سری لنکا: وکرما سنگھے عبوری صدر لیکن کیا سیاسی بحران ختم ہو سکے گا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
سری لنکا سابق صدر گوتابایا راجاپکشے کے استعفے کے بعد سیاسی اور معاشی بحران کے خاتمے کی کوشش کر رہا ہے۔
جمعے کے دن وزیر اعظم وکرما سنگھے نے بطور عبوری صدر حلف اٹھایا۔ حکمران جماعت کی جانب سے ان کی بھرپور حمایت کے باعث اس وقت وکرما سنگھے اس وقت تک اگلے ہفتے نئے صدر کے انتخاب میں فیورٹ امیدوار ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ مظاہرین کو بھی قبول ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ سابق صدر گوتابایا راجاپکشے کے سنگاپور فرار ہونے کے بعد ملک کی گلی محلوں میں جشن کا سا سماں تھا۔ عام لوگ ان کو اور ان کے خاندان کو اس معاشی بحران کا ذمہ دار سمجھتے ہیں جس کے دوران ملک میں خوارک، ایندھن اور بنیادی اشیا کی قلت کا سامنا رہا۔
جمعے کی صبح کرفیو کے خاتمے کے بعد دارالحکومت کولمبو میں بزنس اور دکانیں ایک بار پھر کھل چکے تھے جب کہ اہم شاہراہوں پر فوجی دستے موجود تھے۔
دوسری جانب پیٹرول سٹیشنز کے باہر ہزاروں افراد ایک بار پھر قطاروں میں لگ چکے تھے۔
سری لنکا کے نئے صدر کے انتخاب کے عمل کا آغاز ہفتے کو پارلیمنٹ سے ہو گا جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 20 جولائی کو اراکین ووٹنگ میں حصہ لیں گے۔
سری لنکا کے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد وکرما سنگھے نے وعدہ کیا کہ جمہوری طور پر منتخب صدر کی تعیناتی کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ملک میں قانون اور امن کے قیام کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ میں پر امن مظاہروں کا حق 100 فیصد مانتا ہوں لیکن کچھ لوگ سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکمران جماعت کی پارلیمان میں اکثریت کے باعث توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اراکین وکرما سنگھے کو بطور صدر منتخب کرنے کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ لیکن وکرما سنگھے کو راجا پکشے خاندان کا نہایت قریبی سمجھا جاتا ہے۔
اسی لیے کیا عوام ان کے انتخاب کو تسلیم کریں گے یا نہیں، یہ ایک اہم معاملہ ہے کیوں کہ بطور وزیر اعظم ان کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ہی مشتعل ہجوم نے وکرما سنگھے کے گھر میں داخل ہو کر سکیورٹی فورسز سے جھڑپ کی تھی۔
ان مظاہرین میں شامل منوری پباساری نے اس وقت بی بی ے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وکرما سنگھے کے خلاف احتجاجی ریلی جلد ہی نکالی جائے گی۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’ان کے پاس عوام کا مینڈیٹ نہیں ہے اور وہ راجاپکشے کے جانے مانے حامی ہیں۔ نئے صدر اور وزیر اعظم کو راجاپکشے کا حمایتی نہیں ہونا چاہیے۔‘
سری لنکا کے عبوری صدر کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
وکرما سنگھے سری لنکا کے سینئر سیاست دان ہیں جو چھ بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں لیکن کبھی بھی اپنی مدت پوری نہیں کر پائے۔
بطور وزیر اعظم ان کی حالیہ تعیناتی مئی میں اس وقت ہوئی تھی جب صدر گوتابایا نے اقتدار بچانے کی آخری کوشش میں ان کا نام تجویز کیا تھا۔
ان کا موجودہ دور کا آغاز بھی کچھ اچھا نہیں ہوا کیوں کہ انھوں نے جب ملک بھر میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو ہزاروں مظاہرین نے اس اعلان کے خلاف دارالحکومت کولمبو میں ان کے دفتر پر دھاوا بول دیا تھا۔
حکومت مخالف مظاہرین کا ماننا ہے کہ وہ سابق صدر کے نہایت قریب رہے ہیں اور وہ ان کو بھی اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے۔ گذشتہ ہفتے ان کی نجی رہائش گاہ کو بھی اس وقت نظر آتش کر دیا گیا تھا جب وہ وہاں موجود نہیں تھے۔
پیشے کے اعتبار سے وکرما سنگھے وکیل ہیں جن کا تعلق ایک سیاست دانوں اور کاروبار سے جڑے متمول خاندان سے ہے۔
پہلی بار وہ 1977 میں اسمبلی میں منتخب ہوئے تھے جس کے بعد انھوں نے اپنی جماعت میں تیزی سے ترقی کی۔ 1993 میں وہ پہلی بار وزیر اعظم بنے لیکن صرف ایک سال تک ہی اس عہدے پر رہے۔
1994 میں وہ یونائیٹڈ نیشنل پارٹی کے رہنما بنے جب گامنی ڈیسانائکے کو مبینہ طور پر تامل باغیوں نے ہلاک کر دیا۔ وکرما سنگھے خود بھی ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے تھے۔
وکرما سنگھے نے اپنی جماعت کا امیج بہتر بنانے کے لیے ایک ڈسپلنری کمیشن قائم کیا تھا تاکہ کرپٹ پارٹی ممبران سے نجات حاصل کی جائے۔ انھوں نے اپنا ذاتی امیج بھی بہتر بنانے کی کوشش کی اور مختلف ہیئر سٹائل اسی کوشش کا نیتجہ تھے۔
ایک وقت میں وہ صدر کے عہدے کے لیے کافی فیورٹ تھے لیکن پھر ان کا ستارہ گردش میں آ گیا۔ سری لنکا میں 2019 میں ایسٹر حملوں کے وقت وہ وزیر اعظم تھے جن میں 250 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
گذشتہ انتخابات میں ان کی جماعت صرف ایک پارلیمانی سیٹ جیت سکی تھی جس کے بعد وہ پارلیمان میں اپنی جماعت کے واحد نمائندے تھے۔
اس وقت ان کے خلاف عوامی غصے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کو راجاپکشے خاندان کے قریب سمجھا جاتا ہے اور یہ تاثر بھی عام ہے کہ غالبا ملک کے موجودہ حالات میں بطور سربراہ وہ بہترین آپشن نہیں ہیں۔
ادھر سنگا پور کا کہنا ہے کہ ابھی تک سری لنکا کے سابق صدر گوتابایا راجاپکشے نے سیاسی پناہ کی درخواست نہیں کی۔
واضح رہے کہ گوتابایا راجاپکشے کو استعفی دینے کے بعد کسی قسم کا استثنی حاصل نہیں رہا اور ان کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سری لنکا کے سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف ہی کو بتایا ممکنہ طور پر گوتابایا راجاپکشے کچھ عرصہ سنگا پور میں گزارنے کے بعد متحدہ عرب امارات جا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک استعفیٰ جسے کئی روز لگ گئے
انباراسن اتھیراجن، بی بی سی نیوز، کولمبو
سری لنکا کے مظاہرین کو جس چیز کا انتظار تھا وہ ہوچکا ہے: صدر گوتابایا مستعفی ہوگئے ہیں۔
اس خط سے کئی کام ہوئے ہیں۔ پہلا یہ کہ وکرما سنگھے کو قائم مقام صدر رہنے کا قانونی جواز مل گیا ہے۔ سری لنکا کے آئین کے مطابق صدر کے استعفے کے بعد وزیر اعظم عبوری صدر بن سکتا ہے۔
دوسرا یہ کہ اب پارلیمان میں نئے صدر کے انتخاب میں رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں۔ ارکان 15 جولائی کو اس عمل کا آغاز کریں گے اور ایک ہفتے میں ووٹنگ کا وعدہ کیا گیا ہے۔
استعفیٰ نہ آنے کی وجہ سے یہ عمل رکا ہوا تھا۔ مگر اب سپیکر پارلیمان کا اجلاس بلا سکیں گے۔
وکرما سنگھے کے علاوہ اپوزیشن رہنما سجیتھ پریمادیسا بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔ لیکن حکمراں جماعت کی اکثریت کو مدنظر رکھتے ہوئے وکرما سنگھے کی جیت کے امکان زیادہ ہیں۔ خیال ہے کہ ان کے راجاپکشے خاندان سے اچھے تعلقات ہیں۔
آیا سری لنکا کے عوام انھیں قبول کریں گے، یہ بحث بعد کی ہے۔ صدر کے استعفے کے علاوہ مظاہرین وزیر اعظم کے استعفے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔
تیسری بات یہ کہ اس استعفے کا مطلب ہے کہ راجاپکشے کو اب استثنیٰ حاصل نہیں رہی اور یہ اہم ہوگا کہ وہ کس ملک میں محفوظ پناہ لینے کی کوشش کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
’مستحکم حکومت کا بنی تو ملک بند ہوسکتا ہے‘
سری لنکا کے مرکزی بینک کے گورنر نندالال ویراسنگھے نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد ہی کوئی مستحکم حکومت نہ بنی تو ملک ’بندش کر طرف جاسکتا ہے۔‘
انھوں نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ادائیگی کے لیے زرمبادلہ مل سکتا ہے یا نہیں اس پر بہت ’غیر یقینی صورتحال‘ ہے۔
بہت سے لوگ راجاپکشے حکومت کو اس بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ادھر ویراسنگھے، جنھوں نے خود صرف اپریل میں مرکزی بینک کے گورنر کا عہدہ سنبھالا، نے کہا کہ انھیں مستحکم حکومت کے بغیر ضروری اشیا کی فراہمی کے بارے میں ’مشتقبل کا راستہ نظر نہیں آتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم اس ماہ کے آخر تک ڈیزل کی کم از کم تین کھیپوں اور پیٹرول کی کچھ ایک یا دو کھیپوں کی مالی اعانت کرنے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن اس سے آگے، بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال ہے کہ آیا ہم زرمبادلہ بھی فراہم کر پائیں گے۔‘
’اگر ایسا نہیں ہوتا ہے، تو پورا ملک بند ہو جائے گا۔ اس لیے مجھے ایک وزیر اعظم، صدر، کابینہ کی ضرورت ہے، جو فیصلے کر سکے۔ اس کے بغیر تمام مزید مشکلات سے دوچار ہوں گے۔‘
ویراسنگھے آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ’ہمیں امید ہے کہ قرض کے لیے ہماری بات چیت میں اچھی پیشرفت ہو جائے گی۔ لیکن اس عمل کا وقت اس بات پر منحصر ہے کہ کتنی جلد ایک مستحکم انتظامیہ ہوگی۔‘
انھوں نے مشورہ دیا کہ ایک بار جب ایک مستحکم حکومت قائم ہو جائے تو سری لنکا کہیں نہ کہیں ’تین یا چار یا پانچ ماہ کے اندر بحران سے نکل سکتا ہے۔‘
مرکزی بینک کے گورنر کو خود ایک ممکنہ نئے صدر کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ لیکن وہ اس بات کو مسترد کرتے ہوئے نظر آئے۔ ’مجھے کوئی سیاسی عہدہ لینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘












