محمد زبیر: ایک ٹویٹ جو فیکٹ چیکر کی گرفتاری کا بہانہ بن گئی

محمد زبیر

،تصویر کا ذریعہTwitter/@zoo_bear

،تصویر کا کیپشنمحمد زبیر حکومت پر کھل کر تنقید کرتے تھے
    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی

جمعہ 8 جولائی کو سپریم کورٹ نے محمد زبیر کے خلاف درج ایک مقدمے کے سلسلے میں انھیں جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بارے میں سننے کے بعد انھیں پانچ روز کی عبوری ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا ہے۔

تاہم 39 برس کے محمد زبیر اس وقت تک پولیس کی تحویل میں رہیں گے جب تک ان کی اصل کیس میں ضمانت نہیں ہو جاتی، جس کے لیے دلی پولیس نے انھیں گرفتار کیا تھا۔

محمد زبیر نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ انھیں ان کے کام اور مسلمان ہونے کے ناتے گرفتار کیا گیا ہے۔

جمعے کو سپریم کورٹ میں ان کے وکیل کولِن گونسالوز نے بی بی سی کو بتایا کہ زبیر کے خلاف کوئی کیس نہیں اور ’حکومت کو اس لیے کھٹکتے ہیں کہ وہ نفرت آمیز جرائم سے تن تنہا لڑ رہے ہیں۔‘

گزشہ 10 روز کے دوران انڈیا کے سرکردہ فیکٹ چیکر (گمراہ کن خبروں کا بھانڈا پھوڑنے والے) اور صحافی محمد زبیر کا، جنھوں نے حال ہی میں لوگوں کی توجہ حکمراں جماعت بی جے پی کی ترجمان نُپور شرما کے پیغمرِ اسلام کے بارے میں ایک متنازع بیان کی جانب دلائی تھی، زیادہ وقت جیلوں اور عدالتوں کے درمیان چکر لگاتے گزرا ہے۔

محمد زبیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمحمد زبیر کو مبینہ قابل اعتراض ٹویٹ کے مقدمے میں دلی کی ایک عدالت میں پیشی کے لیے لے جایا جا رہا ہے

گرفتاری کے بعد سے پولیس انھیں دلی کی ایک عدالت سے دوسری میں لے جاتی رہی ہے اور جب ان کے خلاف نئے الزامات لگائے گئے تو انھیں انڈیا-نیپال کی سرحد پر واقعے ایک قصبے میں تفتیش کے لیے لے جایا گیا۔

دلی پولیس نے انھیں 27 جون کو ایک ایسی ٹویٹ کے الزام میں گرفتار کیا تھا جو 2018 میں کی گئی تھی اور حکام کے مطابق اس سے ’ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مجروح‘ ہوئے تھے۔ بعد میں ان پر مزید الزامات بھی لگا دیے گئے جن میں مجرمانہ سازش، شہادتیں ضائع کرنا اور غیر ملکی فنڈز کا حصول شامل ہیں۔

چند روز بعد اتر پردیش کی پولیس نے انھیں اپنی تحویل میں لے لیا جہاں ان پر تین ہندو مذہبی لیڈروں کے بارے میں ’توہین آمیز زبان - نفرت پھیلانے والے‘ کا الزام درج تھا۔ یہ ہندو لیڈر ایک ویڈیو میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان دیتے ہوئے اور مسلمان عورت کو ریپ کی دھمکی دیتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

زبیر ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئر ہیں جن کا تعلق بنگلور سے ہے۔ سنہ 2017 میں انھوں نے سافٹ وییر انجنیئر پرتِک سِنہا کے ساتھ مل کر آلٹ نیوز ویب سائٹ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد جھوٹی اور گمراہ کن خبروں کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھ کر ان کا بھانڈا پھوڑنا تھا۔

پچھلے پانچ سالوں کے دوران اس ویب سائٹ نے کئی ایسے دعووں کی قلعی کھولی جن کا مقصد مذہب اور ذات پات کے بارے میں گمراہ کن اور غیر سائنسی حقائق کو فروغ دینا تھا۔

آلٹ 2017 میں اپنے آغاز سے ہی حکومت کے نشانے پر رہی ہے۔ اس میں 3,000 سے زیادہ آرٹیکل شائع ہوئے ہیں جنھیں 60 ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ ان میں ان ویڈیوز اور پیغامات کی حقیقت کو سامنے لایا گیا ہے جن میں خاص طور سے انڈیا کی مسلم اکثریت کا ہدف بنایا گیا تھا۔

زبیر سوشل میڈیا اور ٹی ویژن پر نشر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز کی حقیقت تک پہنچنے کے ماہر ہیں۔

حال ہی میں انھوں نے ’ان ہیٹ‘ کے نام سے ایک پراجیکٹ شروع کیا تھا جس کا مقصد نفرت پھیلانے والے بیانات کی دستاویزبندی ہے۔

بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما

،تصویر کا ذریعہTwitter/Nupur Sharma

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما نے گزشتہ ماہ ٹی وی پر ایک مباحثے کے دوران توہین آمیز زبان استعمال کی تھی

زبیر ٹویٹر پر نہایت سرگرم ہیں جہاں ان کے پانچ لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ انھیں خود کو ہندو قوم پرست کہلانے والے ٹویٹر اکاؤنٹس کی جانب سے ٹرولنگ اور گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ زبیر کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے الزام کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ زبیر اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

حزب اختلاف، صحافیوں اور ایکیٹیوسٹ نے انھیں گرفتار کرنے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انھیں ایسے وقت گرفتار کیا گیا ہے جب انھوں نے حکمراں جماعت بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کے مئی کے اواخر میں پیغمر اسلام سے متعلق ایک توہین آمیز بیان کو اجاگر کیا تھا۔

اس بیان پر کئی مسلم ملکوں کی جانب سے بھارت سے شدید احتجاج کیا گیا تھا اور انڈین مسلمانوں نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔

جب احتجاج میں شدت آئی تو حکومت نے نوپور شرما کو برطرف کر دیا جس کے بعد وہ روپوش ہوگئیں اور پولیس نے کہا کہ ان کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

Journalists hold placards as they attend a protest against the communication blockade by Indian government in Srinagar on October 03, 2019

،تصویر کا ذریعہNurPhoto

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم مودی کے ناقدین ان پر حریت اظہار کو دبانے کا الزام لگاتے ہیں

اس کے بعد ان کے حامیوں نے محمد زبیر کی گرفتاری کا مطالبہ شروع کر دیا کیونکہ بقول ان کے زبیر نے نوپور پر ’نفرت پھیلانے کا الزام‘ لگایا تھا اور اس کے نتیجے میں انھیں ٹویٹر پر ’ریپ اور جان سے مارنے‘ کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔

ٹویٹر پر #arrestzubair ٹرینڈ کرنے لگا اور ٹھیک ایک ماہ بعد دلی پولیس نے زبیر کو ان کی ایک پوسٹ کے سلسلے میں سوال جواب کے لیے تھانے بلایا۔

مگر انھیں ان کی ایک چار برس پہلے کی گئی پوسٹ کے الزام میں گرفتار کر لیا، جس کے لیے انھیں نہ وارنٹ دیا گیا اور نہ ہی ایف آئی آر کی کاپی۔ اس پوسٹ کے خلاف شکایت نا معلوم ٹویٹر اکاؤنٹ سے کی گئی تھی۔ یہ اکاؤنٹ اکتوبر 2021 میں بنایا گیا تھا اور اس وقت اس کا صرف ایک فالوور تھا۔

زبیر کو جس پوسٹ کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے وہ دراصل 1983 کی ایک مزاحیہ بالی وڈ فلم کا سین ہے جس میں ہوٹل کے نام کی تختی پر ’ہنی مون ہوٹل‘ کو ’ہنومان ہوٹل‘ کر دیا گیا تھا۔ زبیر کے خلاف شکایت کرنے والے نا معلوم ٹویٹر اکاونٹ کے مطابق اس پوسٹ سے ’ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس‘ پہنچی ہے۔