سری لنکا کا ’ہیرو خاندان‘ کیسے عوام کی نفرت کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا؟

راجا پکشے

،تصویر کا ذریعہAFP

سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجاپکشے 13 جولائی کو علی الصبح ملک سے فرار ہو گئے تھے لیکن یہ ایک ایسے خاندان کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث تھا جو گذشتہ دو دہائیوں سے اقتدار میں ہے۔

کچھ ہی روز قبل ان کی سرکاری رہائش گاہ میں ہزاروں مظاہرین نے داخل ہو کر سری لنکا کے سنگین ہوتے معاشی بحران کی وجہ بننے کے باعث مستعفی ہونے کا کہا تھا۔

سری لنکا کے پاس آج بھی زرِ مبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں، لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے اور ایندھن، اشیا خورد و نوش اور دیگر اہم ضروریات جیسے ادویات ختم ہونے کے قریب ہیں۔

تیزی سے بڑھتی قیمتوں کے خلاف اپریل میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے جس کے بعد اس بڑھتے غصے نے وزیرِاعظم مہندا راجاپکشے کو مئی میں اقتدار سے بے دخل کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مہندا راجاپکشے فرار ہونے والے صدر کے بڑے بھائی ہیں۔

انھوں نے اس وقت مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا جب ان کے حامیوں نے حکومت مخالف مظاہرین پر حملہ کر دیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں ہلاکت خیز مظاہرے دیکھنے کو ملے تھے۔

سیاست دانوں کے درجنوں مکانات جلائے گئے جن میں سے کچھ راجاپکشے خاندان کی ملکیت بھی تھے۔ مہندا کو ان کی سرکاری رہائش گاہ سے اس وقت نکالنا پڑا تھا جب غصہ میں بھرپور مظاہرین نے اس کا محاصرہ کر لیا تھا۔

تاہم ان کی بے دخلی کے باوجود ان کے چھوٹے بھائی 73 سالہ گوٹابایا پر دباؤ میں کمی نہیں آئی۔ مستعفی ہونے کے مطالبوں کے درمیان وہ بطور صدر کرسی پر براجمان رہے اور انھیں مجبوراً چند مطالبات پورے بھی کرنے پڑے۔

انھوں نے اپنے چند اختیارات پارلیمان کو منتقل کیے تاہم رانیل وکرم سنگھے کو مخلوط حکومت کا نیا وزیرِ اعظم تعینات کیا۔

اس تعیناتی کے بعد مظاہرین کے غصے میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ وکرم سنگھے پانچ مرتبہ وزیرِاعظم بن چکے تھے لیکن وہ کبھی بھی دورِ حکومت مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے اور انھیں راجاپکشے خاندان کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔

اس دوران معاشی بحران مزید سنگین ہوتا رہا اور عام سری لنکن شہری کے لیے ایندھن سے لے کر کھانے تک سب کچھ ہی مشکل ہونے لگا تو مظاہروں میں پھر سے تیزی آنے لگی۔

یہاں تک کہ نو جولائی کو ہزاروں مظاہرین نے صدر کی سرکاری رہائش گاہ کا رخ کر لیا اور کچھ ہی دیر میں اس میں داخل ہو گئے۔

اس سے پہلے ہی صدر کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا بالکل ویسے جیسے ان کے بھائی کو مئی میں بھیجا گیا تھا اور اطلاعات کے مطابق انھیں سری لنکا کے شمال مشرقی علاقے کے ایک بحری اڈے میں پناہ ملی تھی۔

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہReuters

گوٹابایا بعد میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں مالدیپ روانہ ہوئے جسے کے بعد ذرائع کے مطابق وہ ایک غیر متعینہ منزل کی جانب جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

وہ ملک سے فرار تو ہو گئے لیکن انھوں نے فوری طور طور مستعفی ہونے کا اعلان نہیں کیا جس پر ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک اقتدار کے ساتھ چمٹے رہنا چاہتے تھے جب تک وہ کسی محفوظ مقام تک نہ پہنچ جائیں تاکہ انھیں سری لنکا واپس لا کر عدالتوں کے سامنے نہ پیش ہونا پڑے۔

تاہم یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ ایک عرصے تک سری لنکا کا ’ہیرو‘ مانا جانے والا راجاپکشے خاندان کیسے بطور حکمران عوام کے لیے قابلِ نفرت بن گیا؟

مہندا راجاپکشے کو کچھ برس پہلے تک سنہالیوں کی اکثریت کی جانب سے ایک ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا تھا جنھوں نے تین دہائیوں پر محیط خانہ جنگی کا خاتمہ کرنے کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ سنہ 2009 میں بطور صدر ان کے پہلے دورِ حکومت میں انھوں نے تمل ٹائیگر باغیوں کا خاتمہ کیا تھا۔

پریڈز اور بڑے عوامی اجتماعات کے دوران ان کا موازنہ سنہالہ بدھسٹ بادشاہوں سے کیا جاتا تھا۔

سیاسی تجزیہ کار کسال پریرا کا کہنا تھا کہ ’وہ سری لنکا میں آزادی کے بعد سے مقبول ترین سنہالہ بدھسٹ رہنما تھے۔ کچھ افراد انھیں ’حکمران مہندا‘ کہتے تھے۔‘

سنہ 2017 میں اپنی کتاب ’راجا پکشے: دی سنہالا سیلفی‘ میں پریرا بتاتے ہیں کہ راجاپکشے خاندان نے جزیرے کی سیاست میں کیا کردار ادا کیا اور یہ کہ مہندا نے کس طرح خود کو اقتدار میں لانے کے لیے تیار کیا۔

ان کے والد بھی رکنِ پارلیمان تھے اور مہندا نے وقت کے ساتھ ترقی کی اور پہلے بطور رہنما حزبِ اختلاف کے ہوتے ہوئے سنہ 2004 میں وزیرِاعظم منتخب ہوئے۔

ایک برس بعد جب وہ صدر بنے تو انھوں نے گوٹابایا کو سیکریٹری دفاع لگایا۔ یہ سابق سری لنکن فوجی افسر کے کریئر میں ایک بڑی پیش رفت تھی جو اس وقت امریکہ میں ریٹائرمنٹ کے بعد خاموش زندگی گزار رہے تھے۔

گوٹابایا اپنے بھائی کی انتخابی کے لیے وطن لوٹے اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی بلندیاں چھونے لگے، انھیں ایک سنگدل رہنما کے طور پر جانا جاتا تھا۔

راجا پکشے

،تصویر کا ذریعہAFP

جلد ہی ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی حکومت کا حصہ بننے لگے۔ وہ مہندا ہی تھے جنھوں نے راجاپکشے خاندان کو سری لنکا میں سیاسی راج کا حصہ بنایا۔

اس سال ہونے والے غیرمعمولی مظاہروں تک دونوں بھائی ایک ساتھ کھڑے رہے۔ تاہم ان کے درمیان دراڑیں اس وقت پڑیں جب گوٹابایا نے مہندا سے درخواست کی کہ وہ مظاہرین کا مطالبہ مانتے ہوئے مستعفی ہو جائیں۔

یہ مطالبہ ایک ایسے شخص کے لیے ایک دھچکے کا باعث تھا جس نے اپنے چھوٹے بھائی کو اقتدار میں لانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور وہ اپنے سیاسی کریئر کا اختتام ایسے نہیں کرنا چاہتے تھے۔

پریرا کا کہنا تھا کہ ’انھیں دیوار سے لگایا گیا اور انھیں ایک بڑے مظاہرے کے دوران اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کی عمر اب ان کی واپسی میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو گی۔‘

مہندا کے سب سے بڑے بیٹے تردید کرتے ہیں کہ ان کے بھائیوں کے درمیان کوئی تنازعہ تھا۔

انھوں نے مہندا کے استعفے سے ایک ہفتہ قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ صدر اور وزیرِاعظم کے درمیان پالیسی اختلاف موجود ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ان کے والد نے ہمیشہ کسانوں اور غریبوں کی حمایت کی ہے جبکہ گوٹابایا کا مختلف نقطہ نظر تھا اور ’وہ اپنے پکے ووٹرز کی بجائے ایسے ووٹرز پر توجہ مرکوز رکھتے جو حکمران جماعت کو ووٹ نہیں دیتے تھے۔‘

گوٹابایا راجا پکشے نے اطلاعات کے مطابق اپنے قریبی حلقوں میں یہ بات کی تھی کہ وہ دوسرے دورِ اقتدار کے حامی نہیں تھے لیکن انھیں امید تھی کہ وہ موجودہ معاشی بحران سے ملک کو نکالنے کی کوشش کریں گے۔

مظاہرین

،تصویر کا ذریعہReuters

تاہم اس خاندان کو سری لنکا میں لوگ موجود معاشی بحران کی واحد وجہ سمجھتے ہیں اور خاندان کے بارے میں شدید غصے کے باعث ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔

راجاپکشے خاندان سنہالا کمیونٹی میں بہت زیادہ مقبول تھا حالانکہ ان پر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام تھا۔

ان پر میڈیا کے خلاف ہلاکت خیز حملوں کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ تاہم کچھ ہی سنہالیوں نے اس بااثر خاندان کے خلاف بات کرنے کی جسارت کی تھی۔

تاہم اب کہانی بہت مختلف ہے کیونکہ موجودہ معاشی بحران نے سری لنکا کی متعدد برادریوں کو متحد کر دیا ہے اور سنہالی مظاہرین کی جانب سے اقلیتی برادری کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایک انسانی حقوق کے وکیل بھوانی فونسیکا کا کہنا ہے کہ ’معاشی بحران کے باعث برادری کی اکثریت کو نقصان پہنچا جس کے بعد اکثر افراد کا مؤقف بدل گیا۔

’میرے خیال میں راجا پکشے خاندان جو دہائیوں سے بہت کچھ کر کے بھی بری الذمہ ہو جاتا تھا، انھیں بھی غصے کی یہ شدت دیکھ کر حیرت ہوئی۔‘

کولمبو کے رہائشی چندانی مانیل کا کہنا ہے کہ ’چاہے جو بھی اس ملک کو چلائے، ہماری بنیادی ضروریات پوری ہونی چاہییں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے دو بچے ہیں اور مجھے ایک پورے خاندان کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔ سیاست دان اپنی دولت کے بل بوتے پر گزارا کر سکتے ہیں لیکن ہم نہیں۔‘