باسی نان اور روٹیوں پر زندہ افغان: ’اس وقت زندگی پنجرے میں قید ایک پرندے کی طرح ہے جس کے پاس کھانا ہے نہ پانی‘

کابل میں نان فروش
،تصویر کا کیپشناب سٹالوں پر باسیوں روٹیاں اور نان زیادہ بکتے ہوئے نظر آتے ہیں
    • مصنف, سکندر کرمانی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، کابل

کابل میں نیلے گنبد والی مسجد کے سامنے مارکیٹ کے ایک سٹال پر نارنجی رنگ کے تھیلوں میں بچے ہوئے نان اور روٹیوں کے ٹکڑے بھرے پڑے ہیں۔

انھیں بیچنے والے کہتے ہیں کہ یہ عام طور پر جانوروں کو کھلائے جاتے ہیں، لیکن اب بہت زیادہ افغان خود انھیں کھانے پر مجبور ہیں۔

کابل کی پلِ خشتی مارکیٹ میں شفیع محمد گذشتہ 30 سال سے باسی روٹیاں بیچنے کا کاروبار کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے ایک دن میں پانچ کے قریب افراد اس روٹی کو خریدتے تھے اب 20 سے زیادہ لوگ خریدتے ہیں۔‘

بازار میں رش ہے اور وہاں موجود جس شخص سے بھی ہم نے بات کی وہ ملک کو درپیش معاشی مسائل کا رونا رو رہا تھا۔ گذشتہ اگست طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اوسط آمدنی ایک تہائی تک کم ہو گئی، جبکہ خوراک کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئی ہیں۔

تھیلے میں ہاتھ ڈال کر شفیع محمد نے باسی روٹیوں کے وہ نسبتاً صاف ٹکڑے نکال کر مجھے دکھائے جو لوگ کھانے کے لیے ڈھونڈتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت افغان عوام کی زندگی پنجرے میں قید ایک پرندے کی طرح ہیں جس کے پاس کھانا ہے نہ پانی۔ میں خدا سے یہ دعا مانگتا ہوں کہ میرے ملک سے یہ مصیبت اور غربت ختم ہو جائے۔‘

سڑک کنارے نان بیچنے والا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنافغان عوام کی خوراک کا بڑا حصہ نان روٹی ہے اور اب اکثر لوگ یہ بھی نہیں خرید سکتے

افغانستان میں انسانی امداد پہنچائی گئی ہے تاکہ سردیوں میں قحط کے خدشات سے بچا جا سکے، لیکن ابھی بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے۔

یہ بحران بنیادی طور پر مغربی ممالک کی طرف سے ترقیاتی امداد کو بند کرنے کے فیصلے کی وجہ سے ہوا ہے، جس پر افغانستان بہت زیادہ انحصار کرتا تھا، اور اس کے علاوہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کے مرکزی بینک کے ذخائر کو بھی منجمد کر دیا گیا تھا۔

یہ اقدام جزوی طور پر ان کے دور حکومت میں خواتین کے ساتھ سلوک پر تشویش کی وجہ سے کیے گئے تھے، اور طالبان کی طرف سے نئی سخت گیر پابندیوں نے جیسا کہ خواتین کو کیا پہننا چاہیے، مسئلے کے حل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

لیکن یہ تین بچوں کے والد حشمت اللہ جیسے غریب گھرانے ہیں جو اصل تکلیف برداشت کر رہے ہیں۔

وہ بازار میں دوسرے لوگوں کی شاپنگ اٹھانے کا کام کرتے ہیں، لیکن ان کی پہلے سے ہی معمولی آمدنی گزشتہ سال کے مقابلے میں پانچ گنا کم ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

باسی روٹی کا ایک تھیلا خریدتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میں صبح سے کام کر رہا ہوں اور بس اتنی ہی استطاعت رکھتا ہوں۔‘

باسی روٹی اکٹھی کر کے بیچنے والی ایک چھوٹی سی صنعت بن گئی ہے۔ سکریپ (کباڑ) جمع کرنے والے اسے ریستورانوں، ہسپتالوں اور لوگوں کے گھروں سے اٹھاتے ہیں اور پھر اسے مڈل مین (دلالوں) کے پاس لے جاتے ہیں، جو اسے سٹال والوں کو فروخت کرتے ہیں۔

لیکن جب تقریباً آدھا ملک بھوکا ہو، تو پھر روٹی بھی کم ہی بچتی ہے، سب کچھ کم ہے۔

Kabul scrap dealer
،تصویر کا کیپشنکباڑی ایک دن میں باسی روٹی کا ایک تھیلا جمع کیا کرتے تھے، اب انھیں خود بھی اس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے

ایک کباڑی یہ کہتے ہوئے کہ ’لوگ بھوک سے مر رہے ہیں‘، ایک ہفتے کے دوران اکٹھی کی گئی روٹیوں کی ایک بوری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں وہ روزانہ ایک بوری جمع کیا کرتے تھے۔

ایک اور کباڑی کا کہنا ہے کہ ’اگر ہمیں صاف روٹی ملتی ہے تو عام طور پر ہم اسے خود ہی کھا لیتے ہیں۔‘

کابل کے ایک غریب محلے میں اپنے گھر میں حشمت اللہ اپنے خاندان کے لیے کھانا تیار کر رہے ہیں۔

وہ بہت سے دوسرے خاندانوں کے برخلاف اپنے تین بیٹوں کو سکول میں رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ بہت سے دوسرے خاندانوں نے اپنے بچوں کو سکول سے ہٹا کر کام پر لگا دیا ہے۔

لیکن اس کا مطلب ہے باسی روٹی پر گزارہ کرنا، جسے ٹماٹروں اور پیاز کے ساتھ پکا کر نرم کر کے کھایا جاتا ہے۔

’انھوں نے بتایا کہ ’مجھے اپنے خاندان والوں کے سامنے شرم آتی ہے کہ میں اتنا غریب ہوں کہ انھیں اچھا کھانا بھی نہیں کھلا سکتا۔‘

Hashmatullah cooks up bread with onion and tomatoes for his sons
،تصویر کا کیپشنحشمت اللہ اور ان کے بیٹے باسی روٹی ٹماٹر اور پیاز کے ساتھ گذارہ کر رہے ہیں

وہ کہتے ہیں کہ ’میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر میں کوشش کروں اور پیسے ادھار مانگوں، تو کوئی مجھے قرض نہیں دے گا۔۔۔ میرے بیٹے واقعی کمزور ہو گئے ہیں کیونکہ وہ ٹھیک سے نہیں کھا پاتے۔‘

دوسری طرف کابل کی بیکریوں کے باہر شام کے اوائل میں خواتین اور لڑکیوں کے گروہ عطیہ کیے گئے مفت تازہ نان کے ٹکڑوں کے لیے قطار میں کھڑے عام نظر آتے ہیں۔

کچھ اپنے ساتھ سلائی کی چیزیں بھی لاتی ہیں، تاکہ وہاں کھڑے کھڑے سارا دن ضائع نہ ہو جائے اور وہ کچھ نہ کچھ ساتھ کرتی رہیں۔

جب افغانستان میں اربوں ڈالر آ بھی رہے تھے، تو اس وقت بھی بدعنوانی اور جنگ کے اثرات کی وجہ سے زندگی ایک جدوجہد ہی تھی۔

اب جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن زندگی کے لیے جدوجہد اب بھی جاری ہے بلکہ یہ مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔