انڈین فوج میں 97000 خالی آسامیاں، پاکستان اور لداخ کی سرحد تک سنگین چیلنجز کے باوجود فوج میں بھرتیاں کیوں نہیں ہو رہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اننت کمار
- عہدہ, بی بی سی ہندی، نئی دہلی
درالحکومت دہلی سے منسلک انڈین ریاست ہریانہ کے بھیوانی ضلع میں ایک 23 سالہ نوجوان پون نے 26 اپریل کو انڈین فوج میں ملازمت نہ ملنے پر خودکشی کر لی۔
معاملے کی تفتیش کرنے والے اے ایس آئی وریندر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پون نے اسی سکول کے میدان میں ایک درخت سے لٹک کر خودکشی کی جہاں وہ فوج میں بھرتی ہونے کے لیے دوڑ لگایا کرتے تھے۔۔
وریندر سنگھ نے بتایا: ’تالو گاؤں کے رہائشی پون پچھلے کئی سالوں سے فوج میں بھرتی ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ انھوں نے میڈیکل سے لے کر فٹنس تک کی تمام رکاوٹوں کو عبور کر لیا تھا۔ لیکن کووڈ کی وجہ سے نئی بھرتیاں نہیں ہوئیں۔ اس دوران ان کی عمر فوج میں بھرتی کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد سے زیادہ ہو گئی جس کی وجہ سے انھوں نے خودکشی کر لی۔‘
'جہاں سے پون کی لاش برآمد ہوئی، زمین پر ایک نوٹ ملا جس میں لکھا تھا کہ 'پاپا جی، اس جنم میں فوجی نہیں بن سکا۔ اگر میں اپنا اگلا جنم لوں گا تو پھر یقینی طور پر فوجی بنوں گا۔'
اس خودکشی کی خبر کے سامنے آنے کے بعد عام آدمی پارٹی سے لے کر کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مرکزی حکومت پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔
لیکن اپوزیشن لیڈروں کی تنقید کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان ورون گاندھی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ جس گراؤنڈ میں، میں نے قوم کی خدمت کا عزم لیا تھا، وہاں آخری الفاظ لکھے تھے 'باپو اس جنم میں نہیں بن سکا، اگلا جنم لیا تو فوجی ضرور بنوں گا'۔
'عمر کی حد گزر جانے کے باعث ڈپریشن ان نوجوانوں کو اندر سے توڑ رہا ہے، حکومت ان محنت کش نوجوانوں کی فریاد کب سنے گی؟'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
دوسری جانب کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان رندیپ سرجے والا نے اس معاملے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے لکھا ہے کہ 'کاش مودی جی بے روزگاری کی بے بسی کو جان سکتے! مارچ 2020 سے فوج میں بھرتی بند ہے! پہلے ہر سال 80,000 بھرتیاں ہوتی تھیں، اب سب بند ہو گئی ہیں۔ فوج میں 1,22,555 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ کیا سن سکیں گے اس نوجوان کی آخری درخواست!'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
لیکن یہ پہلی بار نہیں ہے کہ فوج میں بھرتیوں کے ملتوی ہونے کی وجہ سے حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
فوج میں بھرتی کے متعلق احتجاج
اس خبر کے آنے سے تقریباً تین ہفتے قبل یعنی پانچ اپریل کو سینکڑوں نوجوانوں نے دہلی کے جنتر منتر پر فوج میں بھرتیاں کھولنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔
اس دوران نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے مظاہرین میں سے ایک نے کہا کہ پچھلے دو سالوں سے کوئی بھرتی نہیں ہوئی ہے۔
اسی احتجاج میں حصہ لینے والے ایک اور شخص سندیپ فوجی نے کہا کہ 'ہم یہاں بھرتی ریلیاں کھولنے کا مطالبہ کرنے آئے ہیں اور عمر میں دو سال کی نرمی بھی چاہتے ہیں۔ جو نوجوان فوج میں شامل ہونا چاہتے تھے وہ مختلف مقامات پر جمع ہوئے ہیں، فٹنس ٹیسٹ دیا لیکن تحریری امتحان ملتوی ہوتا رہا۔'

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES
واضح رہے کہ انڈین فوج میں ابتدائی سطح کی بھرتیوں کے لیے ملک بھر میں مختلف مقامات پر ریلیاں یعنی دوڑ کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔
ان ریلیوں میں زیادہ تر دیہی پس منظر سے آنے والے نوجوان حصہ لیتے ہیں۔
ہریانہ، راجستھان، اتر پردیش، بہار اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں کے دیہی علاقوں میں نوجوانوں کا ایک طبقہ فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ طویل تیاری کرتا ہے۔
ایسے میں بھرتی بند ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں رہنے والے نوجوان احتجاج میں حصہ لیتے نظر آئے۔
پارلیمان کے ایوان بالا میں سوالات
اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بھی سوالات پوچھے گئے ہیں۔ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 21 مارچ کو راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ بھرتی کا عمل کورونا کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
مرکزی وزیر دفاع (ریاستی چارج) اجے بھٹ نے راجیہ سبھا میں کووڈ کی مدت کے دوران بھرتیوں سے متعلق معلومات دی ہیں۔
انھوں نے 21 مارچ 2022 کو بتایا کہ سنہ 2020-21 میں 97 بھرتی ریلیاں ہونی تھیں جن میں سے صرف 47 بھرتی ریلیاں ہی ہو سکیں۔ اور 47 بھرتی ریلیوں میں سے صرف چار ریلیوں کے لیے مشترکہ امتحان لیا جا سکا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
اس کے ساتھ ساتھ سنہ 2021-22 میں 87 ریلیاں منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جن میں سے صرف چار ریلیاں ہی منعقد کی جا سکیں۔ اور ان میں سے کسی بھی دوڑ کے کامیاب امیدواروں کا امتحان نہیں لیا جا سکا۔
پہلے دو سالوں کے اعداد و شمار دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ سنہ 2018-19 میں 53,431 اور 2019-20 میں 80,572 فوجی بھرتی کیے گئے ہیں۔
اس طرح سے 2018 سے 2022 تک گذشتہ چار سالوں میں مرکزی حکومت کی طرف سے فوج میں کل 1,34,003 بھرتیاں کی گئی ہیں۔
انڈین فوج میں اب بھی 97 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں۔ اور 2022-23 کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES
انڈین فوج میں 97 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں
انڈین فوج میں اسامیوں کی کل تعداد 1229559 ہے جس میں سے 97,177 آسامیاں ابھی خالی پڑی ہیں۔ اور یہ اس دور کے اعداد و شمار ہیں جب انڈین فوج کو اروناچل پردیش سے لے کر پاکستان اور لداخ کی سرحد تک سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزارت دفاع نے ان آسامیوں کو جلد سے جلد پر کرنے کے لیے گذشتہ چند سالوں میں کتنی بھرتیاں کی ہیں۔
وزارت دفاع کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد، بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ انڈین فوج ہر سال مختلف مراکز میں بھرتی ریلیاں نکال کر فوجیوں کو بھرتی کرتی ہے۔
پچھلے سات سالوں میں کتنی آسامیاں پر ہوئیں؟
وزارت دفاع سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے گذشتہ سات سالوں میں سالانہ اوسطاً 60 ہزار فوجی بھرتی کیے۔
ایسی صورت حال میں 2013-14 میں 54186 فوجی، 2014-15 میں 31911، 2015-16 میں 67954، 2016-17 میں 71804، 2017-18 میں 52447 اور 2017-18 میں 56201 اہلکار بھرتی کیے گئے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب انڈین فوج میں جوانوں کی سطح پر اتنی زیادہ آسامیاں خالی ہیں تو کیا حکومت کئی سالوں سے تیاری کرنے والے نوجوانوں کو اضافی موقع دینے پر غور کر رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES
کیا حکومت ایک اور موقع دے گی؟
اجے بھٹ نے اس سوال کے جواب میں کہا ہے کہ انڈین فوج اور فضائیہ نے ایسی کسی تجویز پر غور نہیں کیا ہے۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ بحریہ میں ملازمت کے خواہشمند افراد کو چھ ماہ کا اضافی وقت دیا گیا ہے۔
اس سے قبل بی بی سی کے نمائندے سوتک بسواس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ انڈیا اپنی فوج پر امریکہ اور چین کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ خرچ کرنے والا ملک ہے اور دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کرنے والا ملک ہے۔ (نریندر مودی کی حکومت اب ملکی دفاعی ساز و سامان کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے) انڈیا کے پاس جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کا بھی وافر ذخیرہ ہے۔
محکمہ دفاع کے ذرائع کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت ایک مقررہ مدت کے لیے فوجیوں کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے، جسے 'ڈیوٹی کا تین سالہ ٹور' بھی کہا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوج کا سائز کم کرنے کی بات
نریندر مودی بذات خود فوج میں اصلاحات کے حامی ہیں۔ ماضی میں انھوں نے ایسی 'فورسز کی ضرورت کے بارے میں بات کی ہے جو چست، موبائل اور ٹیکنالوجی سے لیس ہو، نہ کہ صرف انسانی بہادری پر منحصر ہو۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انڈیا کو 'تیزی کے ساتھ جنگیں جیتنے والی صلاحیتوں کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے پاس زیادہ دیر تک جاری رہنے والی لڑائیوں کی آسائش نہیں ہے۔‘
فوج کا سائز کم کرنے کی سب سے زیادہ حوصلہ افزا وکالت ایک انتہائی معزز ریٹائرڈ افسر کی طرف سے آتی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے ایک حالیہ تبصرے میں کہا کہ فوج میں ایک لاکھ سے زیادہ اہلکاروں کی موجودہ کمی اصلاحات لانے کا ایک اچھا موقع ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل پناگ کا کہنا ہے کہ '21ویں صدی کی افواج کو جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی سے لیس، چست اور فوری رد عمل دینے والی مسلح افواج کی ضرورت ہے۔ بطور خاص برصغیر کے تناظر میں اس کی زیادہ ضرورت ہے جہاں جوہری ہتھیار بڑے پیمانے پر روایتی جنگوں سے باز رکھتے ہیں۔'
وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کے پاس 'بڑی فوج ہے جہاں ہم معیار کی تلافی کے لیے مقدار کے استعمال پر مجبور ہیں۔ ایک ترقی پذیر معیشت کے طور پر انڈیا کے دفاعی اخراجات میں 'تیزی سے اضافہ نہیں ہو سکتا' اور اس لیے اسے فوجی اہلکاروں کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔














