سیاچن: کیا انڈیا اور پاکستان دنیا کے بلند ترین محاذ کو افواج کی موجودگی سے پاک کر سکتے ہیں؟

سیاچن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عماد خالق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

انڈین فوج کے سربراہ جنرل منوج مکندا نراونے کی جانب سے اس حالیہ بیان کے بعد کہ انڈیا دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ سمجھے جانے والے سیاچن گلیشیئر سے فوج ہٹانے کے خلاف نہیں ہے، ایک بار پھر یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا سیاچن گلیشیئر کا علاقہ غیر عسکری (افواج کی موجودگی سے پاک علاقہ) بن سکتا ہے یا نہیں۔

جنرل منوج نراونے نے گذشتہ روز (12 جنوری) کو سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا سیاچن گلیشیئر سے فوج ہٹانے کے خلاف نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سیاچن گلیشیئر کو غیر عسکری بنانے کے مخالف نہیں ہیں، لیکن اس کے لیے پیشگی شرط یہ ہے کہ پاکستان کو ایکچوئل گراؤنڈ پوزیشن لائن (اے جی پی ایل) کو قبول کرنا ہو گا۔‘

سیاچن
،تصویر کا کیپشنسیاچن کا موجودہ نقشہ

ایکچوئل گراؤنڈ پوزیشن لائن کیا ہے؟

ایکچوئل گراؤنڈ پوزیشن لائن (اے جی پی ایل) وہ لکیر ہے جو سیاچن گلیشیئر پر پاکستانی اور انڈین افواج کی موجودہ پوزیشنز کی نشاندہی کرتی ہے۔ 110 کلومیٹر طویل اس لائن کا آغاز پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے شمال میں آخری پوائنٹ سے ہوتا ہے۔

جنرل نراونے نے کہا ’یہ حقیقی زمینی پوزیشن کی لکیر ہے۔ پاکستان کو تسلیم کرنا ہو گا کہ اُن کی پوزیشن کیا ہے اور ہماری پوزیشن کیا ہے۔ اور ہمیں کسی بھی قسم کی ڈس انگیجمنٹ سے پہلے اس پر متفق ہونا ہو گا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ صورتحال ویسی ہی ہے جس کا سامنا انڈیا کو مشرقی لداخ میں بھی ہے۔ ’پہلے آپ کو ڈس انگیج ہونا ہو گا اس کے بعد ہی ڈی ایسکلیٹ ہونے کی بات ہو سکتی ہے جو کہ علاقے کو غیر عسکری بنانے کا دوسرا نام ہے۔ اے جی پی ایل کو تسلیم کرنا اس عمل میں پہلا قدم ہے اور یہ وہ کام ہے جسے پاکستان ناپسند کرتا ہے۔‘

پاکستانی حکومت یا فوج کی جانب سے تاحال انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

سیاچن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور انڈیا کا اے جی پی ایل پر تنازع کیا ہے؟

دنیا میں سب سے اونچا میدانِ جنگ کہا جانے والا سیاچن گلیشیئر سنہ 1984 سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے۔

انڈیا کے آرمی چیف جنرل نراونے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’لائن آف کنٹرول کو این جے 9842 نامی مقام تک واضح کیا گیا تھا اور پاکستان نے اس مقام سے آگے قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں انھیں اقدامات اٹھانے پڑے۔‘

جبکہ پاکستان کی فوج کے سابق میجر جنرل اور دفاعی تجزیہ کار اعجاز اعوان نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ 1971 کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول کے شمال میں آخری پوائنٹ این جے 9847 سے آگے کے علاقے میں زمینی طور پر سرحد کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی، لیکن اصولی طور پر نقشے میں اس پر اتفاق تھا اور اس سے آگے کے علاقے کے بارے میں یہی مانا جا رہا تھا کہ یہاں کوئی قبضہ نہیں کرے گا۔

اُن کے مطابق سنہ 1982 کے اواخر میں انڈیا نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس وقت ان علاقوں پر قبضہ کر لیا جب پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں سویت حملے کے خلاف مصروف عمل تھا۔

سیاچن

،تصویر کا ذریعہPRASHANT PANJAR

،تصویر کا کیپشنسیاچن گلیشیئر کو دنیا کا بلند ترین محاذ کہا جاتا ہے اور انڈیا اور پاکستان یہاں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے کثیر رقم خرچ کرتے ہیں

میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کا دعویٰ ہے کہ کہ انڈیا نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور آ کر وہاں بلند چوٹیوں پر بیٹھ گیا اور تب سے وہ اسے خالی نہیں کر رہا ہے۔ ان کے مطابق انڈیا سیاچن کے علاقے میں شمال مغرب کی جانب آنا چاہتا تھا اور پاکستان شمال مشرق کی چوٹیوں کی جانب بڑھنا چاہتا ہے۔

جب دونوں ممالک ایک دوسرے پر سیاچن کے علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کے الزامات عائد کرتے ہیں تو کیا اس صورتحال میں سیاچن سے دونوں ممالک کی فوج کا انخلا کے کتنے امکانات ہو سکتے ہیں۔

سیاچن سے دونوں ممالک کی فوجوں کا انخلا ممکن ہے؟

اس سوال کے جواب میں میجر جنرل (ریٹائرڈ) اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا اس کو متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے سنہ 1982 کی پوزیشن پر واپس چلا جائے تو پھر اس پر بات ہو سکتی ہے۔

میجر جنرل اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ لیکن موجودہ صورتحال میں انڈیا کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد اب اس تنازع میں صرف پاکستان اور انڈیا ہی فریق نہیں ہیں بلکہ چین بھی بطور تیسرا فریق شامل ہے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے کہا کہ انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر کو اپنا ’اٹوٹ انگ‘ قرار دینے کے بعد چین کے ساتھ اپنی متنازع سرحد جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول قرار دیا جاتا تھا اسے بین الاقوامی سرحد قرار دے دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس لیے اس تمام خطے کی زمینی سطح پر نشاندہی اور تینوں ممالک کا اس کو تسلیم کرنا ضروری ہے، اس صورتحال میں اب یہ سیاچن سے فوجوں کا انخلا ایک پیچیدہ عمل بن گیا ہے۔ تاہم ان (انڈین آرمی چیف) کا بیان خوش آئند ہے۔‘

سیاچن
،تصویر کا کیپشنانڈیا کی سیاچن پر وہ چوکی جو گذشتہ سال برفانی طوفان سے تباہ ہو گئی تھی، اس حادثے کے نتیجے میں نو فوجی ہلاک ہوئے تھے

انھوں نے کہا کہ انڈیا کی فوج کے سربراہ کی جانب سے یہ بیان بظاہر بڑا خوش آئند ہے کیونکہ پاکستان گذشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے اس بات پر زور ڈالتا رہا ہے کہ سیاچن کے گلیشیئر سے فوجوں کا انخلا کیا جائے۔

سیکورٹی امور کے ماہر اور تجزیہ کار عامر رانا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈین فوج کے سربراہ کی جانب سے یہ بیان بہت خوش آئند ہیں لیکن سیاچن سے دونوں ممالک کی فوج کے انخلا کے امکانات ابھی قبل از وقت ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا بہت عرصے سے یہ ہی موقف رہا ہے لیکن جن شرائط کی انڈیا کی جانب سے بات کی گئی ہے وہ اس عمل میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

انڈیا کی جانب سے واضح شرائط سامنے آنے کے بعد ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سیاچن سے انخلا پاکستان کو قابل قبول نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ انخلا ممکن ہے مگر اس کے لیے انڈیا کو اعتماد کی فضا قائم کرنا ہو گی۔

انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ انخلا اب مشکل ہے کیونکہ انڈیا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، انڈیا نے ماضی میں بھی ان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور آج جب وہ چین کے ہاتھوں مشکل میں ہے۔‘

میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ صرف اس صورت میں قابل قبول ہو سکتا ہے اگر انڈیا سنہ 1982 کی اپنی پوزیشن پر واپس چلا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'میرے خیال میں پاکستان کو انڈیا کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتفاق رائے یا مفاہمت سے پہلے چین کو اعتماد میں لینا پڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سیاچن سے فوج کا انخلا ممکن ہے لیکن اگر تین ممالک یعنی انڈیا، پاکستان اور چین سامنے آنے والی شرائط پر متفق ہوں۔ اور یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ شرائط کیا ہوں گی۔ ان شرائط اور اصولوں کا دو ٹوک ہو کر سامنے آنا ضروری ہے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاچن دنیا کا بلند ترین میدان جنگ ہے اور وہاں فوج کو رکھنا دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ مشکل اور مہنگا ہے۔

’سردیوں میں جہاں درجہ حرارت منفی 50 تک گر جائے وہاں سے دونوں ممالک کی فوج نکالنے سے بہتر کوئی اور رائے نہیں ہو سکتی۔‘

انڈیا کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جنوبی ایشیائی امور کے ماہر پروفیسر سنجے بھاردواج کہتے ہیں کہ وہ انڈین آرمی چیف کی مشروط تجویز پر کچھ زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔

پروفیسر سنجے نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ یہ انڈیا کی فوج کی حکمت عملی کا حصہ ہو کہ ہم دنیا کو اور پاکستان کو اشارہ دیں کہ اگر آپ کشیدگی کم کر سکتے ہیں تو ہم بھی وہاں کشیدگی کم کرنے میں خوش ہوں گے۔'

ان کا کہنا ہے کہ بہت کچھ اس بات پر منحصر کرے گا کہ اس معاملے پر پاکستان کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتا ہے لیکن ’پاکستان اپنے سیاسی اور فوجی انداز میں بہت غیر متوقع رہا ہے۔ سیاسی طبقہ، حکمران اشرافیہ اور فوج کا برتاؤ عموماً مختلف ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ آپ نے کارگل کے معاملے میں دیکھا ہے، پٹھان کوٹ اور پلوامہ میں بھی دیکھا ہے۔‘

پروفیسر سنجے کے مطابق ان مسائل کو حل کرنا کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ’یہ اتنا آسان نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ شمالی خطے کے امن میں متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ ایک طرف چین بہت متحرک اور جارحانہ ہے، جیسا کہ ہم نے گلوان وغیرہ میں دیکھا، دوسری طرف افغانستان اور پاکستان اور اس خطے میں انتہا پسند قوتوں کا عروج ہے۔ تیسرا یہ کہ ہم نے آرٹیکل 370 کو بھی واپس لے لیا ہے اس لیے کچھ اندرونی گروپ بھی متحرک ہیں۔ پاکستان پہلے ہی مشکل میں ہے اور اب انھیں ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کے ساتھ مسائل درپیش ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستان اپنی سیاست کو جمہوری نہیں بناتا اور پاکستان ’ڈیپ سٹیٹ‘ اور مذہبی قوتوں کے اثر و رسوخ کو کم نہیں کرتا تب تک اہم مسائل کے حل کی امید نہیں ہے۔‘

سیاچن

،تصویر کا ذریعہPrashant Panjiar

،تصویر کا کیپشنانڈین فوجی اپنی چوکیوں کی جانب مارچ کرتے ہوئے

سیاچن سے فوج کے انخلا کا فائدہ کس کو ہو گا؟

میجر جنرل (ریٹائرڈ) اعجاز اعوان کے مطابق اس وقت انڈیا کی جانب سے یہ بیان سامنے آنے کا مطلب ہے کہ ’انڈیا اپنے مفاد میں سوچ رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ چین اور انڈیا کے درمیان وادی گلوان کے تنازعے کے بعد انڈیا یہاں سے اپنے تقریباً تین ہزار فوجی نکال کر نہ صرف معاشی اعتبار سے بچت کرنا چاہتا ہے بلکہ ان کو گلوان سرحد پر تعینات کر کے اپنے موجودگی میں اضافہ کرنے کا سوچ رہا ہے۔‘

ان کے مطابق 'گلوان وادی میں چین کے ساتھ سرحدی تنازعے کے بعد انڈیا وہاں اپنی موجودگی بڑھانا چاہتا ہے کیونکہ اس کو خطرہ یہ ہے کہ اگر مستقبل میں چین نے کوئی موومنٹ کی تو اس کا بوجھ شمال میں انڈین فوج پر پڑے گا۔ تب انڈیا کے لیے ایسا ہی مشکل ہو گا جیسے ہاتھی کو پہاڑ پر چڑھانا۔‘

دفاعی تجزیہ کار لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا آج سیاچن کو غیر عسکری کرنے کی بات اپنے فائدے کے لیے کر رہا ہے کیونکہ لداخ میں وہ چین کے سامنے پھنس گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ لداخ بھی سیاچن جیسا سرد اور بلند محاذ ہے اس لیے انڈیا کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ چین کے سامنے اسے کھڑا رہنا پڑے گا اور دوسرا اس کا خرچہ بھی بچے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا اپنی شرائط پر دنیا کے سخت ترین محاذ سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ انڈیا اس وقت پھنسا ہوا ہے تو پاکستان ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انڈیا کو پیچھے دھکیلنے پر آمادہ کر کے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عامر رانا کے مطابق موجودہ صورتحال میں اس سے انڈیا اور پاکستان کو فائدہ پہچنے کے ساتھ ساتھ چین کو بھی معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ جہاں ایک جانب انڈیا اور پاکستان کو اپنی فوجیوں کو وہاں سے بلانے سے معاشی فائدہ ہو گا وہی انڈیا اور پاکستان میں تناؤ میں کمی سے چین کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت فائدہ ملے گا۔

تاہم لداخ میں انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی کے بعد چین ایک اہم کردار بن گیا ہے اور پاکستان یقیناً اس بارے میں چین کو اعتماد میں لے گا۔

'چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی کامیابی کی راہ میں پاک انڈیا امن اور افغانستان کی صورتحال کا بہت عمل دخل ہے۔'

سیاچن
،تصویر کا کیپشنگیاری سیکٹر کا وہ مقام جہاں پاکستانی فوج کے 140 جوان برفانی تودے تلے دبنے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے

سیاچن دنیا کا بلند ترین عسکری محاذ

قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں تقریباً 20 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع سیاچن کا محاذ دنیا کا ایک انوکھا جنگی محاذ تصور کیا جاتا ہے۔

یہاں 35 برس سے زیادہ عرصے سے پاکستان اور انڈیا کی افواج مدِمقابل ہیں اور اس عرصے میں تقریباً تین سے پانچ ہزار فوجی اور کروڑوں ڈالرز گنوانے کے باوجود دونوں ممالک کے عسکری حکام اس محاذ سے واپسی پر قائل نہیں ہو سکے ہیں۔

انڈین حکومت نے سنہ 2018 میں پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ سنہ 1984 سے اس نے اس بلند محاذ پر تعینات فوجیوں کے لیے لباس اور کوہ پیمائی کے آلات کی خریداری کے لیے 7,500 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان سنہ 1999 میں کارگل کے واقعے کے بعد سیاچن پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے لیکن سنہ 2003 تک پاکستان کے نئے سربراہ، فوجی جنرل پرویز مشرف اور انڈیا کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اعتماد کی فضا بحال کرنے میں مثبت پیشرفت کی اور اسی سال کے آخر میں ایل او سی کے ساتھ ساتھ سیاچن کے محاذ پر بھی جنگ بندی کا معاہدہ طے کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

لیکن فوجوں کی واپسی اور سرحدوں کی حد بندی کا معاملہ حل نہ ہو سکا۔

سیاچن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگیاری کے حادثے کے بعد پاکستان آرمی کے اس وقت کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سیاچن سے فوجوں کی واپسی کی تجویز دی تھی

اپریل 2012 میں گیاری کے مقام پر پاکستانی فوج کے ایک بٹالین ہیڈ کوارٹر کے برفانی تودے تلے دبنے کے نتیجے میں 140 جوان ہلاک ہوئے تو پاکستانی فوج کے اس وقت کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فوجوں کی واپسی اور سیاچن کا محاذ ختم کرنے کی تجویز دی جس کے بعد اُسی سال دونوں ملکوں نے مشترکہ اجلاس منعقد کیا لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔

ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے سیاچن پر بندوقیں استعمال نہ ہونے کے باوجود دونوں فریقین اپنے بنیادی موقف پر کسی قسم کی بھی لچک دکھانے سے قاصر ہیں۔

انڈیا اس بات پر مصر ہے کہ اس محاذ پر اس کی عسکری برتری اور ان کی حقیقی زمینی پوزیشن (اے جی پی ایل) کو قانونی حیثیت دی جائے اور اسے بلاچوں چرا تسلیم کیا جائے۔

دوسری جانب پاکستان کا نقطہ نظر ہے کہ شملہ معاہدے کی پاسداری کی جائے اور اس کے تحت فوجوں کی پوزیشن متعین کی جائے۔