’اگنی پتھ‘: انڈین فوج میں بھرتی کی نئی سکیم کے خلاف ہنگامہ جاری، 300 ٹرینیں متاثر، بلیا میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا میں ایک نئی سکیم کے تحت فوج میں سپاہیوں کی مخصوص مدت کے لیے بھرتیوں کے معاملے پر جاری مظاہروں میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
انڈیا کی فوج میں بھرتی سے متعلق 'اگنی پتھ سکیم' کی مخالفت میں ملک کے مختلف حصوں میں جاری احتجاج کی وجہ سے 300 سے زیادہ ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔
گذشتہ تین دنوں سے جاری احتجاجی مظاہروں میں کئی مقامات پر ریلوے سٹیشنوں اور ٹرینوں کو نقصان پہنچا ہے۔
انڈین ریسات تلنگانہ، بہار اور اتر پردیش میں مظاہرین نے کئی ٹرینوں کو آگ لگا دی ہے۔
اتر پردیش کے بلیا ضلع میں اگنی پتھ سکیم پر احتجاج کے بعد انتظامیہ نے اگلے دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق بہار کے 12 اضلاع میں انٹرنیٹ کی فراہمی بند کر دی گئی ہے جبکہ کم از کم ایک درجن ٹرینوں میں آگ لگا دی گئی ہے۔
بہار کے شمالی شہر بیتیا میں نائب وزیر اعلی اور بی جے پی رہنما رینو دیوی کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ انڈین میڈیا کے مطابق کم از کم دو جگہ بی جے پی کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔
بی بی سی سے بات چیت میں رینو دیوی نے کہا کہ بہار حکومت مشتعل مظاہرین کے بارے میں نرم رویہ اپنا رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ تشدد کرنے والے مظاہرین کے گھروں پر بھی بلڈوزر چلانا چاہیے۔
تین دنوں سے جاری مظاہروں میں ریاست تلنگانہ کے شہر سکندرآباد میں ایک شخص کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب پولیس کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کی گئی، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ شخص کی موت پولیس کی گولی لگنے سے ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر دفاع راج ناتھ کی جانب سے اگنی پتھ نامی سکیم کے اعلان کے بعد سے ملک کی کئی ریاستوں میں مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ مخصوص مدت کے لیے بھرتیوں کی اس اسکیم کے بعد نوجوانوں کے لیے فوج میں مستقل ملازمت اور پنشن جیسی مراعات کے دروازے بند ہو جائیں گے۔
جمعرات کو شمالی ریاست بہار میں مظاہرین نے ٹائر جلائے اور مرکزی شاہراوں کو بند کر دیا تھا۔ شہر کے کچھ علاقوں میں پولیس کو مظاہرین پر اس وقت آنسو گیس کے شیل پھینکنا پڑے جب مظاہرین نے پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلیا میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ
بی بی سی کے نامہ نگار دلنواز پاشا سے بات کرتے ہوئے بلیا کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سومیا اگروال نے دفعہ 144 لگائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
انتظامیہ نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ذریعے 12 ہدایات کی فہرست شیئر کی ہے جن پر اس مدت کے دوران عمل کیا جانا ہے۔
اس ہدایت کے مطابق: 'نماز جمعہ کے بعد مختلف مقامات پر پرتشدد واقعات، اگنی پتھ پلان کے خلاف احتجاج اور آنے والے تہواروں بقرعید اور محرم کے پیش نظر امن و امان کی خلاف ورزی کا خدشہ ہے۔ اس لیے 17 جون 2022 سے دو ماہ کی مدت کے لیے دفعہ 144 بلیا میں نافذ رہے گی۔
اس دوران عوامی مقامات پر پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہو گی، کوئی جلوس نہیں نکالا جائے گا اور نہ ہی کوئی دھرنا مظاہرے ہو گا۔ تاہم اس قاعدے کا اطلاق سماجی رسم و رواج اور نماز جمعہ پر نہیں ہوگا۔
خیال رہے کہ بلیا میں جمعہ کی صبح نوجوانوں نے اگنی پتھ سکیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پر کھڑی دو ٹرینوں میں توڑ پھوڑ کی تھی۔
ایسٹ سنٹرل ریلوے نے جمعہ کی شام ایک بلیٹن جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک 214 ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 78 ٹرینوں کو جزوی طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
بہار کے آرا ضلع میں ریلوے اسٹیشن کو جلانے کے بعد 3 لاکھ روپے کی لوٹ مار کا معاملہ سامنے آرہا ہے۔
اس کے علاوہ مظاہرین نے محی الدین نگر میں جموں توی ایکسپریس کو آگ لگا دی اور لکھی سرائے جنکشن پر کھڑی ٹرین کو بھی آگ لگا دی۔
دریں اثنا اتر پردیش میں، مظاہرین نے بلیا ضلع میں اسٹیشن پر کھڑی بلیا-سیالدہ ایکسپریس اور بلیا-لوکمانیہ ٹرمینس ایکسپریس میں توڑ پھوڑ کی۔
ٹرینوں اور بسوں میں توڑ پھوڑ کے واقعات کی خبریں ملک کے دوسرے مقامات سے بھی موصول ہو رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہANI
اگنی پتھ سکیم کیا ہے؟
اگنی پتھ یا آگ کا راستہ نامی پروگرام کی رونمائی جمعرات کو کی گئی تھی، اس کا مقصد انڈین فوج میں نوجوانوں کو قلیل مدت کے لیے بھرتی کرنا ہے۔
- اسکیم کے تحت 90 دنوں کے اندر تقریباً 40 ہزار نوجوانوں کا فوج میں تقرری کے لیے انتخاب کیا جائے گا۔
- انھیں 6 ماہ کی ٹریننگ دی جائے گی۔
- اس نوکری میں داخلے کی عمر 17.5 سال سے 21 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔
- نوجوانوں کے احتجاج کے بعد سکیم کے پہلے بیچ کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد میں دو سال کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
- تعلیمی قابلیت دسویں یا بارہویں پاس ہوگی۔
- اس سکیم کے تحت بھرتی چار سال کے لیے ہوگی۔
- پہلے سال کی تنخواہ 30 ہزار روپے ماہانہ، چوتھے سال 40 ہزار روپے ماہانہ ہوگی۔
- چار سال بعد سروس میں کارکردگی کی بنیاد پر جانچ پڑتال کی جائے گی اور 25 فیصد لوگوں کو ریگولر کیا جائے گا۔
جمعرات کو شروع ہونے والے مظاہرے اب بہار، تلنگانہ، اترپردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور مغربی بنگال تک پھیل گئے ہیں۔
بہار اور تلنگانہ میں مظاہرین نے بسوں اور ریل گاڑی کی بوگیوں کو آگ لگا دی اور مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا بےدریغ استعمال کر رہی ہے۔
مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ہمیں نوکریاں دو یا مار دو۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئی سکیم سے فوج میں نوجوانوں کی نمائندگی بھی بڑھے گی، لیکن نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ سکیم ایک دھوکہ ہے جس کا مقصد نوکریاں اور دیگر مواقع پیدا کرنا نہیں ہے۔
اس پروگرام پر کئی فوجی جرنیلوں اور دفاعی ماہرین نے بھی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے فوج کا ڈھانچہ کمزور ہو سکتا ہے اور قومی سلامتی پر سنجیدہ نوعیت کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب انڈیا کی اپنے دو ہمسایوں پاکستان اور چین کے ساتھ سرحدوں پر کشیدگی ہے۔
میجر جنرل شینونان سنگھ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک احمقانہ اقدام ہے، ایک ایسا کام جس سے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ پیسہ بچانا اچھی بات ہے لیکن یہ دفاعی افواج کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ جنگ پر جاتے ہیں ایک تجربہ کار سپاہی کے ساتھ تو کیا اس کی موت کی صورت میں چار سال کے تجربے کے ساتھ کوئی شخص آپ کی جگہ لینے کے قابل ہو گا، یہ چیزیں ایسے کام نہیں کرتیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا جس کی پاکستان کے ساتھ سرحد پر فوج کی بڑی تعداد موجود ہے اب اپنی ہمالیائی سرحد پر بھی چین کے ساتھ کشیدہ صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ انڈین فوج دنیا کی بڑی افواج میں سے ایک ہے۔ فوج کی تعداد 14 لاکھ ہے اور ہر سال لاکھوں افراد بھرتی کے لیے درخواست دیتے ہیں۔
انڈین فوج سے ہر سال 60 ہزار کے قریب لوگ ریٹائر ہوتے ہیں جن کی جگہ نئے لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں لیکن گذشتہ کچھ برس سے انڈیا میں بھرتیاں بند تھیں۔
حکام تو اس کی وجہ وبا کو قرار دیتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج وسائل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے اور اس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اگنی پتھ سکیم کے تحت 46 ہزار سپاہی بھرتی کیے جاییں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ سپاہی چھ ماہ کے لیے تربیت پر جائیں گے اور پھر ساڑھے تین سال تک انھیں تعینات کیا جائے گا۔ اس عرصے کے دوران ابتدا میں انھیں 30 ہزار روپے تنخواہ دی جائے گی، پھر اضافی سہولیات کے ساتھ یہ چار سالہ ملازمت کے اختتام تک 40 ہزار روپے سے اوپر تک پہنچ جائے گی۔
مزید پڑھیے
چار سال کے بعد کیا ہو گا؟
ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب چار سال گزر جائیں گے یعنی مطلوبہ میعاد ختم ہو جائے گی تو ان سپاہیوں کا مستقبل کیا ہو گا۔
20 سالہ ڈیبوجیت بورا جن کا تعلق شمال مشرقی ریاست آسام سے ہے کہتے ہیں کہ میں نے دو سال پہلے فوج میں شمولیت اختیار کی اور میں بہت محنت کر رہا ہوں لیکن اچانک اگنی پتھ سکیم کا اعلان کیا گیا ہے۔
`اب ہمیں صرف چار سال کام کرنے کا موقع ملے گا۔ تو اگر میں منتخب ہو بھی جاتا ہوں تب بھی میں نوکری سے ریٹائرڈ ہو جاؤں گا۔ میں اس کے بعد کیا کروں گا۔
جب ایک ملک مسلسل نوکریوں کے حوالے سے بحران کا سامنا کر رہا ہے ایسے میں خاص طور پر یہ خطرے کی بات ہے۔ اپریل میں انڈیا میں بے روزگاری کی شرح سات اعشاریہ آٹھ تین فیصد تک پہنچ گئی۔
انڈیا میں معاشی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک آزاد تھنک ٹینک سی ایم آئی ای کا کہنا ہے کہ وبا کے دوران لاکھوں انڈین اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وبا سے پہلے ہی انڈیا میں معیشت کی رفتار سست تھی۔
انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے سی یم آئی ای کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او مہیش ویاس نے کہا کہ اس صورتحال کے ساتھ ساتھ 15 سے 25 برس کے انڈین نوجوان طویل عرصے سے 20 فیصد بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں۔
حکومت نے ان تحفظات کو اگنی پتھ کے اعلان کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ بھرتیوں میں آسام رائفلز اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کو ترجیح دے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن فوجی ماہرین اسے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ انھیں فکر ہے کہ یہ اقدام نوجوانوں کو مایوسی کی زندگی میں دھکیل دے گا اور ان کے لیے نوکری کے مواقع کم ہوں گے۔
جنرل سنگھ کہتے ہیں کہ اب سوال یہ ہے کہ 21 سالہ نوجوان جس نے 10 جماعتیں پاس کیں یا 12ویں جماعت تک پڑھا اور وہ بے روزگار ہے تو وہ نوکری کہاں سے حاصل کرے گا؟
`اگر وہ پولیس میں بھرتی کے لیے جاتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ وہاں پہلے ہی بہت سے نئے گریجویٹ انتظار میں ہیں تو اس قطار میں اسے انتظار کے لیے کھڑا ہونا ہو گا۔
وہ کہتے ہیں کہ چار سال کے علاوہ بھی کسی نوجوان کے فوجی ڈسپلن میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے یہ بہت ہی کم وقت ہے۔
چار سال میں سے چھ ماہ تو تربیت میں ہی گزارے جائیں گے۔ پھر یہ سپاہی انفنٹری اور سگنلز کے شعبوں میں جائیں گے جہاں انھیں خصوصی تربیت دی جائے گی اور اس میں اور زیادہ وقت لگے گا۔ یہ ایسے نہیں ہے کہ وہ فضائیہ میں پائلٹ بن جائیں گے، وہ مکینک یا گراؤنڈ مین بن جائیں گے۔ تو پھر چار سال میں وہ کیا سیکھے گا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ قلیل مدتی کنٹریکٹ ہتھیاروں کی تربیت حاصل کرنے والے ہزاروں بے روزگا نوجوانوں کی صورت میں بھی ایک خطرہ ہو گا۔
دلی میں موجود ایک تھنک ٹینک سینٹر فار پالیسی ریسرچ سے منسلک سینئر فیلو سوشانت سنگھ نے رواں برس اپریل میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا واقعی آپ ایک ایسے معاشرے میں، جہاں تشدد کی سطح پہلے ہی بہت زیادہ ہو، ایسے لوگ چاہتے ہیں جو ہتھیار چلانے کی بہترین تربیت لیے ہوئے ہوں اور نوکری کی تلاش میں ہوں۔
سیاسی امور کے ماہر پرتاپ بھانو مہتا نے انڈین ایکسپریس میں اپنے کالم میں کہا کہ اس کے سماجی سطح پر بہت سے اثرات ہو سکتے ہیں اور اگر اس سے بہتر طور پر نہ نمٹا گیا تو ہم آگ سے کھیل رہے ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'فوج کی تجدید نو ‘
لیکن ہر کوئی اس سکیم پر تنقید نہیں کر رہا۔ ریٹائرڈ میجر جنرل ایس بی استھانہ کہتے ہیں کہ اس اقدام سے انڈین فوج کو فائدہ ہو گا۔ اس سے فوج کو جدید کرنے میں مدد ملے گی اور اسے مزید جوان ملیں گے جو ٹیکنالوجی سے روشناس ہوں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ عمر رسیدہ افراد کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دینا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن یہ نئی نسل زیادہ باصلاحیت ہے۔ یہ منصوبہ فوج کو یہ آزادی دے گا کہ وہ بھرتی کیے جانے والے سپاہیوں میں سے بہترین 25 فیصد سپاہیوں کو نکال لیں اور باقیوں کو جانے دیں۔
لیفٹینینٹ جنرل (ر) ڈی ایس ہدا کا کہنا ہے کہ فوج کے تنظیمی ڈھانچے میں فوری تبدیلی کی توقع کرنا غلط ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ `اگر آپ پہلے چار سال کو دیکھیں تو تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار سپاہی بھرتی کیے جائیں گے۔ اور اس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ یہ سکیم کیسے کام کرتی ہے۔ کس قسم کی بھرتیاں ہو رہی ہیں اور ان سپاہیوں کو یونٹس میں کیسے ضم کیا جا رہا ہے۔ پھر ہم اس کا جائزہ لیں گے۔‘
اس سے قبل بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پاناگ نے کہا تھا کہ `ایک بڑی فوج صلاحیت کے بجائے تعداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر انڈیا اپنے دفاعی بجٹ کو مزید نہیں بڑھا سکتا اور اس لیے فوج کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔‘
مگر مسٹر مہتا اس پر بحث کرتے ہیں کہ انسانوں سے ٹیکنالوجی پر انحصار اور نوجوان سپاہیوں کی پروفائل کو پینشن بِل کی کٹوتی کی توجیہہ کے بجائے مختلف انداز سے دیکھنے کی ضرورت ہو گی۔
انھوں نے لکھا کہ فوج کو اصلاحات اور مدد کی ضرورت ہے، لیکن یہ اصلاحات ایک مضبوط سماجی، پروفیشنل اور سٹریٹیجک سوچ کے ساتھ ہونی چاہیے۔
خاص طور پر جب آپ چاہتے ہیں کہ اصلاحات ہوں تو پھر شاید اندھا دھند تعریف کے بجائے ان کے اثرات کو بغور دیکھنا حب الوطنی کے عین مطابق ہے۔












