آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کیا انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاست سے پاکستانی فیکٹر ختم ہو گیا ہے؟

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمبصرین کے مطابق آرٹیکل 370 کے خاتمے پر پاکستانی کی مایوس کن خاموشی نے کشمیریوں کے رویے کو تبدیل کیا ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس، سری نگر

تین دہائیوں سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی ہند نواز جماعتیں الیکشن مہم میں انڈیا اور پاکستان کی دوستی اور مسئلہ کشمیر پر مزاکرات کے نعروں پر انتخابات لڑتی آئی ہیں۔ گذشتہ چار سال سے کشمیر پر براہِ راست دلی کی حکومت ہے لیکن جمعرات کو حکام نے ووٹر لِسٹ مرتب کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ اس سال کے آخر یا اگلے سال کے آغاز میں یہاں الیکشن ہوں گے اور ایک منتخب حکومت وجود میں آئے گی۔

یہ انتخابات تین سال قبل کشمیر کی اندرونی خود مختاری کے خاتمے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پس منظر میں ہو رہے ہیں۔ کئی پہلووٴں سے یہ انتخابات انوکھے ہوں گے۔

لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ ان پہلووٴں میں سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ کشمیر کے سیاسی بیانیے سے پاکستانی فیکٹر اب ختم ہو چکا ہے اور لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے سیاست دان اندرونی خود مختاری کے خاتمے کو ہی اپنا نیا نعرہ بنائیں گے۔

پاکستانی فیکٹر کیوں ختم ہوا؟

جموں میں مقیم صحافی اور تجزیہ کار تَرُون اُپادھیائے کہتے ہیں ، ’یہ انتخابات دفعہ 370 ہٹنے کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس نئی تبدیلی کو نہ صرف کشمیری سیاستدانوں نے بلکہ پاکستان نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے کوئی اہمیت رکھتا تو سرحدوں پر خاموشی نہیں ہوتی، سیز فائر نہیں ہوتا۔‘

لائن آف کنٹرول کی آخری چوکیوں کے قریب کھیتی ہوتی ہے اور وہاں موجود مقدس مزاروں پر لوگ حاضری دیتے ہیں۔ تَرُون کا کہنا ہے کہ انڈیا پاکستان کے ساتھ ٹکراوٴ کی پالیسی رکھے یا محتاط دوستی کی، لیکن بی جے پی کی حکومت اس پالیسی کو کشمیری سیاست کا مدعا نہیں بننے دے گی۔

’اب کشمیری سیاستدانوں کے پاس پاکستان کا کارڈ نہیں رہا، اب وہ دفعہ 370 کے اِرد گرد ہی سیاست کریں گے۔‘

واضح رہے سنہ 1950 کی دہائی کے آغاز میں جموں کشمیر کی ’نیم خودمختاری‘ کو انڈین آئین کی دفعہ 370 کے تحت تسلیم کیا گیا تھا جس کی رُو سے جموں کشمیر کا اپنا علیحدہ آئین اور علیحدہ پرچم تھا جو انڈین پرچم کے ہمراہ سرکاری عمارات اور گاڑیوں پر ہوتا تھا۔ لیکن 5 اگست 2019 کو انڈیا کی پارلیمنٹ میں وزیرداخلہ امیت شاہ نے آئین کی اسی دفعہ کو ختم کرنے اور ریاست کو دو الگ الگ مرکزی انتظام والے علاقوں میں تقسیم کرنے کا بل پیش کیا جو اکثریتی رائے سے منظور ہو گیا۔ اب جموں کشمیر علٰیحدہ اور لداخ علیحدہ خطہ ہے اور دونوں پر دلّی کا براہ راست کنٹرول ہے۔

کشمیر میں مقیم اکثر مبصرین تُرون اُپادھیائے کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ کشمیری صحافی اور مبصر عاشق پیرزادہ کہتے ہیں ’پہلے پاکستان اور ڈائیلاگ کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن اب کشمیریوں کا سیاسی بیانیہ دفعہ 370 سے متعلق ہو گا۔ کچھ لوگ یہاں اسے تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر آگے بڑھنے کا اعلان کریں گے اور کچھ لوگ اس کو دوبارہ حاصل کرنے کا وعدہ کریں گے۔‘

تُرون اُپادھیائے کہتے ہیں کہ کشمیر کے انتخابات میں تعمیر و ترقی اور روزگار جموں اور کشمیر کے سیاستدانوں کے مشترکہ نعرے ہوتے تھے۔ ’لیکن اب جموں میں ہندوٴوں کو بتایا جائے گا کہ نریندر مودی نے اٹانومی کو ختم کر کے دکھا دیا اور کشمیری کہیں گے کہ ہمیں ووٹ دو ہم اسے واپس لائیں گے۔‘

ترن اوپادھائے
،تصویر کا کیپشناب کشمیری سیاستدانوں کے پاس پاکستان کا کارڈ نہیں رہا، اب وہ دفعہ 370 کے اِرد گرد ہی سیاست کریں گے: ترون اوپادھائے

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ کشمیر کی سیاست سے پاکستانی فیکٹر اُسی روز ختم کر دیا گیا تھا جب سنہ 2015 میں کشمیر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران اُس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سید نے وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں پرُامن انتخابات کے لیے پاکستان کو کریڈٹ دے دیا اور وزیراعظم سے گزارش کی کہ پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جائے۔

صحافی ہارون قریشی کہتے ہیں ’جب مفتی سید نے تقریر ختم کی تو نریندر مودی نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ کشمیر کے معاملے میں انہیں دنیا میں کسی کی تجویز یا مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ کشمیر کی سیاست میں پاکستانی فیکٹر کا خاتمہ اُسی دن ہوا تھا۔‘

تاہم جموں کے معروف انگریزی روزنامہ ’کشمیر ٹائمز‘ کی مدیر اور تجزیہ نگار انورادھا بھسین کہتی ہیں کہ پاکستانی فیکٹر کا ختم ہونا ایک وقتی تبدیلی ہے۔ ’میں نہیں سمجھتی کہ بات چیت اور انڈیا پاکستان دوستی جیسے نعروں کی سیاسی اہمیت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ سب اب نہیں چل پائے گا کیونکہ کوئی بھی پاکستان کا نام لے تو اُسے وطن دشمن کہا جاتا ہے۔ اسی لیے پاکستانی فیکٹر نے فی الحال بیک سیٹ لے لی ہے۔‘

تاہم انہیں خدشہ ہے کہ ہندو اکثریتی جموں اور مسلم اکثریتی کشمیر کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ ’لوگ یہاں بی جے پی خاص طور پر نریندر مودی کو بہت پسند کرتے ہیں اور بی جے پی نے ہمیشہ کشمیر میں جموں کا وزیراعلیٰ اور ہندو وزیراعلیٰ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے کشیدگی کا خطرہ ہے۔‘

ماجد حیدری
،تصویر کا کیپشنٹی وی ڈِبیٹر اور صحافی ماجِد حیدری کے مطابق کشمیر کی ہند نواز سیاسی جماعتوں کی نئی دلیّ کے ساتھ خفیہ انڈرسٹینڈنگ ہے جس کے تحت وہ اقتدار میں اپنا حصہ چاہتے ہیں

دفعہ 370 کے نعرے میں کتنا دم ہے؟

اس سوال پر مبصرین الگ الگ رائے رکھتے ہیں۔ ٹی وی ڈِبیٹر اور صحافی ماجِد حیدری کے مطابق کشمیر کی ہند نواز سیاسی جماعتوں کی نئی دلیّ کے ساتھ خفیہ انڈرسٹینڈنگ ہے جس کے تحت وہ اقتدار میں اپنا حصہ چاہتے ہیں۔ ’یہ معاملہ (370) ایک قانونی عمل سے گزر رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں وکلا حضرات پیش ہوتے ہیں، اس میں کئی سال یا کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اور یہاں کے سیاستدان ڈرامہ کر کے لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔‘

لیکن اگر مودی حکومت اپنے کئی فیصلوں سے عوامی دباوٴ کے تحت رجوع بھی کر چکی ہے تو دفعہ 370 کی بحالی کیوں ممکن نہیں؟

اس کے جواب میں ماجد حیدری کہتے ہیں ’شمالی ہندوستان کے کسانوں نے ایک سال تک احتجاج کیا اور مودی کو مجبور کر دیا کہ قوانین واپس لیے جائیں۔ یہاں ان لوگوں نے کیا کیا؟ کیا یہ ایسی کوئی تحریک چلا پائے؟ یہ تو میٹنگوں میں چائے پانی پر صرف شکایت کرتے رہے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ اسی لئے یہ نعرہ نہیں چلے گا، اس میں دم نہیں ہے۔‘

بعض سیاسی جماعتیں بھی ان ہی خطوط پر سیاست کرنے لگی ہیں۔ سنہ 2019 میں تشکیل پانے والی نئی سیاسی جماعت ’جموں کشمیر اپنی پارٹی‘ کے سربراہ الطاف بخاری نے گذشتہ ہفتے ایک عوامی ریلی سے خطاب کے دوران کہا ’میں لوگوں کو جھوٹے وعدے کر کے خواب دکھا کے بہکانا نہیں چاہتا۔ یہ سب ہو چکا ہے اور معاملہ عدالت میں ہے، لیکن تب تک لوگوں کے مسائل ہیں اُن کو حل کرنا ضروری ہے۔‘

صحافی عاشق پیرزادہ کا نکتہ نظر کچھ الگ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دفعہ 370 کی بحالی چاہنے والی سیاسی جماعتوں کو اسمبلی میں اکثریت ملی تو حالات بدل سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’سپریم کورٹ یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ جاوٴ اسمبلی میں اس پر بحث کرو، وہاں اکثریتی رائے سے جو فیصلہ ہو گا ہم اُس پر غور کریں گے۔ اور پھر یہ معاملہ محض سیاست کا نہیں بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کا بھی ہے۔ کشمیر پر واشنگٹن، بیجنگ اور کئی بڑی طاقتوں کی بھی نظر ہے۔‘

پیرزادہ عاشق
،تصویر کا کیپشنصحافی عاشق پیرزادہ کہتے ہیں کہ اگر دفعہ 370 کی بحالی چاہنے والی سیاسی جماعتوں کو اسمبلی میں اکثریت ملی تو حالات بدل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شاید اسی اُمید سے کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت کئی دیگر رہنماوں پر مشتمل نئے سیاسی اتحاد نے الیکشن سے قبل ہی ایک ’وائٹ پیپر‘ جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کا قومی نشان اشوک چکر ہے، اور اس پر لکھا ہے کہ صرف سچ کی جیت ہوتی ہے۔ اس نشان کو باقاعدہ آئین میں تسلیم کیا گیا ہے۔ ہم اسی سچ کی بحالی چاہتے ہیں کیونکہ سنہ 2019 میں آئین کے اسی تقدس کو جھوٹ سے روندا گیا۔‘

141 صفحات پر مشتمل اس کتابچہ میں دفعہ 370 کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے اور اپیل کی گئی ہے کہ اسے بحال کیا جائے۔

فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس، محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور محمد یوسف تاریگامی کی کمیونسٹ پارٹ آف انڈیا جیسی سیاسی تنظمیوں پر مشتمل ’پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلیریشن‘ یا پیگڈی نے یہ وائٹ پیر گذشتہ دنوں جاری کیا۔ لیکن پیگڈی نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں گے یا نہیں۔

اس اتحاد کے ترجمان محمد یوسف تاریگامی نے بی بی سی کو بتایا ’ہماری جدوجہد جاری رہے گی، اسمبلی کے اندر بھی اور اسمبلی کے باہر بھی۔ موقع کتنا ہی محدود کیوں نہ ہو ہم اپنا حق واپس مانگنے کے لیے کوئی موقع نہیں چھوڑیں گے۔‘

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’لوگ کہتے ہیں جو بھی سامنے ہو اُس کو ووٹ دیں گے تو کم از کم سِول حکومت بن جائے گی‘

’یہ تو ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی حکومت ہے‘

گذشتہ چار سال سے کشمیر میں افسر شاہی کی حکومت پر جموں اور کشمیر دونوں خطوں میں غصہ پایا جا رہا ہے۔ جموں کے تَرون اُپادھیائے کہتے ہیں ’یہ تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ہے، ایک گورنر، ایک مشیر اور چند افسران جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔‘

کشمیری صحافی ماجِد حیدری کہتے ہیں کہ دفعہ 370 ہٹانے کے بعد مودی حکومت کے پاس موقع تھا کہ وہ شفاف انتظامیہ اور روزگار کے مواقع دے کر کشمیریوں کو اپناتی۔'' وسائل تو مودی نے خوب دیے لیکن یہاں وائسرائے شِپ چل رہی ہے۔‘

’زمین پر کچھ نہیں ہوا پچھلے چار سال میں۔ اب یہاں اتنی خرابی ہوئی ہے کہ لوگ کہتے ہیں جو بھی سامنے ہو اُس کو ووٹ دیں گے تو کم از کم سِول حکومت بن جائے گی۔‘