کیا انڈیا امریکہ کو ناراض کر کے روس کے بعد ایران سے بھی سستا تیل خریدے گا؟

،تصویر کا ذریعہ@NARENDRAMODI
- مصنف, اننت پرکاش
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ اس وقت تین روزہ دورے پر انڈیا میں موجود ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب انڈین حکومت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو ترجمانوں کے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ بیان کی وجہ سے مسلم ممالک کی ناراضگی کا سامنا ہے۔
تاہم بی جے پی نے اپنے دونوں ترجمانوں کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔
ایران نے اس معاملے پر انڈین سفیر کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ ایسے میں ایرانی وزیر خارجہ کے دورۂ انڈیا کو بڑی اہمیت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی مسائل اور بین الاقوامی امور پر باہمی تعاون کو بڑھانے کے لیے سٹریٹجک بات چیت کرنا ہے۔
انڈیا کے وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ دورہ ہمارے تاریخی تعلقات اور شراکت داری کو مزید فروغ دے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کیا انڈیا موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی پابندیوں میں جکڑے ایران سے سستا تیل خریدنے کا خواہش مند ہے؟ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس دورے کے دوران ایران سے تیل خریدنے کے معاملے پر کوئی ٹھوس فیصلہ کیا جائے گا۔
2019 سے پہلے ایران انڈیا کو تیل فراہم کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک تھا۔ ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد انڈیا نے ایران سے تیل خریدنا بند کر دیا تھا۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ تناؤ میں انڈیا اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان تیل کی خریداری کے معاملے پر کوئی موثر بات چیت ہوسکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی جے پی کا متنازع بیان اور ایرانی وزیر خارجہ کے دورے پر خدشات
بی جے پی کی قومی سطح کی ترجمان نوپور شرما نے 26 مئی کو ایک ٹی وی پروگرام کے دوران پیغمبر اسلام کے بارے میں ایک متنازع بیان دیا تھا۔ جس پر ایک درجن سے زائد اسلامی ممالک نے اعتراض اٹھاتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور قطر نے انڈیا سے معافی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس تنازعے کا اثر ایرانی وزیر خارجہ کے دورۂ انڈیا پر پڑ سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر قمر آغا کا اس بارے میں کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان سے پیدا ہونے والی صورتحال میں ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ انڈیا بہت اہم ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ مشرق وسطیٰ میں ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ اخبارات سے لے کر لیڈروں تک یہ مسئلہ اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن ایران ایک دوست ملک ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران اس معاملے پر جو بھی کہتا ہے، اسے سنا جائے کیونکہ یہ براہ راست ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے ہو گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ایران کے وزیر خارجہ اپنا موقف پیش کریں گے اور انڈین حکومت اپنا موقف سامنے رکھے گی جس کے بعد بات چیت دیگر امور کی طرف بڑھے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا انڈیا کو سستا تیل ملے گا؟
ایرانی وزیر خارجہ کے دورۂ انڈیا کو دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کے حوالے سے بھی بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
انڈیا کی معیشت اس وقت انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بعد سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ توڑ رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے انڈیا میں پیٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں سامان کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی کی سطح بھی بڑھ رہی ہے۔
ان تمام مسائل کا حل کم قیمت پر تیل کی خریداری کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ایران اس مشکل میں انڈیا کی مدد کرسکتا ہے۔
لیکن ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے انڈیا 2019 سے ایرانی تیل درآمد کرنے کے قابل نہیں ہے۔ حالیہ روس یوکرین جنگ کے دوران انڈیا نے مغربی ممالک کے دباؤ کے باوجود روس سے تیل خریدا ہے۔
جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انڈیا ایران کے معاملے میں بھی امریکی پابندیوں کو نظر انداز کر سکتا ہے۔
ان امکانات پر قمر آغا کا کہنا ہے کہ ’یوکرین کی جنگ نے صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے، جس طرح سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، پوری دنیا کی اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے۔
انڈیا سمیت پوری دنیا میں بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے۔ حالات بہت خراب ہیں۔ ایسے میں انڈیا کو جہاں بھی اپنی معیشت کو سنبھالنے کا موقع ملے گا، وہ وہاں سے اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا ایران سے تیل خریدنے پر دوبارہ غور کر سکتا ہے۔ ایران کا تیل بھی انڈیا کو سستے داموں دستیاب ہے۔‘
اگر انڈیا کو اپنی اقتصادی ترقی کی شرح چھ سے آٹھ فیصد برقرار رکھنا ہے تو اسے سستے نرخوں پر تیل کی فراہمی کسی رکاوٹ کے بغیر کرنی چاہیے۔ اگر خام تیل کی قیمت میں فی بیرل ایک ڈالر کا بھی اضافہ ہوتا ہے تو اس سے انڈیا کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
ایران کے جغرافیائی محل وقوع پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ ایران سے تیل خریدنا اور ملک میں درآمد کرنا انڈیا کے لیے کتنا آسان ہے۔
یہ بھی پڑھیے
قمر آغا اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایرانی تیل سستے داموں دستیاب ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں، پہلی وجہ یہ ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک میں ایران جغرافیائی طور پر انڈیا کے سب سے قریب واقع ہے، جس کے باعث ایران سے تیل برآمد کرنے میں لاگت کم آتی ہے۔
جبکہ انڈیا میں ایرانی تیل کو مدنظر رکھتے ہوئے تین ریفائنریز بھی بنائی گئی ہیں۔‘
انڈیا اور ایران کے درمیان تجارت بارٹر میکنزم کے تحت ہوتی تھی۔ اس کے تحت انڈین ریفائنری کمپنیاں ایران کو انڈین کرنسی میں ادائیگی کرتی تھیں۔
اور ایران اس انڈین کرنسی کو ملک سے سامان درآمد کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اس کی وجہ سے ایران انڈیا کے لیے تیل کی خریداری کے معاملے میں سب سے بڑا برآمد کنندہ بن کر ابھرا تھا۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر تیل خریدنے کا معاہدہ ہوتا ہے تو اس بارٹر سسٹم کو ایک بار پھر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی پریشانی
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انڈین حکومت امریکی ناراضگی کا خطرہ مول لے کر اس سمت میں قدم اٹھا سکتی ہے؟ روس کے معاملے میں انڈیا نے امریکہ اور مغرب کے دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے روسی تیل خریدنا جاری رکھا تھا۔
انڈیا میں پیٹرولیم مصنوعات کے ماہر نریندر تنیجا کا خیال ہے کہ ایران کے معاملے میں انڈیا اس آپشن کا انتخاب نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ انڈیا اس سمت میں کوئی قدم اٹھائے گا کیونکہ روس سے تیل خریدنے پر امریکہ اور مغربی ممالک پہلے ہی انڈیا سے ناراض ہیں، ایسی صورتحال میں انڈیا امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کا انتظار کرے گا۔‘
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب روس اور یوکرین کی جنگ کے دوران انڈیا نے مغربی دباؤ کو برداشت کیا تھا تو وہ ایران سے تیل خریدنے کے معاملے میں امریکی پابندیوں کو نظر انداز کیوں نہیں کر سکتا؟
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں وسطی ایشیا اور روس کے شعبہ کے پروفیسر راجن کمار اس سوال کا جواب دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اب تک مجھے نہیں معلوم کہ انڈین حکومت نے اس بارے میں کیا قدم اٹھایا ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمیں حکومت کے موقف کے بارے میں معلومات حاصل ہوں گی۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ روس اور ایران کے معاملے میں انڈیا کے لیے صورتحال ایک سی نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ایران انڈیا کے لیے ایک خاص ملک ہے لیکن روس انڈیا کے لیے جیو پولیٹیکل اور سٹریٹجک نقطہ نظر سے بہت اہم ملک ہے۔ انڈیا دفاعی شعبے سے متعلق رسد کے لیے روس پر انحصار کرتا ہے۔ دفاعی سپلائرز کی تلاش اور تنوع کا عمل ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس وقت بھی انڈیا کا روس پر انحصار 60-70 فیصد تک ہے۔ ایسے میں روس ہمارے لیے سٹریٹجک نقطہ نظر سے ایک اہم ملک بن جاتا ہے۔‘
اس کے ساتھ جغرافیائی و سیاسی سطح پر بھی وسطی ایشیا میں روس کا خاص اثر و رسوخ ہے۔ روس کا چین پر بھی اثر و رسوخ ہے۔ انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی کے دوران روس غیر سرکاری طور پر ثالثی کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایسے میں ایران کا روس سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
کیونکہ اگر انڈیا، ایران کے معاملے میں بھی امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہے تو امریکہ یہ کہہ سکتا ہے کہ پہلے روس کے معاملے میں پابندیاں قبول نہیں کی گئیں اور اب ایران کے معاملے میں بھی امریکی پابندیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔











