانس تک اپنی سرزمین کے درختوں اور مناظر کا نظارہ کر سکوں۔‘

ان کی یہ خواہش تسلیم کر لی گئی۔

نیشنل سٹیڈیم کے قریب ڈالمیا میں موجود پہاڑی پر انھیں پھانسی دی گئی۔ پھانسی سے قبل کراچی آنے والے راستوں کو بند کیا گیا تھا۔

نقشہ

،تصویر کا ذریعہSindh Government

،تصویر کا کیپشن’جبل چاکر پھانسی‘ سے ملحقہ کراچی کا علاقہ۔ بڑے گول دائرے میں اس پہاڑی کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں چاکر کلمتی کو پھانسی دی گئی تھی (سنہ 1913 میں سرکاری سطح پر بنایا گیا نقشہ)

مقامی لوگوں کی عقیدت

رچرڈ برٹن نے سنہ 1851 میں لکھی گئی کتاب ’سندھ ایک اداس وادی‘ میں ڈالمیا کی اس پہاڑی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چوٹی پر ایک لکڑا لگا ہوا ہے جو کہ ایک قبر کا نشان ہے، اس شخص کا اصل نام فقیر تھا اور اس نے ایک انگریز افسر کو مارا تھا جس کہ جرم میں انھیں یہاں پھانسی چڑھایا گیا۔

مقامی لوگ ان کو غیبی طاقت والا شخص سمجھتے تھے اور ان کے زیر اثر کچھ لوگ ڈاکو بن گئے تھے۔

گل حسن کلمتی کے مطابق مقامی لوگوں نے پھانسی کی یاد میں پتھر رکھ کر لکڑا لگایا تھا اور اس پہاڑی کا نام بھی چاکر سے منسوب کر دیا گیا تھا۔ سنہ 1913 کے سروے نقشے میں اس جگہ کا نام ’جبل چاکر پھانسی‘ موجود ہے جو آج بھی چاکر پھانسی کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں سے ایک برساتی نالا بھی نکلتا ہو جو ملیر ندی میں شامل ہو جاتا ہے۔

غلام رسول کلمتی لکھتے ہیں کہ پہاڑی پر ایک تختہ گاڑ کر اس پر جھنڈا لگایا گیا اور اسے زیارت کی حیثیت حاصل ہو گئی اور اس پہاڑ کا نام ’چاکر پاہو‘ رکھ دیا گیا۔

چاکر خان کی میت پہلے منگھو پیر لے جائی گئی اور پھر وہاں سے شاہ نورانی لے جا کر دفن کر دی گئی۔ چاکر کے خاندان کے لوگ آج بھی شاہ نورانی کے مجاور ہیں۔

کیپپٹن ہینڈ کی تدفین بندر روڈ پر واقع مسیحیوں کے قبرستان میں کی گئی۔ گل حسن کلمتی کے مطابق یہ مسیحیوں کا پہلا قبرستان تھا جو جامعہ کلاتھ سے پہلے اقبال سینٹر کے عقب میں واقعہ تھا، جس کا اب نام و نشان نہیں رہا۔

چاکر کلمتی کی پھانسی کے بعد یہ سلسلہ رُکا نہیں۔

غلام رسول کلمتی لکھتے ہیں کہ تین سال کے بعد ایک نئی مزاحت کا سامنا تھا جس کے سرغنہ چاکر کلمتی کا پیرو کار سائیں داد کلمتی تھے۔ ایک روز انگریز فوج کا ایک دستہ ملیر ندی پر گشت کر رہا تھا کہ حملہ کیا گیا۔ حملہ آور سائیں داد اور ان کے چار ساتھی تھے۔ اس حملے میں دو سپاہی مارے گئے اور سائیں بھی اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہوئے۔