انڈیا اور چین سستا تیل خرید کر روس کی کیسے مدد کر رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس نے اپنی تیل اور گیس کی مضبوط صنعت کے لیے نئے گاہک تلاش کیے ہیں جو اسے مغربی ممالک کی جانب سے عائد سخت اقتصادی پابندیوں کے اثرات کم کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
یوکرین پر حملے کے بعد سے سعودی عرب کی جگہ روس، چین کو تیل فراہم کرنے والا اہم ملک بن گیا ہے۔
روس نے مبینہ طور پر چین کو رعایتی قیمت پر تیل اور گیس دینے کی پیشکش کی۔ روس یوکرین پر حملے کے باعث عالمی منڈی میں تیل و گیس فروخت نہیں کر سکتا لہٰذا اس سے ماسکو ایک ایسی منڈی تلاش کر رہا ہے جہاں وہ پابندیوں کے باوجود اپنے تیل و گیس کی فروخت کر سکے۔
اس سلسلے میں اس نے انڈیا سے بھی رابطہ کیا ہے۔ یوکرین پر حملے سے پہلے صرف ایک فیصد روسی تیل وہاں برآمد کیا جاتا تھا جبکہ رواں برس مئی میں یہ 18 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ روس کی تیل اور گیس کی برآمدات سے ہونے والی آمدنی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، توانائی کے شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی دیگر چیزوں کے علاوہ، یوکرین پر حملہ کرنے والی فوجی کوششوں کی مالی اعانت کے لیے اب بھی کافی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
رعایتی قیمت پر تیل
چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق، چین کو روسی خام تیل کی درآمدات، بشمول ایسٹ سائبیرین پیسفک اوشن پائپ لائن کے ذریعے آنے والی سپلائی گذشتہ ماہ 8.42 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں روس کا چین کو تیل فراہم کرنے میں 55 فیصد کا اضافہ ہوا، جو مئی کے مہینے میں ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سلسلے میں چینی کمپنیوں کو روس سے کافی رعایت ملی ہے، کیونکہ یورپ اور امریکہ کے خریداروں نے یوکرین پر حملے کے بعد روسی تیل اور گیس کو ترک کرنا شروع کر دیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں روس نے 7.82 ملین ٹن حجم کے ساتھ چین کو تیل فراہم کرنے والے ممالک میں سعودی عرب کو دوسرے نمبر پر چھوڑ دیا ہے۔
لیکن روس وہ واحد ملک نہیں ہے جس سے چین پابندیوں کے باوجود تیل خرید رہا ہے۔ پیر کو شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، بیجنگ نے گذشتہ ماہ ایران سے 260,000 ٹن خام تیل خریدا، جو دسمبر کے بعد سے اس طرح کی تیسری خریداری ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
قانونی خامیوں کا فائدہ
گذشتہ ہفتے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، روس پر پابندیوں کے نفاذ کے آغاز کے بعد سے ہائیڈرو کاربن کی فروخت میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم اس رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ ماسکو نے کوئی قانونی خامیاں تلاش کر لی ہے تاکہ وہ اپنی برآمدات جاری رکھ سکے۔
ان میں سے ایک یہ ہو سکتی ہے کہ وہ کسی تیسرے ملک جیسا کہ انڈیا کو خام تیل فراہم کرے تاکہ وہاں اسے صاف کیا جائے اور پھر وہ وہاں سے صاف تیل یورپی ممالک کو بھیجنے کے قابل ہو جائے۔ چین کی سرکاری تیل کی کمپنیوں سائنوپک اور ژینہوا آئل نے حالیہ مہینوں میں اپنی خام تیل کی خریداری میں واضح اضافہ کیا ہے۔
بی بی سی کے بزنس نامہ نگار تھیو لیگیٹ کہتے ہیں کہ 'رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ روسی تیل انڈیا کو ریفائننگ کے لیے برآمد کیا جا رہا ہے اور اس میں سے زیادہ تر ریفائنڈ تیل یورپی منڈیوں میں پہنچ جاتا ہے۔'
'جیسا کہ ماسکو نئی منڈیوں کی تلاش میں ہے اور روسی تیل پائپ لائینوں سے بحری جہازوں منتقل ہو رہا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر بحری جہاز یورپی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'روس پر دباؤ برقرار رہے اور یہ دباؤ مفید بھی ہو، اس کے لیے حل نکالنا ہو گا۔'
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہReuters
یورپی ممالک کی مشکل
یورپی یونین آج بھی روسی تیل اور گیس کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یوکرین کی جنگ کے پہلے 100 دنوں کے دوران روس کو توانائی کی برآمدات میں حاصل ہونے والے 97 بلین ڈالر میں سے 59 بلین ڈالر یورپی یونین سے آئے تھے۔
مگر یورپ کے لیے روس سے ہائیڈرو کاربن کی خریداری پر مکمل پابندی لگانے کے معاہدے پر پہنچنا ناممکن ہو گیا ہے۔ یورپی یونین رواں برس کے اختتام سے قبل سمندری راستے سے آنے والے روسی تیل کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے درآمدات میں 60 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہو گی۔
اس کے علاوہ، مارچ میں، یورپی برادری نے ایک سال کی مدت کے دوران روسی گیس کی درآمدات کو کم از کم دو تہائی کم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
اس سلسلے میں امریکہ نے روس سے تیل، گیس اور کوئلے کی خریداری پر مکمل پابندی کا حکم دیا ہے، اور توقع ہے کہ برطانیہ 2022 کے اختتام سے پہلے ایسا ہی کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
بی بی سی کے عالمی کاروبار کی نامہ نگار دھرشینی ڈیوڈ کہتی ہیں کہ 'ایندھن کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں دیکھ کر صرف ڈرائیور ہی نہیں ہے جو سستا تیل دیکھتے ہی قطار میں لگ جاتے ہیں۔'
دھرشینی ڈیوڈ کہتی ہیں کہ انڈیا اور چین روس کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے ہیں۔ لیکن وہ خبردار بھی کرتی ہیں کہ یورپی پابندیوں کے نافذ العمل ہونے اور دوسرے سپلائرز کو منتقلی کے باعث، روسی برآمدات کا اچھا وقت صرف تھوڑی دیر ہی قائم رہے گا۔
وہ کہتی ہیں کہ 'روس کی تیل کی آمدنی میں پہلے ہی کمی آنا شروع ہو گئی ہے، اور اس میں شدت آئے گی کیونکہ دوسرے ممالک توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔'












